اسامہ بن لادن: شرمیلے لڑکے سے عالمی جہادی تک کا سفر

اسامہ بن لادن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی والدہ ان کی ہلاکت کے بعد پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی ہیں اور انھوں نے اپنے بیٹے اسامہ بن لادن کی زندگی کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں سنہ 2011 میں امریکی فوج کی ایک کارروائی میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا تھا۔

اسامہ بن لادن کی والدہ عائلہ غنیم نے اپنے دو دیگر بیٹوں احمد اور حسن اور دوسرے شوہر محمد العطاس کے ہمراہ برطانوی اخبار گارڈیئن کے مارٹن چلوف کے ساتھ اسامہ کی زندگی کے دوسرے پہلوؤں پر بات کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسامہ بن لادن: کیا ان پانچ سوالوں کا جواب کبھی ملے گا؟

القاعدہ کے اندر کی کہانی، سیاسی بھی اور خاندانی بھی

اسامہ بن لادن کی ’پلے لسٹ‘ میں کیا کیا تھا؟

عائلہ غنیم نے بتایا کہ اسامہ اب بھی ان کا محبوب بیٹا ہے جو کسی طرح بھٹک گیا تھا: ’میری زندگی بہت مشکل تھی کیونکہ وہ مجھ سے بہت دور تھا، وہ بہت اچھا لڑکا تھا اور مجھ سے بہت پیار کرتا تھا۔‘

اسامہ بن لادن کے دو سوتیلے بھائیوں کے درمیان بیٹھی ان کی والدہ نے بتایا کہ انکا پہلا بیٹا بہت شرمیلا تھا لیکن پڑھائی میں اچھا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جب اسامہ جدہ کی شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں اکنامکس پڑھ رہے تھے تو انھیں انتہاپسندی کی جانب راغب کیا گیا۔ ’یونیورسٹی میں لوگوں نے اسے بدل دیا، وہ ایک بالکل ہی مختلف انسان بن گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں سنہ 2011 میں امریکی فوج کی ایک کارروائی میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا تھا

یونیورسٹی میں جن لوگوں سے اسامہ بن لادن کی ملاقات ہوئی ان میں عبداللہ اعظم بھی شامل تھے جو اخوان المسلمین کے رکن تھے اور انھیں بعد میں سعودی عرب سے نکال دیا گیا اور وہ اسامہ کے روحانی مشیر بن گئے۔

عائلہ غنیم نے اس دور کو یاد کرتے ہوئے بتایا: ’وہ بہت ہی اچھا بچہ تھا اور پھر اس کی ملاقات کچھ افراد سے ہوئی جنھوں نے جوانی میں ہی اس کا برین واش کیا۔ آپ اسے مذہبی فرقہ کہہ سکتے ہیں۔ وہ اپنے مقاصد کی خاطر پیسے حاصل کرتے تھے۔ میں اسے ہمیشہ ان سے دور رہنے کا کہتی تھی، اور وہ کبھی نہیں بتاتا تھا جو وہ کر رہا تھا کیونکہ وہ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا۔‘

سنہ 1980 کی دہائی میں اسامہ روس کے خلاف لڑنے افغانستان گئے۔ ان کے سوتیلے بھائی حسن نے اپنی والدہ کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’شروع شروع میں ان سے جو بھی ملتا وہ ان کی عزت کرنے لگتا۔ آغاز میں ہم ان پر فخر کرتے تھے۔ یہاں تک کہ سعودی حکومت ان سے عزت اور احترام کا برتاؤ کرتی، اور پھر اسامہ مجاہد کے روپ میں سامنے آئے۔‘

حسن نے ایک جوشیلے انسان سے عالمی جہادی میں تبدیل ہونے والے اسامہ کے بارے میں بتایا: ’مجھے اسامہ پر بطور بڑے بھائی فخر ہے، انھوں نے مجھے بہت کچھ سکھایا، لیکن میرا نہیں خیال کہ میں ان پر ایک فرد کی حیثیت سے فخر کر سکتا ہوں۔ وہ عالمی سطح پر مشہور تو ہو گئے لیکن وہ شہرت کسی کام کی نہیں۔‘

عائلہ غنیم جو اپنے بیٹے حسن کی باتیں غور سے سن رہی تھیں دوبارہ اس گفتگو میں شامل ہوئیں اور کہا: ’وہ بہت سیدھا تھا۔ سکول میں بھی بہت اچھا تھا، پڑھنا اسے بہت پسند تھا۔ وہ تجارتی دورے کا بہانہ کر کے افغانستان چلے جاتے تھے اور اس طرح انھوں نے ساری دولت لٹا دی۔‘

یہ بھی پڑھیے

کیا ہلیری کلنٹن اسامہ بن لادن سے ملی تھیں؟

’اسامہ بن لادن کے مکان سے پشتو اور انڈین گانے ملے‘

اسامہ بن لادن کا ’محافظ‘ جرمنی میں مقیم ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا ان کی والدہ کو کبھی شک ہوا کہ وہ جہادی بن جائیں گے؟ اس پر عائلہ نے کہا کہ ’میرے دماغ میں ایسا کبھی نہیں آیا۔ اور جب معلوم ہوا تو ہم سب بہت پریشان تھے۔ ہم ایسا کچھ نہیں چاہتی تھی۔ وہ کیوں سب ایسے ضائع کرے گا۔‘

اسامہ بن لادن کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ ان سے آخری مرتبہ سنہ 1999 میں افغانستان میں ملے تھے۔ عائلہ کے مطابق: ’یہ ائیرپورٹ کے قریب ایک جگہ تھی جو انھوں نے روسیوں سے قبضے میں لی۔ وہ ہم سے مل کر بہت خوش تھا۔ وہ ہر روز ہمیں آس پاس کی جگہیں دکھاتا تھا۔ اس نے ایک جانور مارا اور ہمارے لیے کھانا بنایا اور سب کو مدعو کیا۔‘

اسامہ کے دوسرے بھائی احمد نے بتایا کہ ’نائن الیون کے واقعے کو 17 سال بیت گئے ہیں اور اب تک ہماری والدہ اسے اسامہ سے منسوب کیے جانے کو مسترد کرتی ہیں۔ وہ ان سے بہت پیار کرتی تھیں اور ان پر الزام لگانے سے انکار کرتی ہیں۔ وہ ان لوگوں کو اس کا ذمہ دار سمجھتی ہیں جو اسامہ کے آس پاس تھے۔ وہ صرف ایک اچھے لڑکے کو جانتی ہیں جو ہم سب نے دیکھا، وہ کبھی ان کا جہادی رخ دیکھ ہی نہیں پائیں۔‘

احمد مزید بتاتے ہیں: ’میں حیران ہو گیا جب نیویارک سے ابتدائی خبریں آئیں۔ وہ بہت ہی عجیب سے کیفیت تھی، ہمیں آغاز سے ہی معلوم تھا کہ (یہ اسامہ ہیں)۔ چھوٹے سے بڑے تک ہم سب شرمندہ تھے۔ ہم سب جانتے تھے کہ ہم سب کو اب شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمارے تمام خاندان والے جو لبنان، شام، مصر اور یورپ میں تھے واپس سعودی عرب آگئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’سعودی عرب میں ہم پر سفری پابندی تھی۔ حکومت نے ہماری فیملی پر کنٹرول رکھا جہاں تک وہ رکھ سکتے تھے۔ ہم سب سے حکام کی جانب سے تفتیش کی گئی اور کچھ مدت کے لیے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی گئی۔ تقریباً دو دہائیوں بعد بن لادن خاندان نسبتاً آزادی کے ساتھ سعودی ریاست سے باہر جا سکتے ہیں۔‘

حمزہ بن لادن

اسامہ بن لادن کے چھوٹے بیٹے 29 سالہ حمزہ بن لادن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اس وقت افغانستان میں ہیں۔ گذشتہ سال انھیں امریکہ کی جانب سے باقاعدہ طور پر ’عالمی دہشت گرد‘ قرار دے دیا گیا تھا۔

حمزہ کے بارے میں ان کے سوتیلے چچا حسن نے کہا کہ ’جو اگلی بات مجھے معلوم ہوئی وہ یہ تھی کہ حمزہ نے کہا: ’میں اپنے والد کا بدلہ لوں گا۔‘ میں دوبارہ اس سب سے گزرنا نہیں چاہتا۔ اگر حمزہ میرے سامنے ہوتا تو میں اس سے کہتا کہ خدا تمہیں ہدایت دے، جو تم کر رہے ہو اس کے بارے میں دو بارہ سوچو، اپنے والد کے قدم پر نہ چلو۔ تم اپنے وجود کے تاریک حصوں میں داخل ہو رہے ہو۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں