کیا ریت کے اربوں کھربوں ذرے بھی کم پڑ سکتے ہیں!

Burj Khalifa building تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرّہِ ارض پر اس وقت سب زیادہ سے بلند عمارت برج الخلیفہ: اس کی تعمیر پر لاکھوں ٹن ریت استعمال ہوئی، لیکن یہ ریت متحدہ عرب امارات کہ صحرا سے حاصل نہیں کی گئی بلکہ اسے آسٹریلیا سے درآمد کیا گیا تھا۔

دنیا کی اس وقت سب سے زیادہ بلند عمارت دبئی میں برج الخلیفہ(828 میٹرز اونچائی)، کو جب سیاح دیکھنے آتے ہیں تو انھیں اس کی تعمیر کے بارے میں دلچسپ اور اہم اعداد و شمار سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی تعمیر میں تین لاکھ 30 ہزار مکعب میٹر ریت سے تیار کی گئی کنکریٹ استعمال ہوئی۔ ایک صحرا میں گھرے ہونے کی وجہ سے متحدہ عرب امارت کو ریت کی دولت سے مالا مال ہونا چاہیے؟ کیا یہ صحیح ہے؟

جی نہیں، یہ غلط ہے۔

امریکہ کی یونیورسٹی میساچیوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں بین الاقوامی تجارت کے اعداد و شمار جمع کرنے والا ادارہ آبزرویٹری آف اکنامکس کمپلیکسیٹی کے مطابق متحدہ عرب امارت دراصل ریت درآمد کرتا ہے۔ جی ہاں، ایک ملک جس کا سارا رقبہ صحرا ہے اُسے ریت درآمد کرنا پڑتی ہے۔

جو ریت امارت میں بے انتہا مقدار میں میسر ہے وہ تعمیرات کے لیے موزوں نہیں ہے۔ برج الخلیفہ کے لیے استعمال ہونے والی ریت آسٹریلیا سے درآمد کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں غیر قانونی طور پر ریت نکالنے کیلئے اب طاقت ور گینگز بن چکے ہیں جو اپنے مخالفین کو طاقت کے زور پر کچل دیتے ہیں۔

بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دنیا میں ریت لامحدود مقدار میں موجود ہے، اس لیے یہ بات عجیب سی لگے گی کہ دنیا میں ریت کی کمی کا بحران پیدا ہونے والا ہے۔ ماہرین دیکھ رہے ہیں کہ ریت کمیاب ہوتی جارہی ہے۔

نئی ریت کہاں سے آئے گی؟

کنکریٹ بنانے کے علاوہ بھی ریت کئی اور اشیا کے بنانے میں خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر شیشہ بنانے میں بھی گرم ریت کے ذرات کو استعمال کیا جاتا ہے۔ پانی کو صاف کرنے والے پلانٹ بھی کثافتیں الگ کرنے کے لیے ریت استعمال کرتے ہیں۔

مختلف اقسام کی ریت کئی مصنوات تیار کرنے میں کلیدی خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ مثلاً کپڑے دھونے کا سوڈا، کاسمیٹکس، ٹوتھ پیسٹ، شمسی توانائی کے پینلز اور سیلیکون چِپس۔ حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’دی ورلڈ اِن اے گرین: دی سٹوری آف سینڈ اینڈ ہاؤ اِٹ ٹرانسفارمڈ سویلائیزیشن‘ کے مصنف صحافی وِنس بائیزر کہتے ہیں کہ ہماری دنیا ’مکمل طور پر ریت سے بنی ہوئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس وقت دنیا بھر میں تعمیراتی منصوبوں پر 40 ارب ٹن ریت سالانہ استمعال ہو رہی ہے جو اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ریت کے نئے ذرائع سے حصول کے لحاظ سے کہیں زیادہ ہے

بائیزر نے ریت کے موضوع پر کئی مقالے لکھے ہیں جن میں ریت کی بلیک مارکیٹ کے بارے میں بھی معلومات موجود ہیں۔

اُن کی تحقیق کے مطابق، مراکش جیسے کچھ ممالک ہیں جہاں ریت کی غیر قانونی کان کُنی ہوتی ہے جو دنیا کی صنعت میں کافی مقدار میں استعمال ہوتی ہے۔

کئی ممالک کے ایسے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جن کے مطابق وہاں ریت کی وجہ سے لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، یا ان پر تشدد کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ بعض جگہوں پر تو قتل بھی ہوئے ہیں۔ تاہم اب بھی ریت نکالنے کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی ایک بھاری قیمت کرۂ ارض اور اس کے باسی مستقبل میں ادا کریں گے۔

ریت کے استعمال کی سب سے بڑی وجہ شہری علاقوں کی تعمیر میں اضافہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2050 دنیا میں شہری علاقوں میں رہنے والی آبادی 54 فیصد سے بڑھ کر 66 فیصد ہو جائے گی۔ 1950 میں شہری علاقوں میں ساڑھے سات کروڑ لوگ رہتے تھے، لیکن یہ آبادی اب تقریباً چار ارب ہو چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دنیا میں چار ارب افراد شہری علاقوں میں رہتے ہیں

اب یہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ اِن لامحدود ذرّات کی طلب شاید اتنی بڑھ جائے کہ اُن کی بھی کمی ہو جائے۔

2014 میں اقوام متحدہ ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی ایک رپورٹ کے محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت تعمیراتی منصوبوں میں ریت کا سالانہ استعمال 40 ارب ٹن ہے۔ جو ریت کی مسلسل سپلائی کے بارے میں ایک انتباہ ہے۔

اس وقت دنیا میں تعمیرات میں پانی کے بعد جو خام مال سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، وہ ریت ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق جتنی مقدار میں ریت استعمال ہو رہی ہے، اتنی نئے ذرائع سے حاصل نہیں رہی۔

ریت کی اتنی بڑی مقدار کا حصول حیاتیاتی نظام کے تنوع، پانی کی ماہیت اور زیرِ زمین سطح پانی پر کافی زیادہ حد تک اثر انداز ہوئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ پھر اس کے حصول کی وجہ سے سماجی، اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی حالات میں بھی تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption متحدہ عرب امارات کے صحراؤں کی ریت تعمیرات کی لیے موزوں نہیں ہے، اور امارت ہی اس ریت کا بہت بڑا صارف ہے

کئی جگہوں پر، مثلاً انڈیا میں، ایسے گینگ بن گئے ہیں، جو ریت کو غیر قانونی طریقے سے نکالتے ہیں اور مخالفت کرنے والوں کو طاقت سے کچل دیتے ہیں۔

انڈیا کے حکام پر یہ الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ ریت نکالنے کی صنعت سے وابستہ استحصال کیے جانے والے مزدوروں کی مدد نہیں کرتے ہیں۔

اربوں ڈالر کا کاروبار

غیر قانونی طور پر ریت نکالنے کی سادہ سی وجہ ہے اور وہ یہ کہ اس میں منافع بہت ہے۔

اقوام متحدہ کے تجارت کے اعداد و شمار جمع کرنے والے ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ریت کے کاروبار کا حجم 70 ارب ڈالرز ہے، اور دنیا بھر میں اس وقت ریت کی قیمت پچھلے 25 برسوں میں چھ گُنا بڑھ چکی ہے۔ چین اور سنگاپور جیسے ممالک کو تو اب اُتنی ریت مل بھی نہیں رہی ہے جتنی ان کو درکار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنگاپور نے سب سے زیادہ نئی زمین سمندر سے نکال کر اس پر تعمیرات کی ہیں، اس وجہ سے وہ سب سے زیادہ ریت درآمد کرنے والا ملک ہے

ہم عموماً دیکھتے ہیں کہ ہر ساحل پر ریت کی لا محدود مقدار ہے اس لئے ہم یہ سوچتے بھی نہیں ہیں کہ ریت کی کبھی کمی بھی ہو سکتی ہے چہ جائیکہ کہ ہم ریت کے نکالنے کے عمل کے ماحولیاتی اور بشریاتی اثرات پر غور کریں۔

جرمن سینٹر فار انٹیگریٹو بائیو ڈائیورسٹی کی ایک ماہرِ ماحولیات ارورا ٹورز کہتی ہیں: ’خاص طور پر ایسے ماحول میں جب ریت نکالنے کی قیمت بہت کم ہے اور اس تک رسائی لامحدود ہے۔‘

اس وقت سنگاپور ریت سب سے زیادہ درآمد کرنے والا ملک ہے۔ اس کی وجہ اس کی چار دہائیوں سے سمندر سے زمین نکالنے کی پالیسی ہے جس کے دوران تعمیرات بے انتہا ہوئی ہیں، یعنی تقریباً 130 مربع کلو میٹرز۔

