ٹریزا مے نے برطانوی آئین کو خود کش جیکٹ پہنا دی ہے: بورس جانسن کی بریگزٹ پر کڑی تنقید

بورس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سابق برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے ملک کی وزیراعظم ٹریزا مے کے بریگزٹ منصوبے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے برطانوی آئین کو خودکش جیکٹ پہنا کر اس کا ڈیٹونیٹر برسلز کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔

بورس جانسن نے یہ بات اتوار کو میل آن لائن میں ایک آرٹیکل میں لکھی۔

انھوں نے کہا کہ چیکر ڈیل نے برطانیہ کے لیے دائمی سیاسی بلیک میلنگ کی راہ ہموار کر دی ہے۔

بورس جانسن نے رواں برس جولائی میں اس وقت کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا جب کابینہ نے اس معاہدے کی منظوری دی تھی۔

لیکن بہت سے ٹوری ارکانِ پارلیمان نے مضمون میں بورس جانسن کی جانب سے اپنائی گئی زبان پر تنقید کی ہے۔

اسی بارے میں

بریگزٹ کا فیصلہ، اب آگے کیا ہو گا؟

جب برطانوی وزیر اعظم رو پڑیں

علیحدگی کا آغاز: بریگزٹ کا خط یورپی اتحاد کے حوالے

ٹرمپ کو ’چیلنج‘ کرنے سے نہیں ڈروں گی: برطانوی وزیر اعظم

اسی اخبار میں حالیہ سیکریٹری خارجہ جریمی ہنٹ نے لکھا کہ لوگ وزیراعظم کے پلان میں ان کی حمایت کریں۔

یہ مسٹر جانسن کی اپنی اہلیہ مرینا سے طلاق کی تصدیق کے بعد ان کا عوامی سطح پر پہلا تبصرہ ہے۔

اس اعلان سے قبل ایک اخبار میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ لندن کے سابق میئر کا کسی کے ساتھ افیئر چل رہا ہے۔

سنہ 2004 میں مسٹر جانسن کو شیڈو وزیر کے عہدے سے اس وقت کے کنزرویٹو پارٹی کے رہنما مِچل ہاورڈ نے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ اس وقت ان پر یہ الزام تھا کہ ان کا صحافی پیٹرونیلا وائٹ سے افیئر ہے۔

دی سنڈے ٹائمز کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مسز مے کے معاونین نے 4000 الفاظ پر مشتمل ’نازیبا دستاویز‘ لکھی تھی۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اس نے وہ دستاویز دیکھی ہے جسے کنزروٹیو لیڈرشپ کے مقابلے کے وقت تحریر کیا گیا تھا تاہم ڈاؤننگ سٹریٹ کے حکام اور پارٹی کے ہیڈکوارٹر نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

تضحیک

اپنے آرٹیکل میں مسٹر جانسن نے الزام عائد کیا کہ یورپی یونین برطانیہ کو دھمکا رہی ہے لیکن انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ برطانیہ اس کا ردعمل اتنا کمزور کیوں دے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجائے ایک فیاضانہ فری ٹریڈ ڈیل لینے کے برطانیہ ’یس سر، نوسر،‘ کہہ رہا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ اب تک مذاکرات کی ہر سطح پر برسلز نے جو چاہا وہ حاصل کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ تضحیک ہے۔‘

ان کے خیال میں اس سب کی وجہ شمالی آئرلینڈ ہے اور نام نہاد ’بیک سٹاپ‘ کا جنون ہے۔

بیک سٹاپ سلیوشن برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان دسمبر 2017 میں طے پانے والے معاہدہ ہے جس کا مقصد سرحد پار تعاون برقرار رکھنا، جزیرے کی تمام معیشت میں مدد اور گڈ فرائیڈے امن معادے کی پاسداری کرنا شامل ہے۔ بورس جانسن کا کہنا ہے کہ اس پر رضامندی سے ہم نے سیاسی طور پر ہمیشہ کے لیے بلیک میل ہونے کا راستہ کھول دیا ہے۔

قابل نفرت

کنزرویٹو پارٹی ک دو سینیئر ارکانِ پارلیمان نے جانسن کی تحریر اور مداخلت پر تنقید کی ہے۔

سابق فوجی افسر اور خارجہ امور کی کمیٹی کے رکن ٹام ٹوجینڈ ہیٹ نے اپنی ٹویٹ میں خودکش حملے کے بعد کا منظر پیش کیا۔

انھوں نے لکھا کہ ایک خودکش بمبار نے ہلمند میں میرے دفتر کے احاطے میں بہت سے لوگوں کو مار ڈالا۔ یہ خون خرابہ بہت قابل نفرت تھا۔ اعضا اور چیتھڑے درختوں اور جھاڑیوں میں لٹک رہے تھے۔ وہ بہادر شخص جس نے اسے مجھے مارنے سے روکا ناقابل برداشت تکلیف سے مر گیا۔ کسی کو سمجھدار ہونے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کا خودکش بمبار سے موازنہ کرنا مذاق کی بات نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

وزارت خارجہ میں وزیر سر ایلن ڈنکن نے اپنے سابق باس پر تنقید کی اور کہا کہ یہ جدید برطانوی سیاست کے بدترین لمحات میں سے ایک ہے۔

’بورس کا وزیراعظم کو خودکش بمبار کے طور پر دیکھنا حد سے زیادہ ہے۔ یہ جدید برطانوی سیاست کے بدصورت ترین لمحات میں سے ایک ہے۔ معاف کیجیے گا لیکن یہ بورس کی سیاست کا خاتمہ ہے۔ اگر ابھی نہیں مجھے یقین ہے کہ کچھ بعد میں ہو جائے گا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں