اسرائیلی جارحانہ ایران مخالف پالیسی کے تین بنیادی نکات

ایرانی مظاہرین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسرائیل نے اپنی 'نو کمنٹ' کی پالیسی توڑتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس نے گذشتہ دو برسوں میں شام میں ایرانی اہداف پر دو سو سے زائد حملے کیے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے عراق شام میں 2013 کے بعد سے خفیہ طریقے سے کم از کم 12 شامی باغی تنظیموں کو مسلح کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے لیے صحافی اور تجزیہ کار میثم بہروش نے لکھا ہے کہ اطلاعات کے مطابق جب بشار الاسد کی حکومت نے گولان کی پہاڑیوں کے مشرقی حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا تو اسرائیل نے بھی شام میں اسلحے اور پیسے کی ترسیل بند کر دی۔

اسی بارے میں بی بی سی سے مزید

’ایران نے ہم پر حملہ کیا تو یہ شامی صدر کا اختتام ہو گا‘

ایران شام اور لبنان میں میزائل فیکٹریاں بنا رہا ہے: اسرائیل

’اسرائیل کا دمشق میں حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو پر حملہ‘

اسرائیل کی اس حکمتِ عملی کا نام 'اچھا ہمسایہ آپریشن' ہے جس کا مقصد ایران مخالف شامی تنظیموں کو تقویت دینا ہے تاکہ ایران نواز دھڑوں کو اسرائیل کی سرحدوں کے قریب اڈے بنانے کا موقع نہ مل سکے۔

دوسری طرف اسرائیل شام کے اندر ایران اہداف پر فضائی حملوں میں تیزی لایا ہے۔

یہ اسرائیلی پالیسی میں نمایاں تبدیلی ہے۔ اس سے قبل اسرائیل شام میں ایرانی موجودگی کو کسی حد تک گوارا کرتا رہا تھا، لیکن اب اس نے 'صفر برداشت' کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔

اس کے خطے پر دور رس اور دیر پا اثرات مرتب ہوں گے۔

اسرائیل کو ایک عرصے سے تشویش رہی ہے کہ اس کی سرحد کے قریب ایران سرگرم ہے اور وہ اسرائیل کے ازلی دشمن حزب اللہ کو جدید ترین ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ IMAGESAT INTERNATIONAL NV/REUTERS
Image caption اسرائیل کا الزام ہے کہ ایران شام میں میزائل فیکٹریاں تیار کر رہا ہے

اس تشویش میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب دسمبر 2016 میں بشار الاسد نے روس اور ایران کی مدد سے حلب شہر پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس سے دولتِ اسلامیہ کی جنگی صلاحیت کو سخت دھچکہ پہنچا اور ایران کو اپنی توجہ شام کے دوسرے علاقوں پر مرکوز کرنے اور اسرائیلی سرحد کے قریب اپنے فوجی موجودگی بڑھانے کا موقع مل گیا۔

اس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اپریل میں شامی میڈیا نے خبر دی تھی کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے حمص کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا ہے جہاں مبینہ طور پر ایران کے پاسدارانِ انقلاب ایک ڈرون یونٹ چلا رہے تھے۔

اس حملے سے پاسدارانِ انقلاب کے سات فوجی ہلاک ہو گئے۔ اسرائیل نے اس حملے کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

مئی میں بن یامین نتن یاہو نے کہا تھا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ شام میں کسی بھی جگہ ایران فوج کی موجودگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ برس اسرائیل نے دمشق کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا تھا

جون میں ابو کمال کے علاقے میں ایک اور اسرائیلی حملے میں کئی ایران نواز جنگجو مارے گئے۔ اس حملے کا الزام پہلے امریکہ پر لگا تھا تاہم ایک امریکی عہدے دار نے سی این این کو بتایا تھا کہ اس کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا۔

صحافی اور تجزیہ کار میثم بہروش کے مطابق اسرائیل کے اس جارحانہ ایران مخالف پالیسی کے تین بنیادی نکات ہیں:

اول

اسرائیل کو نہ تو ٹرمپ انتظامیہ پر اعتماد ہے کہ وہ شام میں ایرانی موجودگی کے بارے میں کچھ کر سکے گی اور نہ ہی وہ روس سے امید رکھ سکتا ہے کہ وہ شام میں ایران کو روکنے میں کوئی کردار ادا کرے گا۔

ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ شام سے امریکی فوجوں کو جلد از جلد نکالنا چاہتے ہیں۔

دوم

شام میں ایرانی موجودگی سنی عرب ملکوں کے لیے بھی سخت تشویش کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شام کے مسئلے پر اسرائیل اور سعودی عرب اور عرب امارات کے خیالات یکساں ہیں۔ یہ نئے تعلقات اسرائیل کے لیے بہت اہم ہیں اور انھیں نتن یاہو خوش آئند قرار دے چکے ہیں۔

سوم

اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ ایران کے عزائم توسیع پسندانہ ہیں اور وہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بالادستی چاہتا ہے۔

ایران کی جانب سے اسرائیل کی ’مکمل تباہی‘ کے اعلانات اور ایرانی حمایت یافتہ کمانڈروں کے اسرائیل لبنان سرحد پر پریڈ سے ان خدشوں کو مزید ہوا ملی ہے۔

اس کے جواب میں ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے حالیہ مہینوں میں عراق میں شیعہ دھڑوں کو بیلسٹک میزائلوں سے لیس کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے ایک عہدے دار نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو اس کا 'بیک اپ پلان' ہے، البتہ ایران نے سرکاری طور پر اس کی تردید کی تھی۔

دوسری طرف امریکی پابندیوں کے بعد ایرانی معیشت کے مزید سکڑنے کا امکان ہے۔ اس ماحول میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی سے ایرانی حکمران ملکی معیشت کی بدحالی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عوامی بےچینی سے توجہ ہٹانے کے لیے کوئی بھی انتہاپسندانہ قدم اٹھا سکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر شام کا مسئلہ حل ہو بھی جائے تب بھی مشرقِ وسطیٰ پر چھائے کشیدگی کے بادل آسانی سے چھٹنے والے نہیں۔

اسی بارے میں