ہمسایہ ممالک کی جانب سے ریت کی برآمد معطل کیے جانے کے باوجود سنگاپور میں تعمیرات کے منصوبے ہیں۔ ان ممالک کے ریت کی برآمد معطل کیے جانے کے اعتراضات میں ماحولیاتی اثرات سے لے کر جہاز رانی کے راستوں کے سیاسی اثرات اور سرحدی تنازاعات بھی شامل ہیں۔

امریکہ کے ارضیاتی سروے اور انٹرنیشنل سیمینٹ ریویو کے مطابق، چین نے 2011-13 کے دوران بڑے پیمانے پر تعمیرات کے دور میں کنکریٹ (ظاہر ہے ریت بھی) سب سے زیادہ استعمال کی جو کہ امریکہ کی پچھلی پوری صدی کی تعمیرات کے دوران استعمال ہونے والی ریت سے زیادہ تھی۔ تاہم دنیا کی اس دوسری بڑی معیشت نے ریت کو اونچی اونچی عمارتوں اور سڑکوں کی تعمیر میں استعمال کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تجارتی ذرائع کہتے ہیں کہ چین میں دو برسوں میں اتنی ریت استعمال ہوئی جتنی امریکہ نے پوری ایک صدی میں استعمال کی تھی۔

چین نے بحیرۂ جنوبی چین میں چھوٹے چھوٹے سپراٹلی جزائر پر تعمیرات کی ہیں اور نئی زمین حاصل کی ہے، ان جزائر کی حاکمیت بھی متنازع ہے، چین ان جزائر پر اپنی حاکمیت کا دعویدار ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ممالک حقیقت میں اپنی سرحدیں تبدیل کر سکتے ہیں۔ چین نے بڑے بڑے جالوں (ڈریجز) کا دنیا کا سب سے بڑا فلیٹ تیرا کر لیا ہے۔ بائزر کے مطابق: ’اس کا مطلب یہ ہے کہ چین اپنی اس طاقت سے سمندر کے میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ مٹی کو اکٹھا کر کے ایک نیا جزیرہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

ایم آئی ٹی اور او ای سی کے مطابق ریت کو درآمد کرنے والے بڑے ممالک
ممالک ریت کی درآمدات کے تخمینے
1. سنگاپور 9.7 فیصد
2. بیلجئیم 4.8 فیصد
3. کینیڈا 8.2 فیصد
4. ہالینڈ 6.9 فیصد
5. جرمنی 4.8 فیصد
6. چین 4.3 فیصد

لیکن ریت کے اس طرح نکالے جانے کے بہت زیادہ ڈرامائی اثرات ہو سکتے ہیں۔ انڈونیشیائی حکام نے بتایا ہے کہ اس طرح ریت کے نکالے جانے یا کان کنی کیے جانے کی وجہ سے کٹاؤ پیدا ہوا اور ایک جزیرہ آہستہ آہستہ غائب ہو گیا۔

ایم آئی ٹی اور او ای سی کے مطابق ریت کو برآمد کرنے والے بڑے ممالک
ممالک ریت کی برآمدات کے تخمینے
1. امریکہ 17 فیصد
2. آسٹریلیا 9.5 فیصد
3. جرمنی 8.6 فیصد
4. ہالینڈ 7.6 فیصد
5. بیلجئیم 6.9 فیصد
6. چین 3.9 فیصد

زیادہ کان کُنی بھی ساحلی اور دریائی علاقوں میں بھی سیلاب کے امکانات بڑھ جاتے ہیں خاص طور پر ایسے حالات میں جب پانی کی سطح بلند ہورہی ہے۔

سائنس نامی میگیزین میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں ارورا ٹورز اور ان کی ساتھی محققین لکھتی ہیں کہ انھیں ایسے شواہد ملے ہیں کہ 2004 کی سونامی کی سری لنکا میں تباہی میں زیادہ شدت کی وجہ وہاں کے ساحلوں سے ریت کا نکالا جانا بھی ایک وجہ تھی۔ اس سونامی میں صرف سری لنکا میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ ریت کے نکالے جانے کی وجہ سے سن 2004 کی سونامی نے سری لنکا کے ساحلوں پر زیادہ تباہیں مچائی تھی۔

لیکن ستم ظریفی دیکھیے کے اس سونامی کے بعد کی ساحلی علاقوں کی تعمیرِنو کی کوششوں نے ریت کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا۔

ماحولیاتی خطرات

ریت کے نکالے جانے کی وجہ سے جو زمین پر پستی پیدا ہوتی ہے اور جو کٹاؤ نظر آتا ہے اس سے پانی اور خوراک کی کمی کے خطرات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ٹورز کا کہنا ہے کہ اس کہ نتیجے میں مچھلیاں کم ہو سکتی ہیں اور زراعتی زمین کے معیار میں کمی ہو سکتی ہے۔

انھوں نے ثبوت کے طور پر ویت نام کے میکانگ ڈیلٹا کی مثال دی ہے جو جنوب مشرقی ایشیا کے لیے خوراک کے حصول کا سب سے بڑا خطہ ہے۔ اس خطے میں زیادہ کان کُنی کی وجہ سے خشک موسم میں سمندر کا نمکین پانی زمین میں سرایت کر جاتا ہے۔

’اس سے پینے کے پانی کی سپلائی خراب ہوتی ہے، اور قابلِ کاشت زمینیں سیم اور تھور کا شکار ہو جاتی ہیں، ان کی وجہ سے براہ راست پیداوار پر برا اثر پڑتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ویت نام کا میکانگ ڈیلٹا جنوب مشرقی ایشیا کے لیے خوراک کا بہت بڑا ذریعہ ہے، لیکن یہ ریت کے نکالے جانے کے عمل کی وجہ سے اب خطرات سے دوچار ہے

کچھ اور تحقیقات کے مطابق جن جگہوں پر کان کنی کی گئی یا ریت نکالی گئی وہاں بیماریوں کے پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایران میں دریاؤں سے ریت نکالے جانے کی وجہ سے جو گہری جگہیں بنیں ان میں کھڑے پانی کے جوہڑ مچھروں کی افزائیشِ نسل کی آماج گاہیں بنیں اور ملیریا پھیلنے کے خطرات بڑھے۔

حیوانات اور نباتات کی کمی کی وجہ سے حیاتیاتی نظام کے تنوع پر بھی برے اثرات پیدا ہوئے۔ برازیل میں ریت کے نکالے جانے کا سلسلہ ریو ڈی جینیریو کے قریب کے گھنے جنگلات تک جا پہنچا اور اسے امیزون کے جنگلات میں نقصان کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا جا رہا ہے۔

اور امریکی ریاست کیلیفورنیا، جو ساحلوں پر تیراکی اور سرفنگ کے لیے مشہور ہے، اُس کے ساحلوں پر ریت کے نکالے جانے اور کان کنی کی وجہ سے کٹاؤ پیدا ہوا ہے۔ سائنس دانوں کا خدشہ ہے کہ کٹاؤ اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے شاید 2100 تک کیلیفورنیا کے 70 فیصد ساحل اس حالت میں نہ رہیں جیسے کہ وہ اب ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سمندر کے پانی کی بلند ہوتی ہوئی سطح کی وجہ سے خدشہ ہے کہ 2100 تک کیلیفورنیا کے 70 فیصد موجودہ ساحل غائب ہوجائیں گے

اس کے علاوہ امریکی شہر ہیوسٹن میں 2017 کے اگست کے مہینے میں آنے والے سیلاب سے بہت تباہی تو آئی تھی لیکن دریائے سین جیسینٹو میں ریت نکالے جانے کی وجہ سے اس تباہی و بربادی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا تھا۔

پُرتگال میں 2001 کے درائے ڈی آؤرو پُل کے گر جانے کے حادثے کی وجوہات میں ایک ریت کا نکالا جانا بتایا گیا ہے۔ اس حادثے میں 59 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ارورا ٹورز کہتی ہیں کہ ’میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی یہ کہہ سکے کہ کب دنیا میں ریت ختم ہوجائے گی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اس کے بارے میں نہ سوچیں کیونکہ یہ لامحدود ہے۔ ہمیں ریت کے نکالے جانے کے عمل پر زیادہ سے زیادہ تحقیق کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ریت کے نکالے جانے کے اثرات کے بارے میں ہم اپنے سوالات کے زیادہ سے زیادہ جوابات ڈھونڈ سکیں۔

’تاہم ہمارے پاس اس وقت اتنے شواہد ضرور ہے جس کی بدولت ہم کہہ سکیں کہ ہمیں ماحول کے تحفظ کے کچھ تو کرنا چاہیے۔‘