جان بولٹن: ’ایران نے امریکی شہریوں کو نقصان پہنچایا تو بھاری قیمت چکانی ہوگی‘

جان بولٹن تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے امریکی شہریوں یا اتحادیوں کو کوئی تقصان پہنچایا تو تہران کو ’بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔‘

یہ بیان صدر ٹرمپ کے اقوامِ متحدہ میں خطاب کے محض گھنٹوں بعد جاری کیا گیا جس میں امریکی صدر نے ایران پر مشرقِ وسطیٰ میں افراتفری، موت اور تباہی کا بیج بونے کا الزام عائد کیا ہے۔

جان بولٹن، جو اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر بھی رہے ہیں، نے نیو یارک میں ایک ایران-مخالف کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ’تہران کے ملا‘ اپنا ’خونی راج‘ جاری رکھیں گے تو انھیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ ہمارے اتحادیوں یا ہمارے شہریوں کو نقصان پہنچائیں گے تو آپ کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘

ایرانی صدر حسن روحانی نے جواباً اپنے خطاب میں ٹرمپ انتظامیہ پر ایران کے لیے اشتعال انگیز رویہ اختیار کرنے پر تنقید کی اور امریکہ سے ایک بار پھر مذاکرات کی طرف آنے کو کہا۔

اسی بارے میں

ٹرمپ کی ایران سے تجارت کرنے والے ممالک کو دھمکی

ایران کے لیے ٹرمپ کا موقف سخت کیوں؟

صدر ٹرمپ اور صدر روحانی میں ’دھمکیوں‘ کا تبادلہ

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ دھمکیاں اور ان کے بقول ’غیر منصفانہ پابندیاں ختم کر کے مذاکرات شروع کیے جانے چاہیئں۔ ان کے بقول کسی بھی قوم کو زبردستی مذاکرات میں نہیں لایا جا سکتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کا دفاع کیا۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعوی کیا کہ ان کی انتظامیہ نے اب تک ماضی کی کسی بھی امریکی انتظامیہ کی نسبت زیادہ کام مکمل کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ان کے ان الفاظ پر اجلاس کے شرکا ہنسنے لگے جس پر جواباً ہنستے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں نے ایسے ردِ عمل کی توقع نہیں کی تھی۔‘

امریکی صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’اقوامِ متحدہ پہلے سے زیادہ مضبوط، امیر اور محفوظ ہے۔‘

انھوں نے شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بڑھانے اور چین کے ساتھ تجارتی سختی کا بھی دفاع کیا۔

ان کا ایک مرکزی تصور یہ بھی تھا کہ امریکہ کو دنیا میں اپنے راستے پر چلنے کا حق ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا ’امریکہ آپ و نہیں بتائے گا کہ آپ کیسے رہیں، کام کریں یا عبادت کریں۔ ہم صرف بدلے میں یہ چاہیے ہیں کہ آپ ہمارے استحکام کا احترام کریں۔‘

ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کیا کہا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر کا کہنا تھا ’ایرانی رہنماؤں نے افراتفری، موت اور تباہی کا بیج بویا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’انھوں نے اپنے ہمسائیوں کا احترام نہیں کیا نہ ہی قوموں کے استحکام کے حق کا۔ اس کے بجائے ایرانی رہنماؤں نے قوموں کے ذرائع کو تباہ کر دیا اور مشرق وسطی اور اس سے بھی آگے تباہی جو پھیلا دیا۔ ’

اگست میں امریکہ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرتے ہؤئے اس کے خلاف پابندیاں بحالی کر دی تھیں۔

نومبر میں امریکی پابندیوں کا دوسرا مرحلہ شروع کیا جائے گا جو ممکنہ طور پر ایران کی تیل کی برآمدات اور اس کی مرکزی بینک کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوں گی۔

اسی بارے میں