سرد جنگ کے بعد روس کی سب سے بڑی فوجی مشقیں

روس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روس کی جانب سے ان فوجی مشقوں کا اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو اور روس کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

روس آئندہ ماہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی اور وسیع پیمانے پر ہونے والی فوجی مشقیں کرے گا جس میں تین لاکھ فوجی اہلکار حصہ لیں گے۔

کریملن کے ترجمان نے جنگی مشقیں ’ووستک 2018‘ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے ملک کے خلاف ’جارحانہ اور غیر دوستانہ‘ رویوں کو دیکھتے ان کا جواز ہے۔

روس کے وزیر دفاع سرگئی شوگو کا کہنا ہے کہ سینٹرل اور مشرقی روس میں منعقد کی جانے والی ان فوجی مشقوں میں چین اور منگولیا کے دستے بھی شامل ہوں گے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

روس قطب شمالی میں ابھرتی فوجی طاقت، برطانیہ پریشان

روس کیوں اپنی فوج میں اضافہ کر رہا ہے؟

روس شام میں کیا کر رہا ہے؟

روس کا میزائل نظام شام بھیجنے کی تصدیق

انھوں نے ان مشقوں کا جنھیں ’ووستک 2018‘ کا نام دیا گیا، موازنہ سنہ 1981 میں اس وقت کے سویت یونین کی مشقوں سے کیا جس میں نیٹو پر فرضی حملے کرنے کی تیاری کی گئی تھی۔

روس کی جانب سے ان فوجی مشقوں کا اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو اور روس کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

2014 میں کرائمیا کے خطے پر قبضے اور مشرقی یوکرین میں روس نواز باغیوں کی حمایت کے روسی اقدامات پر نیٹو نے رد عمل کے طور پر مشرقی یورپ میں اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کر دیا تھا۔

روس کا موقف تھا کہ وہاں مشرقی یورپ میں نیٹو فوجیوں کی موجودگی بلا جواز اور اشتعال انگیز ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ان فوجی مشقوں میں کیا ہو گا؟

روس کے وزیر دفاع سرگئی شوگو کا کہنا ہے کہ 11 سے 15 ستمبر تک جاری رہنے والی ان مشقوں میں 36,000 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور 1,000 جنگی جہاز حصہ لیں گے۔

سرگئی شوگو نے سنہ 1981 میں اس وقت کے سویت یونین کی مشقوں کا حوالے دیتے ہوئے کہا ’ کچھ معاملات میں زیپڈ 81 کے حلیے کو دہرایا جائے گا تاہم دیگر معاملات میں یہ مشقیں بڑی سطح پر کی جائیں گی۔

دوسری جانب کریملین کے ترجمان دیمتری پیسکو نے ان مشقوں کو ’موجودہ بین الاقوامی حالات‘ میں حق بجانب قرار دیا ہے جو اکثر ہمارے ملک کی جانب جارحانہ اور غیر دوستانہ ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان فوجی مشقوں میں چینی دستوں کی شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ روس اور بیجنگ تمام شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔

دیمتری پیسکو کے مطابق ان مشقوں میں چھاتہ بردار اور شمالی بحریہ فورسز بھی حصہ لیں گی۔

کریملین کے ترجمان نے کہا کہ ’ووستک 2018‘ میں اتنی تعداد میں فوج تعینات کی گئی ہے جتنی تعداد میں دوسری جنگ عظیم کی دو بڑی لڑائیوں میں کی گئی تھی۔

روس کے صدر ولادی میر پوتن اپنے فوج کے لیے جدید اسلحہ خرید رہے ہیں جب میں میزائل بھی شامل ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ روس کی فوج کی تعداد تقریباً دس لاکھ ہے۔

نیٹو نے کیا کہا؟

نیٹو کے ترجمان ڈیلان وائٹ کا کہنا ہے کہ نیٹو کو ’ووستک 2018‘ نامی جنگی مشقوں کے بارے میں مئی میں بریف کیا گیا تھا اور وہ ان مشقوں کو مانیٹر کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کی تنظیم روس کی اس پیشکش پر غور کر رہی ہے جس میں ماسکو میں موجود نیٹو کے فوجی اٹیچیز کو یہ مشقیں دیکھنے کے لیے بھیجا جائے گا۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا ’تمام ممالک کو اپنی افواج کو مسلح کرنے کا حق حاصل ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ یہ شفاف اور متوازن انداز میں کیا جائے‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں