امریکہ کا پی ایل او کا دفتر بند کرنے کا حکم، انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے خلاف پابندیوں کی دھمکی

پی ایل او تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ نے واشنگٹن میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کا دفتر بند کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے ساتھ اس نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (جرائم کی بین الاقومی عدالت) کے خلاف پابندیوں کی دھمکی بھی دی ہے۔

فلسطین کا سفارتی دفتر بند کرنے کے متعلق اس کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں مدد نہیں کر رہے جبکہ آئی سی سی کے متعلق اس نے کہا ہے کہ اگر بین الاقوامی ادارہ امریکیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتا ہے تو وہ اس کے خلاف پابندیاں عائد کرے گا۔

انٹرنیشنل کرمنل کورٹ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قیدیوں کی بدسلوکی کے متعلق مقدمہ چلانے پر غور کر رہی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے امن کی کوششوں میں امریکہ کے ساتھ شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل صائب عریقات نے اس امریکی اقدام کو ’خطرناک بڑھاوا‘ قرار دیا ہے۔

یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

’اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت میں لے جائیں گے‘

فلسطینی عوام کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نمائندوں پر مشتمل فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے سنہ 1994 میں اپنا دفتر کھولا تھا۔

دوسری جانب امریکی صدر مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کرنے والے ہیں لیکن فلسطینی حکام نے ان کے وفد کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کی وجہ دسمبر میں امریکی صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES EUROPE

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کا دفتر کیوں بند کیا جا رہا ہے؟

پیر کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست اور با معنی مذاکرات شروع کرنے کے لیے قدم نہیں اٹھائے ہیں۔‘

’فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے اس امریکی امن منصوبے کی مذمت کی ہے جسے انھوں نے ابھی دیکھا بھی نہیں اور امریکی حکومت کے ساتھ امن کی کوششوں کے لیے کام کرنے سے بھی انکار کیا ہے۔‘

بیان میں انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں اسرائیل کی جانب سے مبینہ بین الااقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے بارے میں فلسطین کی کوششوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

گذشتہ سال امریکی محکمہ خارجہ نے فلسطین لبریشن آرگنائزشین کو خبردار کیا تھا کہ اگر فلسطینی رہنما ایسا کرتے رہے تو ان امریکی قوانین کے تحت ان کا دفتر بند کیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فلسطین کا ردعمل

امریکہ کی جانب سے اس اقدام کے بعد فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل صائب عریقات نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس خطرناک بڑھاوے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی نظام کو توڑ کر اسرائیلی جرائم اور فلسطینی عوام کے ساتھ ساتھ ہمارے خطے کے امن اور سکیورٹی کے خلاف حملوں کو بچانا چاہتا ہے۔‘

’ہم اس بات کو دہراتے ہیں کہ فلسطینی عوام کے حقوق برائے فروخت نہیں، اور یہ بھی کہ ہم امریکی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے اور ہم آزادی، انصاف اور خود مختاری کے لیے قانونی کوشش جاری رکھیں گے، ہر ممکنہ سیاسی اور قانونی طریقے سے۔‘

صائب عریقات نے اس بات پر اسرار کیا کہ فلسطینی انٹرنیشنل کرمنل کورٹ سے مکمل تحقیقات کرانے کا مطالبہ دہراتے رہیں گے۔

تاہم تاحال اسرائیل حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے خلاف ناراضی کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آئی سی سی کا قیام سنہ 2002 میں عمل میں آیا تھا اور اس کا صدر دفتر ہیگ میں قائم کیا گیا تھا

یہ عدالت فی الحال افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قیدیوں کی بدسلوکی کے متعلق مقدمہ چلانے پر غور کر رہی ہے۔

امریکہ میں قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے عدالت کو ہی 'ناجائز' قرار دیا ہے اور عہد کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا۔

امریکہ ان درجنوں ممالک میں شامل ہے جس نے سنہ 2002 میں قائم ہونے والی عدالت میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی۔

بین الاقوامی عدالت سے جان بولٹن کی ناراضگی کی دو واضح وجوہات ہیں۔

ان میں سے ایک آئی سی سی کے وکیل فاتو بن سودا کی جانب سے گذشتہ سال کی جانے والی درخواست ہے جس میں انھوں نے افغانستان میں مبینہ جنگی جرائم کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جس میں ان جرائم کا بھی احاطہ کیا جائے جو امریکی فوجی اور انٹیلیجنس نے کیے ہیں۔

دوسری وجہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی جانب سے غزہ اور مقبوضہ غرب اردن میں مبینہ انسانی حقوق کی پامالی کے لیے اسرائیل پر آئی سی سی میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ ہے۔ اسرائیل اس قدم کو سیاست زدہ قرار دیتا ہے۔

مسٹر بولٹن نے کہا امریکی انتظامیہ کی جانب سے واشنگٹن میں فلسطینی سفارتی مشن کو بند کرنے کے فیصلے کے پس پشت یہ بھی ایک وجہ ہے۔

اسی بارے میں