لیسبوس کا موریا کیمپ: ’دس دس برس کے بچے خودکشیاں کر رہے ہیں‘

  • کارٹن نائے
  • وکٹوریا ڈربی شائر پروگرام
،ویڈیو کیپشن

یونان میں دنیا کا بدترین ریفیوگی کیمپ جہاں کمسن بچے ’خودکشی کی کوشش کرتے ہیں‘

یونانی جزیرے لیسبوس کے موریا کیمپ میں جان لیوا تشدد ہے، گنجائش سے زیادہ لوگ ہیں، صفائی کی صورتحال ابتر ہے اور ایک خیراتی ادارے کے مطابق اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ دس دس برس کے بچے بھی خودکشی کرنے لگے ہیں۔ بی بی سی کے وکٹوریا ڈربی شائر پروگرام کو اس کیمپ تک رسائی ملی۔

’ہم ہر وقت یہاں سے نکلنے کو تیار رہتے ہیں، 24 گھنٹے ہم اپنے بچوں کو تیار رکھتے ہیں۔‘ یہ کہنا ہے سارہ خان کا جن کا تعلق افغانستان سے ہے۔

سارہ نے بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان سارا دن قطار میں لگ کر خوراک حاصل کرتا ہے اور رات بھر تشدد کی صورت میں بھاگنے کے لیے چوکنے رہتے ہیں کیونکہ وہاں مسلسل جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔

’اس تشدد کا مطلب ہے کہ ہماری بچے سو نہیں سکتے۔‘

اسی بارے میں

یہاں حالات اس قدر ابتر ہو چکے ہیں کہ امدادی ادارے احتجاجاً یہاں سے چلے گئے ہیں۔

طبی امدادی ادارے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق یہاں مقیم 70 افراد کے لیے ایک بیت الخلا ہے اور کیمپ کی فضا میں انسانی فضلے کی بو رچ بس گئی ہے۔

کچھ لوگ ٹین کی چادروں سے بنے موبائل کیبنوں میں رہتے ہیں تاہم ان کے گرد بیشتر خیمے اور ترپال سے بنی پناگاہیں ہیں اور ان میں وہ لوگ مقیم ہیں جن کے پاس رہنے کے لیے سرکاری جگہ نہیں ہے۔

یہ خیمہ بستی اب نواحی علاقوں میں پھیل رہی ہے۔ ایک ٹینٹ میں 17 افراد رہتے ہیں یعنی ایک ہی جگہ چار خاندان آباد ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

سارہ خان کا خاندان مسلسل لڑاییوں سے خوفزدہ ہے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ایم ایس ایف کے مطابق محض 3000 افراد کے لیے بنے اس کیمپ میں 8000 افراد رہتے ہیں۔

ایک ماں نے بتایا کہ وہ اس جگہ اپنے 12 دن کے بچے کے ساتھ رہتی ہے جہاں فرش پر پاخانہ پڑا ہوا تھا۔

اس کیمپ میں تشدد انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ مئی میں عرب اور کردوں کے درمیاں لڑائی کے باعث سینکڑوں کردوں کو یہ جگہ چھوڑنی پڑی۔

علی جو اب اس کیمپ سے جا چکے ہیں، انھوں نے بتایا کہ جب وہ اس کیمپ میں اپنے خاندان کے ساتھ آئے تو ’ہمیں پتا چلا کہ یہاں پہلے سے فرقہ واریت، نسل پرستی موجود تھی چاہے وہ شیعہ سنی کے درمیان ہو یا کرد ، عربوں یا افغان کے بیچ۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ شام میں باغیوں کے درمیان جاری لڑائی کیمپ کے دروازے تک آ گئی تھی۔

انھوں نے بتایا ’یہ شام میں جاری لڑائی کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی بدتر۔ ہم نے سنا ہے کہ وہاں ریپ کے واقعات ہوئے اور جنسی ہراس کے بھی‘۔

جس روز ہم موریا میں فلم بندی کر رہے تھے اسی دن دوپہر کے کھانے کے لیے لگی قطار میں لڑائی ہو گئی۔ دو افراد کو چاقو مارا گیا اور دوسرے اسے دیکھ کر گھبراہٹ کا شکار ہو گئے۔

ایم ایس ایف نے قریبی طبی عملے کو چوکنا کر دیا۔

یہ امدادی ادارہ بھی پہلے تو احتجاجاً جزیرے سے چلا گیا تھا تاہم اب اس نے کیمپ کے دروازے کے بالکل باہر ایک کلینک قائم کیا ہے کیونکہ یہاں اس کی اشد ضرورت تھی۔

یہاں پر بچے صفائی کی ناقص صورتحال کی وجہ سے جلدی بیماریوں کا شکار ہیں اور آئے دن لڑائیاں روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے پھینکی جانے والی آنسو گیس کی وجہ سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ انھیں 10 سال تک کی عمر کے بچوں کی جانب سے خودکشی کی کوشش جیسے معاملات سے بھی نمٹنا پڑتا ہے۔

لیسبوس میں ایم ایس ایف کے رابطہ کار افسر لوکا فونٹانا کا کہنا تھا ’یہ وہ چیز ہیں جس کا ہمیں مسلسل سامنا رہتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں یو این ایچ سی آر اور یونان کی وزراتِ صحت کو مطلع کرتے رہتے ہیں۔

’اس کے باوجود کے ہم ان بچوں کے ایتھنز بھجوائے جانے کے لیے دباؤ ڈالتے رہتے ہیں لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔ وہ اب بھی یہیں ہیں۔‘

یہ کیمپ 2015 میں بنایا گیا اور اس کا مقصد تھا کہ اسے ٹرانزٹ پوسٹ کے طور پر استعمال کیا جائے گا جہاں لوگوں کا قیام محض چند دن ہو گا لیکن اب کئی لوگ برسوں سے یہاں مقیم ہیں۔

یہ کیمپ یونان کی حکومت کے زیرِ اختیار ہے اور لوگوں کی تعداد اس لیے بڑھ رہی ہیں کیونکہ یونان یورپ کی ’حدود میں رکھنے کی پالیسی‘ اپنائے ہوئے ہے لہٰذا وہ لوگوں کو اپنے ملک میں داخل کرنے کے بجائے اسی جزیرے پر محدود رکھ رہا ہے۔

یہ یورپی یونین اور ترکی کے درمیان معاہدے کا حصہ ہے جس کے مطابق ان افراد کو واپس ترکی بھیجا جائے گا اور یہ مارچ 2016 سے لاگو ہے۔

،تصویر کا کیپشن

ایم ایس ایف کے لوکا فونٹانا کے مطابق یہ کیمپ بدترین جگہ ہے

یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق تب سے جولائی 2018 تک 71645 نئے پناہ گزین سمندر کے راستے یونان آئے جبکہ صرف 2224 کو واپس ترکی بھیجا گیا۔

یونانی حکومت کے ترجمان جارج میتھائوس موریا کی بدترین صورتحال کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کا الزام یورپی یونین کے سر عائد کرتے ہیں۔

’ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔ آپ یونان کی اقتصادی صورتحال سے واقف ہیں۔ میں مدد کرنا چاہتا ہوں لیکن کچھ کر نہیں سکتا کیونکہ یورپی یونین نے سرحدیں بند کر رکھی ہیں۔‘

ایم ایس ایف کے خیمے میں موجود لوکا فوٹانا جو دنیا بھر کے لڑائی زدہ علاقوں میں کام کر چکے ہیں کہتے ہیں یہ کیمپ بدترین جگہ ہے۔

انھوں نے ایبولا وبا کے دوران مغربی افریقہ میں کام کیا۔ وہ کہتے ہیں ’میں نے کبھی روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کی اس قدر مشکلات نہیں دیکھیں۔‘

’حتی کے ایبولا کا شکار لوگوں کے پاس بھی کوئی امید تھی کہ وہ بچ جائی گے اور انھیں اپنے خاندان، معاشرے، گاؤں اور رشتے داروں کی حمایت حاصل تھی۔‘

’یہاں تو نظام نے امید ہی چھین لی ہے۔‘