سیکس کے بارے میں دنیا بھر میں 9 منفرد روایتیں

سیکس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سیکس: دنیا کا قدیم ترین اور عالمگیر عمل ہے۔

لیکن سیکس پر بات یا عمل مختلف ممالک میں مختلف انداز سے ہوتا ہے۔

بی بی سی کے پروگرام ’کراسنگ کانٹینینٹس‘ نے اس تحقیق پر گھنٹوں صرف کیے۔

کنوارے پن سے لے کر بغلوں میں سیب رکھ کر ناچنے تک، دنیا میں سیکس سے جڑی مختلف رسومات پر ایک نظر:

1. ہوائی کے قبائلی اپنے اعضا کو نام دیتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میں اپنا نام بتاؤں گی اگر تم اپنا نام بتاؤ

روایتی طور پر، ہوائی کے باشندے اپنے جنسی اعضا کو پوجتے اور انھیں پیار سے کوئی نام دیتے ہیں۔

لیکن بات صرف یہاں تک محدود نہیں۔ شاہی اور عام افراد کا اپنا اپنا ایک ذاتی جنسی ترانہ بھی ہوتا ہے۔

ان ترانوں میں کھلے الفاظ میں کسی شخص کے جنسی اعضا کے بارے میں تفصیل بیان کی جاتی ہے۔

2. جاپانی کم سیکس کر رہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قریب، لیکن اتنا قریب بھی نہیں

جاپان وہ ملک ہے جہاں شرح پیدائش انتہائی کم ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہاں کنڈوم، یمل سے بچنے کی گولیوں کے استعمال، ابارشن اور جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں میں بھی کمی ہو رہی ہے۔

جاپان کی فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن کی سربراہ کونیو کیٹامرا کا کہنا ہے کہ 'اس بارے میں صرف ایک وضاحت دی جاسکتی ہے کہ جاپانی لوگ کم سیکس کر رہے ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

’دن میں پانچ مرتبہ سیکس بھی ناکافی تھا‘

معمر افراد میں سیکس کی چاہ پہلے سے زیادہ

’37 سال کی عمر تک سیکس نہ کرنے پر افسوس‘

کیا سیکس کی لت کوئی بیماری ہے؟

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ریکارڈ تعداد میں شادی شدہ جوڑے سیکس کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں، تین تہائی مردوں کا کہنا ہے کہ وہ سیکس کے لیے بہت زیادہ تھکے ہوتے ہیں، ایک چوتھائی خواتین کا کہنا تھا کہ انھیں سیکس میں مشکل پیش آتی ہے۔

ایک اور سروے کے مطابق 18 سے 34 سال کی عمر کے درمیان کنوارے افراد کی تعداد میں بھی گذشتہ ایک دہائی میں اضافہ ہوا ہے، تقریباً 45 فیصد افراد کا کہنا تھا انھوں نے کبھی سیکس نہیں کیا۔

3. جنوبی کوریائی خواتین کا بچوں سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ LeoPatrizi
Image caption جنوبی کوریائی خواتین کے لیے ماں بننا ترجیح نہیں

جنوبی کوریا میں ایک اوسط خاتون سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں 1.05 بچے پیدا کرے گی لیکن ملک کی آبادی میں توازن قائم رکھنے کے لیے شرح پیدائش فی خاتون 2.1 بچے ہے، جو حالیہ شرح سے دگنی ہے۔

بچوں کی کمی کے بحران کو حل کرنے کی کوشش میں حکومت گذشتہ ایک دہائی کے دوران اربوں پاؤنڈز مختلف پروجیکٹس پر خرچ کر چکی ہے، لیکن اس کے باوجود شرح پیدائش نیچے جا رہی ہے۔

اس بحران کی وجہ گھروں کی آسمان چھوتی قیمتیں یا بچوں کی پرورش کے اخراجات ہو سکتے ہیں یا پھر کام کے بہت زیادہ اوقات۔ کیونکہ ملک میں ابھی بھی خواتین کو بچوں کی دیکھ بھال کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اور بچے پیدا کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ڈبل شفٹ میں کام نہیں کر سکتیں، لہذا وہ بچوں سے انکار کرتی ہیں۔

4. روس میں یومِ حمل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روس میں دن مقرر ہے

روس کے ایک علاقے میں آبادی میں کمی پر قابو پانے کے لیے ایک قدیم روایتی طریقہ متعارف کروایا گیا ہے۔

ماسکو کے مغرب میں واقع الیانوسک کے گورنر نے 12 ستمبر کو سرکاری طور پر یوم حمل منانے کا اعلان کیا ہے، یہ چھٹی کا دن ہوتا ہے جس میں شادی شدہ جوڑوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ گھر پر رہیں جس کا واحد مقصد حاملہ ہونے کی کوشش کرنا ہے۔

نو ماہ بعد پیدا ہونے والے بچوں کے والدین کو ویڈیو کیمرے، فریج اور واشنگ مشینوں کے تحائف دیے جاتے ہیں۔ .

