سری لنکا: مندروں میں جانوروں کی قربانی پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کچھ ہندو مندروں میں بھگوان کو خوش کرنے کے لیے بکریوں، بھینسوں اور مرغیوں کی قربانی دیتے ہیں

سری لنکا کی حکومت نے ملک کے ہندو مندروں میں جانوروں اور پرندوں کی رسمی قربانی پر پابندی عائد کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔

ایک حکومتی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس پابندی کی تجویز ہندو مذہبی امور کی وزارت نے دی تھی اور ہندوؤں کے متعدد اعتدال پسند گروہوں نے اس کی حمایت کی ہے۔

کچھ ہندو مندروں میں بھگوان کو خوش کرنے کے لیے بکریوں، بھینسوں اور مرغیوں کی قربانی دیتے ہیں۔

سری لنکا میں بدھ مت کے پیرو کاروں کی اکثریت نے اس طرز عمل کے خلاف کئی برسوں کے احتجاج کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے جہاں ناقدین اسے غیر انسانی کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سری لنکن مسلمانوں کے خلاف تشدد کی لہر کیوں؟

سری لنکا میں مسلمانوں کے خلاف حملوں کی وجوہات

سری لنکا: مسلمانوں پر حملوں کے بعد ہنگامی حالت نافذ

مسلمانوں پر حملوں کے الزام میں بودھ رہنما گرفتار

سری لنکا میں ہندو اور مسلمان اپنے مذہبی تہواروں کے موقع پر جانور قربان کرتے ہیں جس پرجانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں اور چند بدھ مت گروہ ناراض ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption سری لنکا میں ہندو اور مسلمان اپنے مذہبی تہواروں کے موقع پر جانور قربان کرتے ہیں

اس طرز عمل کے خلاف احتجاج کرنے والے متعدد ہندو جانور قربان نہ کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تاہم اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی مذہبی آزادیوں پر پابندی عائد کرنے کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسی قربانیاں ان کے عقیدے کا ایک قدیم حصہ ہیں جنھیں ہر صورت جاری رہنا چاہیے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کی جانب سے دی جانے والی جانوروں کی قربانی دینے کا احاطہ نہیں کرے گا جو سری لنکا میں تیسرا سب سے بڑا مذہبی گروپ ہے۔

سری لنکا میں حالیہ برسوں کے دوران مذہبی تشدد میں دیکھنے میں آیا ہے۔ مارچ میں مسلمان مخالف تشدد میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ان کے تقریباً 450 گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں