سفارتی کشیدگی: سعودی ایئر کی ٹورونٹو کے لیے تمام پروازیں بند، کینیڈا میں تمام سکالرشپس معطل

saudi تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سعودی عرب نے کینیڈا کے سفیر کو ملک چھوڑنے کے حکم کے بعد دونوں ممالک میں مزید کشیدگی بڑھ گئی ہے اور سعودی ایئر لائن نے ٹورونٹو کے لیے تمام فلائٹس معطل کر دی ہیں۔

سعودی اییر لائن کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب سعودی عرب نے کینیڈا پر ملک کے داخلی معاملات میں 'مداخلت' کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کینیڈا کے سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا جبکہ کینیڈا میں تعینات سعودی سفیر کو بھی واپس بلا لیا۔

تاہم کینیڈا نے جواب میں کہا ہے کہ کینیڈا انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔

دوسری جانب ایک ویریفائڈ ٹویٹر اکاؤنٹ جو کہ مبینہ طور پر سعودی حکام کے ساتھ لنک ہے نے ایک فوٹو ٹویٹ کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک جہاز ٹورونٹو کے مشہور سی این ٹاور کی جانب جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

سوشل میڈیا پر جلد ہی لوگوں نے اس تصویر کی مشابہت امریکہ پر 2001 میں ہونے والے حملوں کے ساتھ کی۔

تاہم بعد میں یہ ٹوئٹر اکاؤنٹ ختم کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ سعودی حکام نے اعلان کیا ہے کہ کینیڈا میں تمام سکالر شپ، تربیتی اور فیلو شپ پروگرام معطل کیے جا رہے ہیں اور یہ پروگرام کسی اور ملک میں منتقل کیے جائیں گے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ کینیڈا کے ساتھ تمام نئے تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے بھی روک رہا ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا ہے جب کینیڈا نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اس بارے میں مزید جانیے

سعودی عرب: خواتین کے حقوق کی کارکن دوبارہ گرفتار

’انٹرنیٹ پر جان کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں‘

سعودی عرب نے کیا کہا؟

سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ 'سعودی عرب نے اپنی تاریخ میں کبھی بھی داخلی معاملات میں کسی ملک کی مداخلت یا احکامات کو تسلیم نہیں کیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی کارکن ثمر بداوی کو گذشتہ ہفتے حراست میں لیا گیا تھا

سعودی وزارتِ خارجہ نے کینیڈا کی خارجہ اُمور کی وزارت کی جانب سے جاری کردہ بیان کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں ریاض پر زور دیا گیا تھا کہ وہ خواتین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو ’فوری رہا‘ کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ثمر بداوی کو سنہ 2012 میں انٹرنیشنل ویمن آف کریج ایوارڈ بھی دیا گیا تھا

سعودی عرب میں جن میں کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے اُن میں سعودی نژاد امریکی خاتون کارکن ثمر بداوی بھی شامل ہیں۔

ثمر بداوی کو گذشتہ ہفتے حراست میں لیا گیا تھا۔ ثمر بداوی اور اُن کی ساتھی کارکن سعودی عرب میں رائج مردوں کی سرپرستی کے نظام کو ختم کرنے کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔

سعودی عرب میں ایسے وقت میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد کو حراست میں لیا جا رہا ہے جب ملک کے ولی عہد شہزادہ سلمان قدامت پسند معاشرے کو ترقی پسندی کی جانب گامزن کرنا چاہتے ہیں۔

ان گرفتاریوں سے سعودی ولی عہد کی ترقی پسندی کے تاثر کو نقصان پہنچا ہے۔

کینیڈا کی حکومت کی جانب سعودی عرب کے اس اقدام پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں