امریکہ کا آئی ایم ایف کو انتباہ، 'پاکستان بیل آؤٹ کا کوئی جواز نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان اپنے کرنسی کے بحران سے نکلنے کی جدوجہد میں ہے جو کہ نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے اور آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ کے علاوہ کوئی اور آپشن مشکل نظر آتا ہے

امریکی وزیر خارجہ مائک پومپيو نے پیر کو بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی نئی حکومت کو بیل آؤٹ دینے کے سلسلے میں متبنہ کیا ہے۔

انھوں نے سی این بی سی ٹیلی ویژن کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ آئی ایم ایف کو چینی قرض ادا کرنے کے لیے پاکستان کی نئی حکومت کو فنڈ نہیں دینا چاہیے۔

انھوں نے کہا امریکہ پاکستان کے متوقع نئے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بات چیت کرنے کا خواہشمند ہے لیکن چینی قرض ادا کرنے کے لیے پاکستان کو بیل آؤٹ دینے کا کوئی 'جواز' نہیں۔

پومپیؤ نے کہا: 'کوئی غلطی نہ کریں۔ ہم لوگ آئی ایم ایف پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ وہ کیا کرتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں ڈالر ’تاریخ کی بلند ترین سطح پر‘ پہنچ گیا

'آئی ایم ایف کے ٹیکس کے ڈالر اور اس کے ساتھ منسک امریکی ڈالر کو، جو کہ اس کا حصہ ہیں، چین کے قرض دہندوں یا خود چین کو دیے جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔'

اتوار کو فائنینشیئل ٹائمز نے خبر دی تھی کہ پاکستان کے سینیئر مالی اہلکار عمران خان کے لیے 12 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ جیسے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔

ایکسچينج تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption حالیہ دنوں میں پاکستان کے روپے کی قیمت میں ڈالر کے مقابلے ریکارڈ گراوٹ آئی ہے

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آئی ایم ایف کی ایک ترجمان نے کہا: 'ہم بس اتنی تصدیق کر سکتے ہیں کہ ابھی تک ہمارے پاس پاکستان سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے اور ہماری کسی بھی اہلکار سے کسی ممکنہ ارادے کے بارے میں بات چيت بھی نہیں ہوئی ہے۔'

پاکستان اپنے کرنسی کے بحران سے نکلنے کی جدوجہد میں ہے جو کہ نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں اور تاجروں کا خیال ہے کہ پانچ سال کے اندر پاکستان کو دوسری بار بیل آؤٹ کی ضرورت ہوگی تاکہ بیرونی مالی خلیج پر پلگ لگایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

مارکیٹ میں سستے ڈالر کا فائدہ کس کو ہوا؟

اقتصادی راہداری کو افغانستان تک لے جانے کی خواہش

پاکستان پہلے سے ہی اپنے اہم بنیادی ڈھانچوں کے پراجیکٹ کے سبب چین سے پانچ ارب ڈالر کا قرض لے چکا ہے اور اس نے بیرونی زرِمبادلہ کے ذخائر کو اعتدال پر لانے کے لیے مزید ایک ارب ڈالر قرض کی خواہش ظاہر کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان پہلے سے ہی اپنے اہم بنیادی ڈھانچوں کے پراجیکٹ کے سبب چین سے پانچ ارب ڈالر کا قرض لے چکا ہے

امریکی وزیر خزانہ سٹیون منوچن کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں نے ترقی پذیر ملکوں کو انفراسٹرکچر کے لیے دیے جانے والے قرضوں کو تنقید کانشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ ناقابل عمل قرض کے بوجھ تلے دب جائيں گے۔

57 ارب ڈالر کے پاک-چین راہداری منصوبے کے لیے بڑے پیمانے پر چینی مشینیں اور سامان درآمد کیے گئے ہیں جس سے پاکستان کے مالی خسارے میں اضافہ ہوا ہے۔ اس منصوبے میں چین کے 'ون بیلٹ ون روڈ' کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مہمیز دینا بھی شامل ہے۔

پاکستان میں سنہ 1980 سے آئی ایم ایف کے 14 مالی پروگرام چل چکے ہیں جن میں سنہ 2013 میں تین سال کے لیے لیا جانے والا 6.7 ارب ڈالر کا قرض بھی شامل ہے۔

زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی

حالیہ مہینوں میں پاکستان کا زرِ مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پاکستان کی درآمدات مہنگی ہوتی جا رہی ہیں جب کہ برآمدات نیچے آ رہی ہیں۔

سٹیٹ بینک کی جانب سے گذشتہ ہفتے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس صرف 20 ارب ڈالر کے زرِ مبادلہ کے ذخائر رہ گئے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے پاس دو ماہ کی برآمدات کے پیسے نہیں رہے۔

اس کے علاوہ پاکستانی روپے کی قدر میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ پچھلے ایک سال میں ڈالر کے مقابلے پر روپے کی قدر میں 20 فیصد گر چکی ہے جب کہ بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اس میں مزید دس فیصد کمی ہو گی۔

اسی بارے میں