کم جونگ کا ٹرمپ کو جذبات سے بھرپور خط، دوبارہ ملاقات کی خواہش کا اظہار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان نے جون میں سنگاپور میں ملاقات کی تھی

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھا ہے جس میں انھوں نے امریکی صدر سے جون میں ہونے والی ملاقات کے بعد ایک بار پھر ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے مطابق امریکہ نے اس دعوت نامے پر کام شروع کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز کا کہنا ہے کہ 'یہ بہت جذبات سے بھرپور خط' تھا اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ 'شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کے عزم میں سنجیدہ ہے۔'

جون میں سنگاپور میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد سے مزید کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

سنگاپور میں ’ہاتھ ملانے‘ کے یاد گار لمحات

’کم سے ایمانداری سے لگی لپٹی رکھے بغیر بات ہوئی‘

’ٹرمپ کِم ملاقات ہاتھ ملانے سے زیادہ کچھ نہیں‘

ملاقات سے قبل توقع سے زیادہ تیزی سے پیش رفت: امریکہ

'اس خط کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دوبارہ ملاقات کی درخواست کی جائے اور اس بارے میں وقت کا تعین کیا جائے کہ یہ ملاقات کب ہو سکتی ہے۔ ہم اس درخواست کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اس سلسلے میں ہم نے کام شروع کر دیا ہے۔' البتہ سارہ سینڈرز نے اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیا کہ یہ ملاقات کب ہو گی۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان نے اس خبر کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ 'کورین خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا اہم ترین معاملہ ہے جسے امریکہ اور شمالی کوریا کو آپس میں بات چیت کے ذریعے ہی حل کرنا ہوگا۔'

جنوبی کوریا کہ صدر مون جے ان کا کردار جون میں ہونے والی ملاقات میں نہایت اہم رہا ہے اور وہ خود اپنے شمالی کوریائی ہم منصب سے اگلے ماہ ملاقات کرنے والے ہیں۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں بی بی سی کی نامہ نگار لارا بکر کہتی ہیں کہ مون جے ان خود کو ایک ثالث کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور انھوں نے دونوں رہنماؤں کو دلیری سے اقدام اٹھانے کے لیے کہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوجی پریڈ میں شمالی کوریا نے اپنے فوجی، ٹینک اور دیگر اسلحے کی نمائش تو کی تھی لیکن اس میں بین البراعظمی میزائل شامل نہیں تھے

امریکی ترجمان سارہ سینڈرز نے شمالی کوریا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ہفتے وہاں ہونے والی فوجی پریڈ 'جوہری ہتھیاروں کے بارے میں نہیں تھی'۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کی پالییسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے شمالی کوریا کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔

واضح رہے کہ فوجی پریڈ میں شمالی کوریا نے اپنے فوجی، ٹینک اور دیگر اسلحے کی نمائش تو کی تھی لیکن اس میں بین البراعظمی میزائل شامل نہیں تھے۔

صدر ٹرمپ نے خود بھی اس پریڈ کی تعریف کی اور ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ 'یہ شمالی کوریا کی جانب سے بہت بڑا اور مثبت قدم ہے۔ بہت شکریہ چئیرمین کم۔ ہم سب کو غلط ثابت کر دیں گے۔'

جون میں ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے معاہدہ کیا تھا کہ کہ کورین خطے کو جوہری ہتھیاروں سے صاف کیا جائے لیکن اس بارے میں کوئی ٹائم لائن نہیں دی تھی اور نہ ہی اس کے طریقے کار پر کوئی بات کی تھی۔

اسی بارے میں