فلوریڈا میں ویڈیو گیم مقابلے کے دوران فائرنگ دو افراد ہلاک، 11 زخمی

GLHF Game Bar Facebook account cover image تصویر کے کاپی رائٹ GLHF Game Bar
Image caption حملہ ویڈیو گیم مقابلے کے دوران پیش آیا

امریکی ریاست فلوریڈا کے جیکسنوائل علاقے میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک تفریحی مقام پر ایک مسلح شخص کی فائرنگ سے کم از کم دو افردا ہلاک ہو گئے ہیں۔

حملہ آور کا نام ڈیوڈ کٹز بتایا گیا ہے کہ جس نے بعد میں خود کو بھی گولی مار کر اپنی جان لے لی۔ پولیس کو مزید کسی مشتبہ شخص کی تلاش نہیں ہے۔

اس واقعے میں 11 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

امریکہ: فلوریڈا کے سکول میں فائرنگ سے 17 ہلاک

امریکہ: نائٹ کلب میں فائرنگ، 28 افراد زخمی

فلوریڈا کے سکول میں فائرنگ کرنے والا کون تھا؟

فائرنگ کا واقعے اس وقت پیش آیا جب جیکسنوائل لینڈنگ میں ویڈیو گیم کا ایک مقابلہ منعقد کروایا جا رہا تھا۔ یہ جگہ خریداری، تفریحی اور کھانوں کا ایک کمپلیکس ہے۔

پولیس کے مطابق اب تک کی تفتیش سے ظاہر ہوا ہے کہ گولیاں چلانے والے ڈیوڈ کٹز نے صرف ایک ہی بندوق کا استعمال کیا۔

پولیس نے تاحال مقامی میڈیا میں آنے والی ان خبروں کی تصدیق نہیں کی کہ ڈیوڈ نے یہ حملہ ویڈیو گیم مقابلے میں ہارنے کے بعد کیا۔

حالیہ برسوں میں فلوریڈا میں متعدد لوگوں پر گولیاں چلائے جانے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں جن میں سنہ 2016 میں اورلینڈو کے پلس نائٹ کلب میں فائرنگ کا واقعہ شامل ہے جس میں 49 لوگ مارے گئے تھے۔ جس کے بعد رواں برس فروری میں پارک لینڈ کے مارجری سٹونمین ڈگلس سکول میں فائرنگ سے 17 افراد ہلاک ہوئے۔

ہوا کیا تھا؟

اتوار کی سہ پہر کھلاڑی جیکسنوائل لینڈنگ میں گیم کھیل رہے تھے کہ گولیاں چلنے لگیں۔

سوشل میڈیا کی سائٹ ٹوئچ پر براہِ راست دکھائی جانے والی ایک ویڈیو میں گولیاں چلنے کی آواز سنی جا سکتی ہے۔

اس مقابلے میں شریک ایک 19 سالا کھلاڑی ڈرینی گجوکا نے اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں اس واقعے کو اپنی زنگی کا بدترین دن قرار دیا۔

انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ایک گولی ان کے انگوٹھے میں لگی ہے۔

لوگوں نے حملے کے بعد وہاں سے بھاگنا شروع کر دیا تاہم پولیس نے انھیں پر سکون رہنے کو کہا۔ بعد ازاں سواٹ ٹیم نے علاقے میں حملہ آور کے ممکنہ مدد گار کی تلاش کے بعد تصدیق کی کہ وہ اس میں اکیلا ہی تھا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ بھر میں اسلحے کے خلاف بڑے مظاہرے

'رائفل ایسوسی ایشن نے سیاستدانوں کو خریدا ہوا ہے‘

مرنے والوں کے نام ابھی ظاہر نہیں کیے گئے جب تک کہ ان کہ لواحقین کو اطلاع نہیں کر دی جاتی ایسا نہیں کیا جا سکتا۔

جیکسنوائل کے میئر لینی کری نے کہا ’آج جیکسنوائل سوگ میں ہے۔ آج ہم نے وہ واقعہ دیکھا ہے جو بہت عام ہوتا جا رہا ہے اور ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم عوامی تحفظ کے لیے مزید اقدامات کریں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں