’جہاز چوری کرنے والے کو ایئرپورٹ پر کہیں بھی آنے جانے کی اجازت تھی‘

Aircraft in Seattle تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی شہر سیئیٹل سے ایک ہوائی کمپنی کے ملازم نے ایک خالی جہاز چرا کر اسے ایک قریبی جزیرے میں گرا کر تباہ کر دیا اور خود بھی ہلاک ہو گیا۔

امریکی میڈیا نے اس شخص کا نام رچرڈ رسل بتایا ہے جبکہ ہوائی کمپنی کے حکام نے کہا کہ اسے جہاز تک رسائی حاصل تھی اور سکیورٹی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

حکام کے مطابق اس 29 سالہ شخص نے جمعے کی رات کو بغیراجازت جہاز اڑایا جس کی وجہ سے ہوائی اڈا وقتی طور پر بند کرنا پڑا۔ یہ ایئرپورٹ پر تین سال سے ملازم تھا اور اس کا کام جہازوں میں سامان لوڈ کرنا اور انھیں کھینچ کر لے جانا تھا۔

جہاز کی چوری کے بعد دو ایف 15 لڑاکا طیاروں نے اس جہاز کا پیچھا کیا، جو 90 منٹ تک اڑنے کے بعد ایک جزیرے میں گر کر تباہ ہو گیا۔

مقامی شیرف کے دفتر نے بتایا کہ 'یہ دہشت گردی کا واقعہ نہیں تھا،' اور یہ شخص مقامی شہری تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہوائی کمپنی کے سی ای او گیری بیک نے کہا کہ اس شخص کے پاس ہوابازی کا لائسنس نہیں تھا اور انھیں نہیں علم کہ اس نے اس قدر ’پیچیدہ مشین‘ اڑانے کا ہنر کہاں سے سیکھا۔

شیرف پال پیسٹر نے بعد میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ 'اکثر دہشت گرد پانی کے اوپر کرتب نہیں دکھایا کرتے۔'

76 مسافروں کی گنجائش والا یہ بمبارڈیئر کیو 400 جہاز ہورائزن ایئر نامی ہوائی کمپنی کی ملکیت تھا اور یہ مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے فضا میں بلند ہوا۔

بین شائکٹر ہواباز ہیں اور جب یہ واقعہ پیش آیا تو وہ قریب ہی اپنے جہاز میں موجود تھے۔ انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا: 'یہ دیوانہ پن ہے۔ میرے بالکل آگے ایک ہواباز پاگل ہو گیا اور کنٹرول ٹاور سے آنے والے احکامات نظرانداز کرتے ہوئے ایک خالی جہاز چوری کر کے اڑا لے گیا۔ ٹاور نے اسے رکنے کو کہا اور اب بھی اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔'

امریکی فضائیہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ دو ایف 15 لڑاکا طیاروں نے اس جہاز کا پیچھا کیا۔ 'ایف 15 طیاروں نے اس جہاز کو بحرالکاہل کی طرف لے جانے کی کوشش کی مگر یہ ہوائی اڈے سے 48 کلومیٹر دور کیٹرون جزیرے پر گر کر تباہ ہو گیا۔'

انھوں نے کہا کہ لڑاکا طیاروں نے اس جہاز پر فائرنگ نہیں کی۔

کئی ویڈیوز میں انھیں ٹیڑھے میڑھے طریقے سے اڑتے چوری شدہ مسافر جہاز کا پیچھا کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

شیرف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہواباز جہاز گرنے سے ہلاک ہو گیا ہے۔

طیارہ کیوں چوری کیا؟

یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ تاہم ٹاور کی طرف سے رسل کے ساتھ گفتگو کی ریکارڈنگ میں ہواباز کو طیارے کے اندر موجود ایندھن کی کمی کے بارے میں بات کرتے سنا جا سکتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ وہ جہاز اتار سکتا ہے کیوں کہ اس نے ویڈیو گیمز میں اس کی مشق کر رکھی ہے۔

وہ کنٹرولر سے یہ بھی پوچھتا ہے، 'کیا اس کی سزا عمر قید ہو گی؟' اس کے جواب میں کنٹرولر کہتا ہے، 'رچرڈ، اس بارے میں فکر نہ کرو۔ بس جہاز کو بائیں موڑنا شروع کرو۔'

تصویر کے کاپی رائٹ CBS

رسل پہاڑوں کے نظاروں کے بارے میں بھی بات کرتا ہے اور یہ بھی پوچھتا ہے کہ اگر اس نے کامیابی سے جہاز اتار لیا تو کیا اسے ہوائی کمپنی پائلٹ کی نوکری دے دے گی؟

عینی شاہدوں نے جہاز کو کرتب دکھاتے اور قلابازیاں کھاتے دیکھا۔ ایک شخص نے بتایا کہ ایک موقعے پر جہاز پانی کی سطح سے صرف سو فٹ دور رہ گیا تھا لیکن پھر ہوا میں بلند ہو گیا۔

ہوابازی کے ماہر ڈیوڈ گلیو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس قسم کے جہازوں میں چابیاں نہیں ہوتیں اور اگر کوئی ان میں داخل ہو جائے تو انھیں اڑانا زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ 'تاہم انھیں اتارنا اصل مسئلہ ہوتا ہے۔'

ایف بی آئی نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

اسی بارے میں