انڈونیشیا کے سیاحتی مقام پر زلزلہ، 13 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈونیشیا میں سیاحوں میں مقبول مقام ایک طاقتور زلزلے کی زد میں آیا ہے جس کی وجہ سے کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مرکزی انڈونیشیائی جزیرے لومبوک میں اس زلزلہ کی شدت 6.4 بتائی گئی ہے جو کہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے آیا۔

لومبوک انڈونیشیا کے معروف جزیرے بالی سے 40 کلو میٹر دور مشرق میں واقع ہے جہاں لوگ خوبصورت ساحل سمندر اور ہائیکنگ کے لیے دنیا بھر سے آتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے میں بہت سے مکانات کو نقصان پہنچا اور ملبے کے گرنے سے درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈونیشیا میں 6.4 شدت کا زلزلہ، 24 افراد ہلاک

انڈونیشیا میں زلزلے سے تباہی

ملائیشیا کے ایک سیاح کی اس میں موت ہو گئی ہے۔ وہ رنجانی پہاڑ کی جانب ہائیکنگ کے لیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی جیولوجیکل سروے نے بتایا ہے کہ اس زلزلے کا مرکز ماتارام شہر کے شمال مشرق سے 50 کلومیٹر دور شمالی لومبوک میں تھا۔

اس کے بعد زلزلے کے تقریباً 60 چھوٹے چھوٹے جھٹکے محسوس کیے گئے جس میں سب سے زیادہ شدت کا جھٹکا 7۔5 شدت کا بتایا گیا ہے۔

انڈونیشیا میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ایجنسی کے ترجمان سُتوپو پوروو نگروہو نے ایک بیان میں کہا ہے: 'تقریباً 40 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ابھی ہم نے اعداد و شمار اکٹھا کرنا شروع نہیں کیا ہے۔'

انھوں نے مزید کہا: ابھی ساری توجہ لوگوں کو بچانے اور باہر نکالنے میں ہے۔ بعض زخمیوں کا ہسپتالوں میں علاج جاری ہے۔'

انھوں نے منہدم عمارتوں اور ملبے سے بھری گلیوں کی تصاویر پوسٹ کیں۔

وزارت خارجہ میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے کے ڈائریکٹر لالو محمد اقبال نے بی بی سی کو بتایا: زلزلہ بہت تیز محسوس ہوا۔ سیاح گھبرا گئے اور ڈر سے ہوٹلوں سے باہر نکل کر بھاگے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایک عینی شاہد نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا: 'بہت شدید زلزلے تھا ۔۔۔ گھر کے سارے افراد گھبرا گئے اور ہم سب لوگ باہر کی جانب بھاگے۔۔۔ ہمارے پڑوسی بھی بھاگے اور چند منٹ میں پورے شہر کی بجلی منقطع کر دی گئی۔'

ٹریکرز کے لیے مقبول جگہ ماؤنٹ رنجانی نیشنل پارک کو مٹی کے تودے گرنے کے سبب بند کر دیا گيا ہے۔

کوہ پیماں خیر العزیز نے کہا کہ زلزلے کی وجہ سے وہ اور ٹریکروں کا ایک گروپ پہاڑوں میں پھنس گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

انھو نے نیو سٹریٹ ٹائمز کو بتایا: ہم یہاں سے نہیں نکل پا رہے ہیں کیونکہ بہت سے راستے مسدود ہو گئے ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا: 'یہاں حالات افرا تفری کا ہے اور ہم لوگ دوسری ملیشیائی کوہ پیماؤں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

انڈونیشیا میں زلزلے کا زیادہ خطرہ رہتا ہے کیونکہ یہ ملک 'رنگ آف فائر' یعنی مسلسل زلزلے اور آتش فشاں کے دھماکوں کے علاقے میں آباد ہے۔ اس قطار میں پیسفک سمندر کا تقریبا مکمل حصہ شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دنیا کے نصف سے زیادہ زمین کے باہر فعال آتش فشاں اسی رنگ آف فائر کا حصہ ہیں۔

سنہ 2016 میں، سماترا جزیرے کے شمال مشرقی ساحل پر 6.5 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک اور 40،000 سے زائد افراد بے گھر ہو گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں