ایلس ویلز: ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر مینیجمنٹ ضروری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیائی امور کی نائب سیکریٹری ایلس ویلز کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعمیری اور مثبت تعلقات چاہتا ہے۔

بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے اور اسے ایک اہم کردار ادا کرنا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ امریکہ کو پاکستان کی نئی حکومت سے کیا امیدیں ہیں، نائب سیکریٹری نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ہماری امیدیں ویسی ہی ہیں جیسی دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ ہیں۔

’ہم جنوبی ایشیا کی حکمت علمی پر مکمل طور پر کار بند ہیں کہ ہم خطے میں ’نان سٹیٹ ایکٹرز‘ یا دہشت گردوں کی ہر قسم کی کارروائیوں اور پراکسی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

’پاک امریکہ تعطل ختم، کوئی ڈو مور کا مطالبہ نہیں ہوا‘

’پاکستان طالبان کو مذاکرات کے لیے تیار کرے یا افغانستان بھیجے‘

امریکہ کی جانب سے افغانستان میں جنگ بندی کا خیرمقدم

امریکہ کا پاکستان کو ’نوٹس‘ کیا اور کتنا سنگین؟

ایلس ویلز نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں نئی حکومت کے ساتھ مل کر چلنے کا خواہاں ہے۔ عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کی حکومت کے ساتھ تعمیری اور مثبت مذاکرات کیے۔ ’ہم چاہتے ہیں پاکستان کے ساتھ تعمیری اور مثبت تعلقات کا سلسلہ جاری رہے۔‘

ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے بھی پاکستان سے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود دہشت گرد پراکسی گروپ کے محفوظ مقامات ہیں جن کا خاتمہ ضروری ہے۔

اس سوال کے جواب میں کیا پاکستان کی نئی حکومت نے امریکہ کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ یہ دہشت گرد گروپ جو افغانستان میں امریکی افواج کو نشانہ بناتے ہیں انھیں پاکستان میں پناہ نہیں دی جائے گی، ایلس ویلز نے کہا کہ ہم پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ان بیانات جن میں انھوں نے اپنے ہمسائیوں کے ساتھ امن کی بات کی ہے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ’ہم پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے ایسے کسی بھی اقدام کی حمایت کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے بھی پاکستان سے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود دہشت گرد پراکسی گروپ کے محفوظ مقامات ہیں جن کا خاتمہ ضروری ہے۔

افغانستان میں امن قائم کرنے کے حوالے سے امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے کے سوال پر نائب سیکریٹری نے کہا ’پاکستان کو خطے میں ایک ہمسائے کے طور پر بہت اہم کردار ادا کرنا ہے۔ پاکستان کو افغانستان کی اقتصادی ترقی اور استحکام کی حمایت کرنی ہے خاص طور پر افغانستان سے آنے والی اشیا کو انڈیا پہنچانے کی اجازت دینا ہے۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اقتصادی تعلقات کی بحالی سب سے زیادہ اہم ہے جس سے مشرق اور مغرب کی تجارت کو سینٹرل ایشین مارکیٹ تک رسائی ملے۔ امریکی نائب سیکریٹری کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر مینیجمنٹ کا ہونا ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ خطے میں کسی بھی کراس بارڈر دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان افغانستان میں حکومت کی عمل داری نہ ہونے کا ایڈوانٹیج اٹھا رہی ہے۔ ہم افغانستان اور پاکستان کے افغانستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔

ایلس ویلز نے کہا امریکہ کی پوری کوشش ہے اور وہ یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ افغانستان میں ملا فضل اللہ جیسے دہشت گرد گروپ کا مکمل طور پر صفایا ہو۔

امریکی نائب سیکریٹری کے مطابق خطے میں امن قائم کرنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں نے حالیہ برسوں میں تشدد کی لہر کا سامنا کیا ہے اور دونوں ممالک میں خود کش حملوں کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جس کا مکمل خاتمہ خطے کے امن کے لیے بہت ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کی کوشش ہے کہ طالبان کو امن مذاکرات کے لیے قائل کرے۔ اسی طرح پاکستان کو بھی خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرنا ہے اور افغانستان میں موجود طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے خارجہ تعلقات کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرے گا کیونکہ پاکستان کو امن کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں