شمالی کوریا میزائل ٹیسٹ سائٹ کو بند کر دے گا: صدر مون

Moon Jae-in (left) and Kim Jong-un تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر کم جونگ اُن نے بھی امید ظاہر کی کہ وہ جلد سیول کا دورہ کریں گے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ یہ کرنے والے پہلے شمالی کوریائی صدر ہوں گے۔

جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے میزائل لانچ اور ٹیسٹ کرنے کے ایک مرکز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ملاقات کے بعد صدر مون نے کہا کہ انھوں نے کم جونگ اُن کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے حوالے سے لائحہِ عمل پر اتفاق کر لیا ہے۔

صدر مون نے اس معاہدے کو جزیرہ نما کوریا پر امن کی جانب پیش رفت قرار دیا۔

ادھر صدر کم جونگ اُن نے بھی امید ظاہر کی کہ وہ جلد سیول کا دورہ کریں گے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ یہ کرنے والے پہلے شمالی کوریائی صدر ہوں گے۔

دونوں کوریائی ممالک کے درمیان ریلوے رابھوں کا بھی منصوبہ ہے جس کے ذریعے جنگ کی وجہ سے بچھڑے ہوئے خاندانوں کو دوبارہ ملایا جا سکے گا اور عوامی صحت کے معاملے پر دونوں ممالک تعاون کر سکیں گے۔

صدر کم کا دورہِ سیول

پیانگ یانگ میں معاہدے پر دستخط کے بعد بات کرتے ہوئے صدر مون نے بتایا کہ صدر کم نے ٹونگ چانگ۔ری میزائل انجن ٹیسٹ اور میزائل لانچ سائٹ کو متعلقہ ممالک کے ماہرین کی موجودگی میں مستقل طور پر بند کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ صدر کم نے یونگ بیون سائٹ بھی بند کرنے کی حامی بھری ہے تاہم صرف اس وقت جب امریکہ کوئی ایسا ہی جوابی اقدام کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر مون نے اس معاہدے کو جزیرہ نما کوریا پر امن کی جانب پیش رفت قرار دیا۔

دونوں ممالک 2032 کے اولمپک مقابلوں کی میزبانی کی مشترکہ کوشش بھی کریں گے۔

جنوبی کوریا کے وزیرِ دفاع اور شمالی کوریا کی فوج کے سربراہ نے بھی اس موقعے پر عسکری تناؤ کم کرنے کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کیے۔

یاد رہے کہ یہ معاہدے صدر مون کے شمالی کوریا کے تین روزہ دورے کے دوران کیے گئے ہیں۔

اگرچہ گذشتہ ایک دہائی میں کسی جنوبی کوریائی رہنما کا یہ پیانگ یانگ کا پہلا دورہ ہے، تاہم صدر مون کی صدر کم سے اپریل کے تاریخی اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد سے یہ تیسری ملاقات ہے۔

اس سال شمالی کوریا نے جنوبی کوریا اور امریکہ کے ساتھ غیر معمولی ملاقاتوں میں حصہ لیا ہے۔

تاہم امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان جوہری ہتھیاروں کے حذف کی کوششیں مانند پڑ گئی تھیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جنوبی کوریا ثالث کا کردار جاری رکھے گا۔

جون میں شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان ایک تاریخی اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں صدر ٹرمپ اور صدر کم کے درمیان جوہری ہتھیاروں کو حذف کرنے کے حوالے سے سطحی اتفاق کر لیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جون میں شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان ایک تاریخی اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں صدر ٹرمپ اور صدر کم کے درمیان جوہری ہتھیاروں کو حذف کرنے کے حوالے سے سطحی اتفاق کر لیا گیا تھا۔

تاہم اس کے بعد سے اس معاملے میں زیادہ پیش رفت نہیں دیکھی گئی اور نہ ہی اس کا مخصوص لائحہِ عمل یا وقت کا تعین کیا گیا ہے۔ بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے اس حوالے سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے ہیں۔

دوسرے جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اور صدر کم سب کو غلط ثابت کر دیں گے اور اس وقت دونوں ممالک ایک اور صدارتی سطح کے اجلاس کو منعقد کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اسی بارے میں