شام کیمیائی حملے کی تیاری کر رہا ہے، امریکہ کی تبنیہ

Hudhayfa al-Shahad tries an improvised gas mask in Idlib, Syria September 3, 2018 تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ادلب میں لوگ کیمیائی حملے سے بچنے کے لیے خود ساختہ ماسک استمعال کر رہے ہیں

شام کے لیے امریکہ کے نئے ایلچی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے بیشتر شواہد موجود ہیں کہ شام کی حکومت ادلب میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کی تیاری کر رہی ہے۔

جم جیفری کا کہنا تھا کہ باغیوں کے زیرِ اختیار آخری بڑے علاقے پر یہ متوقع حملہ پہلے سے جاری بحران کو بڑھائے گا۔

شامی حکومت کیمیائی ہتھیاروں کے استمعال سے بارہا انکار کرتی رہی ہے۔

ایسے میں جب فوجی حملے کے لیے اکٹھے ہو رہی ہیں روسی طیاروں نے شمال مغربی خطے میں بمباری بھی کی ہے۔

یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران میں ترکی، روس اور ایران کے رہبماؤں کے درمیان جمعے کو ایک اجلاس ہو رہا ہے۔ ایران اور روس شامی صدر بشارالاسد کے حمایتی ہیں جبکہ ترکی بعض باغی گروپوں کے ساتھ ہے۔

اسی بارے میں

اعالمی ماہرین کو دوما تک رسائی دی جائے گی: روس

شام پر دوبارہ حملے کے لیے پوری طرح تیار ہیں: صدر ٹرمپ

شام پر حملے سے کیا حاصل ہو گا؟

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ باغیوں کا صفایا کرنے کی کوشش میں انسانی بحرانی پیدا ہوگا اور ترکی کو اپنی سرحدوں پر پناہ گزینوں کی دوبارہ آمد کا خدشہ ہے۔

اپنی تقرری کے بعد پہلے انٹرویو میں جم جیفری کا کہنا تھا ’مجھے پورا یقین ہے اور میں مضبوط بنیادوں پر یہ تنبیہ جاری کر رہا ہوں۔‘

’کسی بھی قسم کا حملہ ہمارے نزدیک قابلِ اعتراض ہے اور بحرن کو بڑھانے کے مترادف ہے۔ اس بات کے کئی شواہد ہیں کہ کیمیائی ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں۔‘

تاہم انھوں نے ان شواہد کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

سفارتی اقدامات کا مطالبہ

امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے پیر کو خبردار کیا تھا کہ کسی بھی کیمیائی حملے کی صورت میں واشنگٹن شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں کو جواب دے گا۔

شامی حکومت کی تردید کے باوجود اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں سے بچاؤ کی تنظیم کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ شامی حکومت نے اپریل سنہ 2017 میں بھی جنوبی ادلب کے ایک قصبے پر اعصاب شکن کیمیائی حملے کیے۔ جس میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ادلب کی آبادی شام کے دیگر علاقوں سے نقل مکانی کر کے آنے والے افراد کے باعث پہلے ہی بڑھ چکی ہے

جم جیفری کا کہنا تھا کہ سات سال سے جاری اس خانہ جنگ کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر سفارتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صد ٹرمپ نے نیا عہد کیا ہے کہ جب تک دولتِ اسلامیہ کو شکست نہیں ہوتی اور شام میں حکومت کے حامی ایرانی جنگجو واپس نہیں چلے جاتے امریکہ شام کے تنازع سے الگ نہیں ہوگا۔

جم جیفری کا کہنا تھا کہ ’شامی صدر بشارالاسد کا بحیثیت حکمران کوئی مستقبل نہیں۔ لیکن انہیں عہدے سے ہٹانا واشنگٹن کا کام نہیں ہے۔‘

چونکہ شام کے بیشتر علاقوں باغیوں کو شکست ہو چکی ہے اس لیے ادلب پر ممکنہ حملہ شام میں سات سال سے جاری خانہ جنگی کا آخری بڑا معرکہ ہوگا۔

ایک اندازے کے مطابق ادلب میں 30000 باغی اور جہادی موجود ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق ادلب میں 29 لاکھ لوگ آباد ہیں جن میں 10 لاکھ بچے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کہ مطابق اس حملے سے کم از کم آٹھ لاکھ افراد بے گھر ہوں گے اور اس کی وجہ سے پہلے سہی امداد کے مستحق لاتعداد افراد کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ ہو جائے گا۔

اسی بارے میں