امریکی سینیٹر جان میک کین انتقال کر گئے

میک کین تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکی سیاست دان اور سابق صدارتی امیدوار سینیٹر جان میک کین 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

ان کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق میک کین کا انتقال سنیچر کو ہوا اور اس وقت ان کے خاندان کے افراد ان کے ہمراہ تھے۔

ان کے دماغ میں جولائی 2017 میں رسولی کی تشخیص ہوئی تھی اور اس کے بعد سے وہ علاج کروا رہے تھے۔

میک کین کی بیٹی میگن نے کہا کہ اب ان کی زندگی کا مقصد اپنے والد کی 'مثال بن کر، ان کی توقعات پر پورا اترنا اور محبت کے ساتھ جینا ہے۔'

انھوں ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا: 'آنے والے برس میرے والد کے بغیر ویسے نہیں ہوں گے، لیکن وہ پھر بھی اچھے دن ہوں گے، زندگی اور محبت سے بھرے، کیوں کہ ان کا نمونہ میرے والد کی زندگی ہو گی۔'

میک کین چھ بار سینیٹر رہے اور رپبلکن پارٹی کی طرف سے 2008 میں براک اوباما کے مقابلے پر صدارتی انتخاب لڑا لیکن ناکام ہو گئے۔

میک کے والد اور دادا دونوں نیوی میں ایڈمرل رہے ہیں۔ خود میک کین ویت نام جنگ میں فائٹر پائلٹ رہے ہیں۔ اس دوران ان کا جہاز مار گرایا گیا اور وہ پانچ سال تک ویت نام کی قید میں رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس دوران انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے وہ زندگی بھر کئی قسم کے طبی مسائل کا شکار رہے۔

’آخری دم تک فائٹر‘

اینتھنی زرکر، ایڈیٹر برائے شمالی امریکہ کا تجزیہ

میک کین دوسری جنگِ عظیم کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے۔ اس دور میں امریکہ سیاسی، عسکری، ثقافتی اور معاشی اعتبار سے عروج پر تھا۔ اب میک کین کے انتقال کے وقت امریکہ اپنی برتری کھو رہا ہے کیوں کہ اب ملک باہر کی بجائے اندر کی طرف دیکھ رہا ہے، اصلی اور استعاراتی دیواریں بنانے کی سوچ رہا ہے، اور خود کو دنیا سے الگ تھلگ کر رہا ہے۔

جان میک کین کی زندگی ان سارے ادوار کا استعارہ تھی۔

جب امریکہ ویت نام کی دلدل میں پھنسا تو میک کین نے بھی سختیاں جھیلیں۔

انھوں نے دو بار صدر بننے کی کوشش کی۔ 2000 میں وہ جارج بش کے مقابلے پر لڑے لیکن پرائمریز ہی میں ہار گئے۔

میک کین ان دونوں محاذوں پر ضرور ناکام رہے لیکن وہ زندگی بھر امریکہ کا دفاع کرتے رہے۔ اپنے آخری دور میں وہ کئی بار صدر ٹرمپ سے نبرد آزما ہوئے۔ انھیں رپبلکن پارٹی کی سمت سے بھی اختلاف تھا۔

ان کے خیالات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور کیا گیا ہے۔ لیکن اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ وہ زندگی کے آخری دم تک لڑتے رہے۔

تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شر وع

جان میک کین کی موت پر ان کے لیے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی: 'سینیٹر جان میک کین کے خاندان کے لیے دلی تعزیت۔ میرا دل اور دعائیں آپ کے ساتھ ہیں!'

سارا پیلن، جو 2008 میں میک کین کی نائب صدارتی امیدوار تھیں، کہا کہ 'جان میک کین میرے دوست تھے۔ میں ان اچھے وقتوں کو یاد رکھوں گی۔ میرا خاندان سنڈی اور میک کین خاندان کے لیے دعا گو ہے۔'

سابق صدر براک اوباما نے کہا کہ 'ان کی وفاداری ایک بلند مقصد کے ساتھ تھی، ان اصولوں کے ساتھ جن کی خاطر امریکیوں اور تارکینِ وطن کی نسلیں لڑتی، پیش قدمی کرتی اور قربانیاں دیتی رہی ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں