سیول کے عوامی ٹوائلٹس میں خفیہ کیمروں کے لیے روزانہ کھوج

A member of Seoul's hidden camera hunting squad, and a police women, inspect a bathroom for spy cameras تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خفیہ کیمروں کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں مقرر ہیں

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے عوامی ٹوائلٹس میں خفیہ کیمروں کے لیے روزانہ جانچ کی جائے گی۔

جنوبی کوریا میں بیت الخلا اور لباس تبدیل کرنے کے کمروں میں خفیہ کیمروں کا نصب کیا جانا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جہاں گذشتہ برس جاسوس کیمروں سے بننے والی پورن ویڈیو کے 6000 واقعات سامنے آئے۔

یہ ویڈیو عموماً آن لائن اپ لوڈ کر دی جاتی ہیں جن کے بارے میں متاثرہ خواتین کو علم بھی نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں

ٹرائل روم میں خفیہ کیمرہ: ’کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے‘

رواں برس کے آغاز میں دسیوں ہزار خواتین نے ان خفیہ کیمروں کے خلاف احتجاج کیا جس کے دوران ایسے پیغامات اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ’میری زندگی تمہارے لیے پورن نہیں ہے۔‘

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ خواتین مسلسل اس خوف میں جی رہی ہیں کہ کہیں کسی خفیہ کیمرے اس ان کی عکس بندی کا فلم بندی نہ کی جا رہی ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ان خفیہ کیمروں کے خلاف خواتین کے احتجاج بھی کیا

ان خفیہ کیمروں کا نشانہ بننے والے افراد میں 80 فیصد خواتین ہیں۔

خبررساں اداے ژنہوپ کے مطابق سیول میں موجود عوامی ٹوائلٹ کا اب تک مہینے میں ایک بار معائنہ کیا جاتا تھا۔

تاہم اب ان ٹوئلٹس کی صفائی کرنے والے عملے کو بھی روزانہ ان کیمروں کے لیے جانچ کرنا ہوگی۔

اس سے پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس کام میں ملوث افراد کو پکڑنا مشکل ہے کیونکہ وہ کیمرہ نصب کرنے کے پندہ منٹ بعد اسے ہٹا بھی سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ South Korea police

گذشتہ برس خفیہ کیمروں سے منسلک جرائم کے لیے 5400 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ان میں سے بھی محض دو فیصد کو جیل ہوئی۔

ژنہوپ کے مطابق 50 حکومتی اہلکاروں کو خاص طور پر خفیہ کیمروں کی تلاش کے لیے مختص کیا گیا لیکن دو سال میں انہیں کوئی کیمرہ نہیں ملا۔

اسی بارے میں