پانچ بیش قیمت اشیا جو اب تک لاپتہ ہیں

جوتے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مشہورِ زمانہ فلم 'وزرڈ آف آز' کی ہیروئن جوڈی گارلینڈ نے شوٹنگ کے دوران جو جوتے پہنے تھے، وہ چوری ہونے کے 13 برس بعد اب بازیاب ہو گئے ہیں۔

یہاں سوال اٹھتا ہے کہ وہ کون سی مشہور اور بیش قیمت چیزیں ہیں جو اب بھی گمشدہ ہیں؟

اسی بارے میں

پیرس کے مشہور ہوٹل میں ڈکیتی، زیورات چوری

انڈیا: ہیرے جڑا سونے کا لنچ باکس چوری

سیزان کی پینٹنگ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

31 دسمبر 1999 کو آکسفرڈ میں نئے سال کی تقریبات جاری تھیں کہ کوئی شہر کے ایشمولین میوزیم میں داخل ہوا اور شہرہ آفاق فرانسیسی مصور سیزان کی ایک پینٹنگ اٹھا کر چلتا بنا۔

یہ پینٹنگ 1879 اور 1882 کے درمیان بنائی گئی تھی اور اس کی مالیت 30 لاکھ پاؤنڈ کے لگ بھگ ہے۔ اس کے چور کا آج تک سراغ نہیں لگ سکا اور نہ ہی تصویر کا کچھ پتہ چل پایا ہے۔

تاریخی تلوار

یہ تلوار جاپان کے ماہر کاریگر ماسامونے نے 14ویں صدی میں تیار کی تھی اور اسے 1939 میں قومی خزانہ قرار دیا گیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ یہ تلوار آہنی خود کو دو حصوں میں کاٹ سکتی تھی اور اپنی لمبی تاریخ کے دوران یہ بادشاہوں اور سپہ سالاروں کے استعمال میں رہی ہے۔

لیکن آج کوئی نہیں جانتا کہ یہ تلوار کہاں ہے۔

بعض لوگوں کے خیال میں شاید دوسری جنگِ عظیم میں جاپان کی شکست کے بعد اسے امریکی فوجی ساتھ لے گئے تھے، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

نایاب وائلن

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آسٹریا کی وائلن نواز ایریکا مورینی ان کے والد نے 1939 میں1727 میں بنائے جانے والا بیش قیمت سترادیواریس وائلن تحفے میں دیا۔

اکتوبر 1995 میں جب مورینی کی عمر 91 برس تھی، یہ وائلن ان کے گھر سے چوری ہو گیا۔

مورینی اس واقعے کے چند دن بعد فوت ہو گئیں لیکن انھیں آخر وقت تک 35 لاکھ ڈالر مالیت کے وائلن کی چوری کا پتہ نہیں چلا۔

ٹنوں سونا

تصویر کے کاپی رائٹ PA

29 نومبر 1983 کو لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ کے قریب ایک سکیورٹی کمپنی کے گودام پر ڈاکہ پڑا اور تین ٹن سونا لوٹ لیا گیا۔ اس وقت اس کی مالیت دو کروڑ 60 لاکھ پاؤنڈ تھی۔

یہ برطانوی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ تھا۔

کچھ عرصے بعد باتھ شہر میں اس سونے کی ایک معمولی مقدار کو پگھلا کر بیچنے کی کوشش کرنے والا ایک شخص پکڑا گیا، لیکن پولیس کی سرتوڑ کوشش کے باوجود سونے کے بڑے حصے کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

میوزیم سے کوڑے دان تک

سپائیڈر مین کی طرح دیواروں پر چڑھنے والے ایک چور نے مئی 2010 میں پیرس کے میوزیم آف ماڈرن آرٹ کو نشانہ بنایا۔

ویئرن ٹومک نامی اس چور نے پکاسو، ماتیس، اور دوسرے عظیم فنکاروں کی پانچ پینٹنگز چوری کیں اور بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن اس کے پاس سے پینٹنگز نہیں ملیں۔

اس نے پولیس کو بتایا کہ اس نے پینٹنگز کوڑے دان میں پھینک دیں تھیں، تاہم پولیس کو شک ہے کہ وہ بیرونِ ملک منتقل کر دی گئی ہیں۔

لیکن کہاں؟ یہ کوئی نہیں جانتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں