چین: محکمۂ تونائی کے اویغور سربراہ کے خلاف بدعنوانی کے الزام کی تفتیش

ور برقی چین کے سنکیانگ صوبے کے سابق گورنر بھی ہیں۔ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ور برقی چین کے سنکیانگ صوبے کے سابق گورنر بھی ہیں۔

چین میں مبینہ بدعنوانی کے الزام میں ملک کے توانائی کے محکمے کے سربراہ کے خلاف تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

محکمہ توانائی کے سربراہ نور برقی ملک میں ان چند اویغور افراد میں سے ہیں جو کسی اعلیٰ سرکاری عہدے تک پہنچ سکے ہیں۔

چین کی انسدادِ بدعنوانی کی سرکاری تنظیم سینٹرل کمیشن فار ڈسپلن انسپکشن کا کہنا ہے کہ نور برقی کو قانون اور ’پارٹی قواعد‘ کی خلاف ورزی کے شک کی بنا پر زیرِ تفتیش لایا گیا ہے۔ ’پارٹی قواعد کی خلاف ورزی‘ کی اصطلاح عموماً بدعنوانی کو ڈھکے چھپے انداز میں بیان کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چین: مسلمانوں کی گرفتاریوں کی خبریں بے بنیاد ہیں

اویغور مسلمانوں اور چین کے درمیان جھگڑا کیا ہے

اویغوروں کو کیمپوں میں رکھنے پر اقوام متحدہ کی تشویش

واضح رہے کہ نور برقی سنکیانگ صوبے کے سابق گورنر بھی ہیں۔ سنکیانگ میں اویغور برادری بستی ہے جو مذہبی اعتبار سے مسلمان ہیں جبکہ ثقافتی اور مذہبی لحاظ سے وہ خود کو وسطی ایشیائی ممالک کے قریب سمجھتے ہیں۔

چین کی انسدادِ بدعنوانی مہم میں مختلف سطح کے تقریباً دس لاکھ چینی حکام کو سزائیں ہو چکی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس مہم میں صدر شی جن پنگ کے مخالفین کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

نور برقی ملک کی اہم اور طاقتور ترین ریاستی منصوبہ بندی کی ایجنسی نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے نائب سربراہ بھی ہیں۔

چین اور اویغور مسئلہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
اویغور برادری کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں پر اقوام متحدہ کی تشویش

حال ہی میں چین پر سنکیانگ صوبے میں اویغور مسلمان کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے حوالے سے متعدد اطلاعات سامنے آئیں اور اقوام متحدہ نے بھی اس سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا۔ تاہم چین نے ان الزامات کو سختی سے رد کیا ہے۔

چین نے اس برادری کے لوگوں کو ہراساں کرنے کی خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اویغور برادری کو مساوی شہری حقوق حاصل ہیں۔

حکام نے تسلیم کیا ہے کہ اویغور مسلمانوں کو تمام حقوق حاصل ہیں لیکن ’مذہبی انتہا پسندی کے شکار افراد کی آبادکاری اور ان کی دوبارہ تعلیم و تربیت کے ذریعے مدد کی جائے گی۔‘

سنکیانگ میں یہ صورت حال برسوں سے جاری ہے۔

گذشتہ برس چین کے سنکیانگ صوبے سے متعلق رپورٹوں کے مطابق وہاں اقلیت مسلم برادری سے کہا گیا تھا کہ وہ قرآن اور نماز میں استعمال ہونے والی دیگر اشیا کو جمع کرائیں۔

تاہم اس وقت بھی چینی حکومت نے کہا تھا کہ یہ محض افواہیں ہیں اور سنکیانگ میں سب کچھ ٹھیک ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں