پُراسرار ’آسیب زدہ‘ بحری جہاز کا معمہ حل ہوگیا

تصویر کے کاپی رائٹ YANGON POLICE/FACEBOOK
Image caption یہ بحری جہاز سنہ 2001 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس کی لمبائی 580 فٹ ہے

میانمار کے دارالحکومت ینگون کے ساحل کے قریب پراسرار انداز میں تیرتے ہوئے ایک ’آسیب زدہ بحری جہاز‘ کے بارے میں تفتیش کرنے والے حکام نے اس کا کھوج لگا لیا ہے۔

سیم رتولنگی پی بی 1600 ایک بڑا، خالی اور زنگ آلود مال بردار بحری جہاز ہے جسے میانمار کے دارالحکومت ینگون کے ساحل کے قریب مچھیروں نے دیکھا تھا۔

میانمار کی بحریہ کا اب کہنا ہے کہ اس بحری جہاز کو بنگلہ دیش میں ایک جہاز توڑنے والے کارخانے تک پہنچایا جا رہا تھا۔

تاہم خراب موسم کے باعث جہاز کو کھلے سمندر میں ایسے ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔

ساحل پر پہنچانے کے بعد حکام اور بحریہ کے اہلکاروں نے جمعرات کو سیم رتولنگی پی بی 1600 کا معائنہ کیا تاکہ وہ اس کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کر سکیں۔

پولیس اور عینی شاہدین اس بارے میں حیران تھے کہ اتنا بڑا بحری جہاز بغیر کسی ملاح یا سامان کے میانمار تک کیسے پہنچ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

شمالی کوریا امریکی بحری جہاز ’ڈبونے کے لیے تیار ہے‘

زیر آب حیرت انگیز دنیا

ہیروشیما پر گرنے والا ایٹم بم لےجانے والا بحری جہاز مل گیا

بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق یہ بحری جہاز سنہ 2001 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس کی لمبائی 580 فٹ ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی مطابق اس جہاز کی نقل و حرکت آخری مرتبہ سنہ 2009 میں تائیوان کے ساحل کے قریب ریکارڈ کی گئی تھی، اور میانمار کے پانیوں میں کسی لاوارث بحری جہاز ملنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

سنیچر کو میانمار کی بحری کا کہنا تھا کہ انھیں شک ہے کہ یہ بحری جہاز ایک اور بحری جہاز کی مدد سے کھینچا جا رہا تھا کیونکہ انھیں ’اس کے سر کی جانب سے دو تاریں ملی ہیں۔‘

بعد میں انھیں انڈیپینڈنس نامی جہازوں کو کھینچنے والی کشتی بھی میانمار کے ساحل سے 80 کلو میٹر کے فاصلے پر مل گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ YANGON POLICE/FACEBOOK
Image caption سیم رتولنگی پی بی 1600 ایک بڑا، خالی اور زنگ آلود مال بردار بحری جہاز ہے

اس کشتی پر سوار عملے کے 13 انڈونیشیائی افراد سے پوچھ گچھ کے بعد معلوم ہوا کہ وہ اس کشتی کے ذریعے بحری جہاز کو 13 اگست سے کھینچ رہے تھے، اور اسے بنگلہ دیش میں ایک کارخانے تک پہنچانا تھا جہاں جہاز کو توڑا جانا تھا۔

تاہم خراب موسم کی وجہ سے کشتی کے ساتھ جڑی تاریں ٹوٹ گئیں اور انھوں نے جہاز کو لاوارث چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

حکام اس حوالے سے مزید تفتیش کر رہے ہیں۔

نیوز ویب سائٹ الیون میانمار کے مطابق اس کشتی کے مالک کا تعلق ملائشیا سے ہے۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں بحری جہاز ‌شکنی کی ایک بڑی صنعت قائم ہے اور چٹاگانگ میں ہر سال سینکڑوں پرانے جہازوں کو توڑا جاتا ہے۔

تاہم یہ ایک متنازع کاروبار ہے۔ ناقدین مزدوروں کی حالات زار کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہیں اور اس کام کو مزدوروں کے لیے خطرناک سمجھتے ہیں۔

اسی بارے میں