مہینوں ملائیشیا کے ایئرپورٹ پر رہنے والے شامی شہری کا سفر تمام ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ Joshua Paul
Image caption حسن ال کونطار ایکواڈور اور کمبوڈیا میں بھی سیاسی پناہ کی درخواست دے چکے ہیں لیکن ناکام رہے

ملائیشیا کے ایک ایئرپورٹ پر گزشتہ سات مہینوں سے رہنے والے شامی باشندے کو وہاں سے نکال پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

حس ال کونطار اُس وقت دنیا بھر میں خبروں میں آئے جب یہ معلوم ہوا کہ وہ کوالالمپور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے میں رہ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے

شام: باغیوں کے حملے کے بعد دمشق میں شدید لڑائی جاری

’بشار الاسد کی بقا کی لڑائی ختم ہونے کو ہے‘

حسن ال کونطار لازمی فوجی ٹریننگ سے بچنے کے لیے شام سے نکل گئے تھے اور جب جنگ شروع ہوئی تو انھوں نے واپس جانے سے انکار کر دیا۔

وہ کسی دوسرے ملک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

لیکن منگل کو حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ حسن ال کونطار اب ایئرپورٹ ٹرمینل میں نہیں ہیں۔

ملائیشیا کی امیگریشن کے سربراہ مصطفیٰ علی نے اِس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ رائل ملائیشین پولیس اور امیگریشن حکام مل کر کام کر رہے ہیں۔

'ایئرپورٹ کے بورڈننگ والے حصے میں جو مسافر ہوتے ہیں انھیں اپنی اپنی فلائٹس میں جانا ہوتا ہے لیکن اِس شخص نے ایسا نہیں کیا۔ وہ ممنوع حصے میں تھا لہذا ہمیں ضروری اقدام کرنا پڑے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ پولیس کی تفتیش کے بعد شام کے اِس شہری کو امیگریشن ڈپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا جائے گا۔

'اس کے بعد ہم شام کے سفارت خانے سے رابطہ کریں گے تا کہ اِسے واپس وطن بھیجا جا سکے۔'

اِس بارے میں ابھی تک مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں ہیں اور ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کیا حالات تھے جو حسن ال کونطار کو ائیرپورٹ سے ہٹانے اور گرفتار کرنے کی وجہ بنے۔

یہ نہیں معلوم کہ اِس وقت وہ کہاں ہیں۔ اُن سے واٹس ایپ پر رابطے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔

2011 میں جب شام میں جنگ شروع ہوئی تو حسن ال کونطار متحدہ عرب امارت میں ایک انشورنس کمپنی میں ملازمت کر رہے تھے۔ انھوں نے شام میں لازمی فوجی تربیت حاصل نہیں کی تھی اِس لیے وہ اپنا نیا شامی پاسپورٹ نہیں بنوا سکے۔ وہ شام واپس نہیں جانا چاہتے تھے کیونکہ انھیں خطرہ تھا کہ یا تو انھیں گرفتار کر لیا جائے کا یا فوج میں بھرتی کر دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Joshua Paul
Image caption حسن ال کونطار لازمی فوجی ٹریننگ سے بچنے کے لیے شام سے نکل گئے تھے

لہذا وہ غیرقانونی طور پر متحدہ عرب امارات ہی میں رکے رہے اور انھیں 2016 میں گرفتار کر لیا گیا۔

بالآخر 2017 میں وہ کسی طرح اپنا نیا پاسپورٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن انھیں ڈی پورٹ کر کے ملائشیا بھیج دیا گیا۔ ملائیشیا دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو شامیوں کو ملک میں آمد پر ویزے کی سہولت دیتا ہے۔ حسن ال کونطار کو تین مہینے کا سیاحتی ویزہ دیا گیا۔

جب اُن کا یہ ویزا ختم ہوا تو انھوں نے ترکی جانے کی کوشش کی لیکن انھیں جہاز میں چڑھنے نہیں دیا گیا۔ پھر وہ کمبوڈیا چلے گئے لیکن انھیں واپس ملائیشیا بھیج دیا گیا۔ اُس کے بعد سے وہ ایئرپورٹ کے بین الاقوامی آمد والے حصے میں رہ رہے تھے۔ وہ ایئرلائن کے عملے کی جانب سے عطیہ کیے جانے والی کھانے پینے کی اشیاء پر گزارا کر رہے تھے۔

36 برس کے حسن ال کونطار کا تعلق جنوبی دمشق کے علاقے سویدا سے ہے۔ وہ ایکواڈور اور کمبوڈیا میں بھی سیاسی پناہ کی درخواست کر چکے ہیں لیکن ناکام رہے۔