5. برازیل کے گاؤں میں خواتین کے لیے مچھلیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مچھلی۔۔۔۔ لے کر آؤ

وسطی برازیل کے ایک گاؤں مہیناکو میں مناسب رشتوں کے لیے خواتین ایک سادہ طریقہ اپناتی ہیں۔

مرد جو خواتین کی محبت کے طلب گار ہوتے ہیں وہ ان کے لیے مچھلی کا ایک تحفہ لاتے ہیں۔

اور جو شخص سب سے بڑی مچھلی لاتا ہے وہی لڑکی کا حقدار ہوتا ہے۔

6. آسٹرین خواتین کا اپنے مداحوں کے لیے بغلوں والے سیب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آسٹریا کے دیہی علاقوں میں خواتین روایتی طور پر سیب کے ٹکڑے اپنی بغلوں میں رکھ کر رقص کرتی ہیں۔

کمرے میں موجود مردوں پر گہری نگاہ ڈالنے کے بعد وہ اپنی پسند کے مرد کو سیب کا وہ ٹکڑا پیش کرتی ہیں۔

اگر دونوں کے جذبات ایک جیسے ہی ہوں تو وہ مرد اس سیب کے ٹکڑے کو کھا لیتا ہے۔

7. کولمبیا میں گواجیرو قبائلی خواتین مردوں کو گراتی ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اپنے قدم دیکھو، گر جاؤ یا بچ جاؤ

اس قبیلے میں ڈانس فلور پر کسی کو گرانا ہی آپ کے حق میں جاتا ہے۔

کولمبیا کے گواجیرو قبیلے میں مرد اور خواتین ایک خاص رقص کی محفل میں شرکت کرتے ہیں، اور اس دوران اگر ایک خاتون مرد کو گرانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر ان پر لازم ہے کہ وہ سیکس کریں۔

اس روایت سے وہ کہاوت یاد آتی ہے کہ ’فالنگ فور سم ون‘ اور اس معاملے میں تو لوگ اصل میں گرتے ہیں۔

8. ڈینش خواتین زیادہ تر چھٹیوں میں حاملہ ہوتی ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈنمارک میں ایک گرم دن

ٹریول کمپنی سپائیز ٹریول کی تحقیق کے مطابق ڈنمارک کے باشندے چھٹی والے دن 46 فیصد زیادہ سیکس کرتے ہیں۔ ناصرف یہ بلکہ دس فیصد ڈینش خواتین کا حمل اس وقت ٹھہرا جب وہ گھر سے دور چھٹیوں پر تھیں۔

سنہ 2014 میں اس کمپنی نے ایسے والدین کو تین سال تک بچوں کی چیزیں اور بچوں کے لیے موزوں کسی مقام پر چھٹیوں کی پیشکش کی تھی جو یہ ثابت کر سکیں کہ ان کا حمل چھٹیوں کے دوران ٹھہرا تھا۔

9. یونانی سب سے زیادہ سیکس کرتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایروس، محبت کا یونانی دیوتا

کنڈوم بنانے والی کمپنی ڈیوریکس نے ایک عالمی سروے میں 26 مختلف ممالک میں 16 سے 26 برس کی عمر کے درمیان 30 ہزار افراد سے بات کی۔

اس سروے کے مطابق یونان وہ جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ سیکس کیا جاتا ہے: ایک شخص اوسطاً سال میں 164 مرتبہ۔

شاید اس کی وجہ موسم ہے یا پھر پانی، لیکن ان کو کون کا الزام دے سکتا ہے؟

اس میں ان کی ثقافت کا بھی عمل دخل ہو سکتا ہے، قدیم یونانی سیکس کے حوالے سے روادار، کھل کر بات کرنے والے اور تجرباتی مشہور تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں