سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی پر پہلی بار خاتون نیوز اینکر سے عوام کو خوشگوار حیرت

صحافی وئام ال دخيل تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER / SAUDITV
Image caption صحافی وئام ال دخيل جنوری 2018 سے سعودی عتب کے سرکاری ٹی وی سے منسلک ہیں۔

سعودی عرب لوگوں کو اس وقت خوشگوار حیرت ہوئی جب سرکاری ٹی وی پر ایک خاتون نیوز اینکر کو خبریں پڑھتے ہوئے دیکھا۔

سعودی عرب میں پہلی بار سرکاری ٹی وی ’ سعودی ٹی وی‘ پر رات کے پرائم ٹائم پر ایک خاتون نے نیوز بلٹین شروع کیا ہے۔

صحافی وئام ال دخيل نے اپنی ساتھی مرد نیوز اینکر کے ساتھ رات ساڑھے نو بجے کے بلیٹن میں مقامی اور بین الاقوامی خبریں پڑھیں۔

اس سے پہلے سعودی عرب میں رات کو سب سے زیادہ دیکھے جانے والے نیوز بلیٹن میں مرد اینکرز ہی ہوتے تھے جبکہ خواتین موسم کی خبروں، صبح کے پروگرامز اور خواتین سے متعلق پروگرامز میں دکھائی دیتی تھیں۔

2016 میں پہلی بار ایک خاتون اینکر زومنہ ال ہاشمی نے صبح کا نیوز بلیٹن پیش کیا تھا۔

صحافی وئام ال دخيل جنوری 2018 سے سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی سے منسلک ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’نامناسب لباس‘ پہننے پر ٹی وی میزبان کے خلاف تحقیقات

سعودی عرب: خاتون کے ساتھ ناشتہ کرنے پر مصری گرفتار

ریاض:خاتون سمیت پانچ کارکنان کے لیے ’سزائے موت کی سفارش‘

سعودی عرب میں گلوکار کو گلے لگانے پر خاتون گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی عرب میں ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت متعدد ترقی پسند اصلاحات کی گئی ہیں

عرب نیوز کے مطابق وئام ال دخيل بحرین میں عرب نیوز کے لیے 2014 سے 2017 تک کام کر چکی ہیں اور کافی مقبول تھیں۔

انھوں نے ستمبر 2012 سے نومبر 2013 تک سی این بی سی عربیہ کے لیے رپورٹننگ کی۔ وئام ال دخيل نے 2011 میں لبنان کی امریکن یونیورسٹی سے جرنلزم میں گریجویٹ کیا اور انھیں عربی کے علاوہ انگلش اور فرانسیسی زبان پر عبور حاصل ہے۔

خیال رہے کہ وزارتِ کلچر کے ماتحت چلنے والے سعودی ٹی وی کو حال ہی میں دوبارہ لانچ کیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت متعدد ترقی پسند اصلاحات کی گئی ہیں جس میں خواتین کو گاڑی چلانے، سٹیڈیم میں جانے اور کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔

اسی بارے میں