پہلی حجاب پوش طالبہ مِس انگلینڈ کے مقابلۂ حسن کے فائنل میں

تصویر کے کاپی رائٹ MISS ENGLAND
Image caption سارہ افتخار حجاب کے ساتھ ناٹِنگھم شائر میں ہونے والے مِس انگلینڈ کے فائنل میں پہنچیں

مِس انگلینڈ کے مقابلۂ حسن کے فائنل تک پہنچنے والی پہلی حجاب پوش مسلم خاتون قانون کی طالبہ ہیں۔

سارہ افتخار نے ہڈرزفیلڈ، ناٹِنگھم شائر میں ہونے والے اس مقابلے میں انچاس خواتین کو پیچھے چھوڑا۔ تاہم فائنل میں وہ ایلیشا کووی سے مات کھا گئیں۔

اس سے پہلے وہ مِس ہڈرزفیلڈ رہ چکی ہیں۔

مِس انگلینڈ کے فائنل تک پہنچنے کو انھوں نے حیرت انگیز قرار دیا۔

سارہ کی عمر بیس برس ہے۔ پاکستانی لباس میں ملبوس وہ اکثر اپنی تصاویر انسٹاگرام پر شیئر کرتی ہیں۔

بچپن سے میک اپ کی دلدادہ سارہ کہتی ہیں، 'مجھے تاریخ رقم کرنے کی توقع نہیں تھی۔ اب مجھے فخر ہے۔

'آخر کو اس مقابلے میں حجاب پہننے والی میں پہلی عورت ہوں۔ ویسے میں عام سی عورت ہوں اور اس مقابلے میں سب کو برابر کے مواقع میسر آئے تھے۔'

سارہ کا، جو میک اپ آرٹسٹ بھی ہیں، کہنا تھا کہ انھوں نے تو یوں ہی لطف اندوز ہونے کے لیے مقابلے میں حصہ لیا تھا۔

'اگر میں اپنا بدن پوشیدہ رکھتی ہوں اور سادہ لباس پہنتی ہوں تو اس میں مسئلہ کیا ہے۔ میں بھی مقابلے کے دوسرے شرکا کی طرح ہوں۔

'میرا مقصد مقابلۂ حسن میں شرکت کے لیے دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔'

'ہر کوئی حسین ہے'

بچوں کے لیے چندہ جمع کرنے ایک رفاہی تنظیم، بیوٹی وِد اے پرپز، کے پیج پر سارہ افتخار نے لکھا: 'مِس 2018 کے مقابلے میں میں یہ دکھانے کے لیے شریک ہوئی کہ حسن کسی ضابطے کا پابند نہیں۔ سب ہی بلا لحاظِ وزن، نسل، رنگ اور جسامت کے اپنے اپنے انداز میں حسین ہیں۔'

اپنے انسٹاگرام پر انھوں نے لکھا کہ مِس انگلینڈ کے فائنل میں پہنچنے کے جو مواقع میسر آئے ان کے لیے وہ ہمیشہ شکرگزار رہیں گی۔

مقابلے کے دیگر قابلِ ذکر شرکا میں سوفی ہال، جن پر لندن میں تیزاب پھنکا گیا تھا اور جس کے داغ اب بھی موجود ہیں، اور نفسیاتی صحت کی کارکن سارہ جین ہولیئر شامل تھیں۔

مقابلہ جیتنے والی ایلیشا کووی عالمی مقابلۂ حسن میں انگلینڈ کی نمائندگی کریں گی۔ یہ مقابلے اس سال دسمبر میں چین میں منعقد ہوں گے۔

اسی بارے میں