نصف مدتی انتخابات میں امریکی صدر ٹرمپ کو مشکلات کا سامنا

صدر ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ کی جماعت کو نصف مدتی انتخابات میں مشکلات کا سامنا ہے

امریکہ میں اس سال نومبر میں ہونے والے نصف مدتی انتخابات میں گو صدر ٹرمپ کا نام ووٹوں کی پرچیوں پر نہیں ہو گا لیکن اس انتخابی معرکے سے ان کی باقی ماندہ مدتِ صدارت کی سمت کا تعین ہو گا۔

ان نصف مدتی انتخابات میں امریکی رائے دہندگان 36 سینیٹر، 36 ریاستوں کے گورنر اور امریکی پارلیمان کے ایوانِ زیریں ایوان نمائندگان کے تمام 435 ارکان کا انتخاب کریں گے۔ اس کے علاوہ مقننہ کے درجنوں مقامی عہداروں کا انتخاب بھی کریں گے۔

یہ الیکشن اس لحاظ سے انتہائی اہم ہیں کہ اگر حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی ایوان بالا یعنی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ ان پالیسیوں اور منصوبوں پر عمل درآمد کو مشکل بنا سکتی ہے جن پر صدر ٹرمپ اپنے آخری دو برس میں عمل کرنا چاہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سینیٹ میں درجنوں ایسی نشستیں ہیں جن پر تبدیلی متوقع ہے اور ان نشستوں کی اکثریت حزب اقتدار رپبلکن جماعت کے پاس ہیں۔

ایوان نمائندگان میں اس کی تمام نشستوں پر مقابلہ ہو گا۔

سینیٹ کے انتخابات میں رپبلکن کی پوزیشن نسبتاً بہتر ہے کیونکہ ان کے پاس جو نشستیں ہیں ان میں سے صرف نو پر انتخاب ہو رہا ہے جبکہ اس کےمقابلے ڈیموکریٹ پارٹی کے پاس جو نشستیں ہیں ان میں سے 24 پر انتخاب ہو گا۔ اس کے علاوہ دو ایسی نسشتیں بھی ہیں جن پر ڈیموکریٹ پارٹی کی حمایت کرنے والے آزاد ارکان منتخب ہو ئے تھے اور اس مرتبہ ان کی نشستوں پر بھی انتخاب ہو رہا ہے۔

یہ انتخاب اصل میں صدر ٹرپم پر ریفرنڈم کے مترادف ہے۔

نصف مدتی انتخابات اصل میں صدر کے بارے میں ریفرنڈم تصور کیے جاتے ہیں اور حزب اقتدار کی جماعت کے لیے اکثر بری خبر ہی لے کر آتے ہیں۔

امریکی سیاست میں 1934 سے 21 نصف مدتی انتخابات ہو چکے ہیں اور ان میں تین مرتبہ صدر کی جماعت یا حزب اقتدار صرف تین مرتبہ ایوان نمائندگان میں اور پانچ مرتبہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کر سکی ہے۔

عام طور پر صدر کی جماعت یا حزب اقتدار سیٹیں ہار جاتی ہے۔

صدر کی مقبولیت اکثر درست طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صدر کی جماعت کی کارکردگی کیسی رہے گی۔ اس وقت صدر ٹرمپ کی مقبولیت 40 فیصد کے آس پاس ہے جو تاریخی طور پر کم ہے۔

اس کا اگر موازنہ سابق صدر اوباما سے کیا جائے تو ان کی مقبولیت کی شرح 45 فیصد تھی۔ 2010 کے نصف مدتی انتخابات میں اور انھیں امریکی سیاسی تاریخی میں سب سے بری شکست ہوئی تھی۔

الیکشن سے قبل عمومی پولنگ جس میں رائے دہنگان یہ بتاتے ہیں کہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے، اس کے نتائج بھی رپبلکن جماعت کے لیے کچھ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹ کو دس فیصد کی سبقت حاصل ہے جو اس سال کے شروع ہونے کے بعد سے انتہائی بلند سطح پر ہے۔

مستعفی ہونے والے رپبلکن ارکان کی تعداد بھی اس مرتبہ غیر معمولی ہے۔

کانگریس کے ارکان کی اوسط عمر 60 سال ہے، لہذا ارکان کا ریٹائر ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ لیکن جتنی بڑی تعداد میں رپبلکن ارکان نے نصف مدتی انتخاب لڑنے سے معذرت کی ہے وہ لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث ہیں۔

30 سے زیادہ رپبلکن ارکان نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے اور بہت سے مستعفی ہو گئے ہیں، کچھ کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام ہے اور کچھ دیگر منتخب عہدوں میں حصہ لینے جا رہے ہیں۔

بہت سے چھوڑنے والے شدید سیاسی تناؤ اور صدر ٹرمپ کو اپنے فیصلے کی وجہ بتاتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نے سی این این کو بتایا کہ 'مجھے لگتا ہے میں صرف ٹرمپ کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کی وضاحت کرتا رہتا ہوں، بجائے اس کے میں صحت اور ٹیکس کی پالیسیوں کے بارے میں جواب دوں۔'

خواتین بڑی تعداد میں انتخابی میدان میں

ڈیموکریٹ پارٹی میں صدر ٹرمپ کی وجہ سے شامل ہونے والوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ہے اور اس سال سب سے زیادہ خواتین امیدواروں کو میدان میں اتار رہی ہے۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے پرائمری انتخابات میں ڈیڑھ ہزار امیدواروں نے حصہ لیا۔ پچھلے نصف مدتی انتخابات کے مقابلے میں پانچ سو زیادہ جن میں ساڑھے تین سو خواتین امیدوار شامل ہیں۔

خواتین امیداور کی تعداد میں اچھے خاصے اضافے کی وجہ سے مبصرین نے اس سال کو خواتین کا سال کہنا شروع کر دیا ہے جو 1992 کے نصف مدتی انتخاب کی طرف ایک اشارہ ہے جس میں کانگریس میں خواتین کی تعداد دگنی ہو گئی تھی۔

آج بھی امریکی کانگریس میں خواتین کی شرح صرف 20 فیصد ہے اور اس کی وجہ خواتین کی سیاست میں عدم دلچسی بتائی جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ جیسے شخص جس پر خواتین کو جنسی ہراسانی اور ان کے خلاف نازیبا کلمات ادا کرنے جیسے الزامات ہیں، اس کے ہاتھوں ہلیری کلنٹن کی شکست کے بعد خواتین میں ایک تحریک پیدا ہوئی ہے۔

نصف مدتی انتخابات میں صدارتی انتخابات کے مقابلے میں جوش و خروش کم ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے ووٹ ڈالنے کا تناست بھی کم رہتا ہے۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات میں 60 فیصد لوگ حصہ لیتے ہیں جبکہ نصف مدتی انتخابات میں صرف 40 فیصد لوگ ووٹ ڈالتے ہیں۔ 2014 میں یہ شرح کم ہو کر 35.9 فیصد رہی گئی تھی جو دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والے تمام نصف مدتی انتخابات میں مقابلے میں سب سے کم ہے۔

جن انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب جب کم ہوتا ہے تو عموماً اس کا فائدہ رپبلکن پارٹی کو ہوتا ہے کیونکہ عمر رسیدہ اور سفید فام لوگ زیادہ ووٹ ڈالتے ہیں۔

ڈیموکریٹ پارٹی کو امید ہے کہ نوجوانوں، خواتین اور اقلتیوں میں صدر ٹرمپ کے خلاف پائے جانے والے جذبات کی وجہ سے اس سال نصف مدتی انتخابات میں پولنگ کی شرح زیادہ ہو گی۔

اس سال مارچ میں ٹیکسس میں ڈیموکریٹ پارٹی کے پرائمری انتخابات میں دس لاکھ زیادہ ووٹ پڑے تھے جو چار سال پہلے کے مقابلے میں دو گنی شرح ہے۔

اس کے باوجود یہ رپبلکن کے مقابلے میں 15 لاکھ کم ہے۔ ٹیکسس شاید ڈیموکریٹ کی پہنچ سے اب بھی دور ہو لیکن دوسری ریاستوں میں اگر یہی شرح رہی تو نتائج بدل سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات