سعودی عرب میں اب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مضحکہ خیز مواد شائع کرنا جرم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سعودی عرب میں حکام نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مضحکہ خیز مواد شائع کرنے پر قید اور جرمانے کی سزا کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب کے پراسیکیوٹرز کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مذہبی اقدار، عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچانا، اکسانا یا امن وامان میں خلل ڈالنا اور مذاق اڑانا کو قابل سزا جرم تصور کیا جائے گا اور یہ مواد شائع کرنے پر پانچ برس تک قید اور آٹھ لاکھ ڈالرتک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب میں پراسیکیوٹرز سائبر قوانین کے تحت حکومت کے ناقدین کے خلاف کارروائیاں کر چکے ہیں تاہم حالیہ اعلان کے تحت سوشل میڈیا کے صارفین مضحکہ خیز مواد شائع کرنے پر مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔

گذشہ برس سعودی حکام نے بظاہر اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا جس میں اطلاعات کے مطابق خواتین کے حق کے لیے کام کرنے والی درجنوں کارکنوں، حقوق انسانی کے کام کرنے والے کارکنوں اور بااثر مذہبی رہنماؤں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

گرفتار کیے جانے والے مذہبی رہنماؤں میں سے سب سے نمایاں سلمان العودة ہیں جن کے ٹویٹر پر ایک کروڑ 40 لاکھ سے فالورز ہیں۔

منگل کو سعودی عرب میں حقوق انسانی کے کارکنوں اور سلمان العودة کے خاندان کا کہنا ہے کہ پراسکیوٹرز چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف ریاض میں جاری مقدمے میں انھیں سزائے موت سنائی جائے۔

حقوق انسانی کے کارکنوں کے مطابق 61 سالہ سلمان العودة کو گذشتہ سال ستمبر میں قطر کے ساتھ اچھے تعلقات کے حق میں ٹویٹ کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر حکمرانوں کے خلاف اکسانے اور بغاوت کو پھیلانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ریاض:خاتون سمیت پانچ کارکنان کے لیے ’سزائے موت کی سفارش‘

سعودی خواتین کے حقوق کے لیے خفیہ ریڈیو سٹیشن

سفارتی کشیدگی: ’سعودی عرب سے معافی نہیں مانگیں گے‘

سعودی عرب میں ’مذہبی مبلغ سفر الحوالی گرفتار‘

رواں برس جولائی میں ہی حکام نے بااثر مذہبی مبلغ سفر الحوالی اور ان کے تین بیٹوں کو گرفتار کیا تھا اور برطانیہ میں مقیم حقوق انسانی کے سعودی کارکنوں کا کہنا تھا کہ یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت کی گئی ہیں جب سفر الحوالی نے ایک کتاب شائع کی ہے جس میں سعودی عرب کے شاہی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

سعودی حکام نے گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں نہیں بتایا ہے تاہم کہا جا رہا ہے کہ حالیہ گرفتاریاں ملک میں حقوق انسانی کے کارکنوں، مذہبی رہنماؤں اور دیگر کے خلاف کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں۔

خیال رہے کہ جون میں ملک میں خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی ختم ہونے سے چند ہفتے قبل سعودی حکام نے خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم سات خواتین وکلا کو گرفتار کیا تھا۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ان خواتین کو غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ روابط کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تاہم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکام خواتین کو خاموش کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں