کینیڈا: حجاب مذہبی علامت ہے لیکن صلیب نہیں

صلیب تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کینیڈا کے صوبے کوبیک کے نو منتخب پریمیئر کو یہ کہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ صوبائی پارلیمان میں نصب صلیب مذہبی علامت نہیں ہے۔

فرانسوا لیگو کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب صوبائی حکومت سرکاری ملازموں کے مذہبی لباس مثلاً مسلمان خواتین کا حجاب اور یہودیوں کی مخصوص ٹوپی پر پابندی لگانے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے۔

اس پر بڑے پیمانے پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا نشانہ اقلیتیں بنیں گی۔

2008 میں آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس صلیب کو پارلیمان کی عمارت سے ہٹا دینا چاہیے جو وہاں 1936 سے نصب ہے۔

تاہم کوبیک کی حکومت نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہے۔

2014 میں پارٹی کوبیکوا نامی جماعت نے ایک بل کی تجویز دی تھی جس میں تمام سرکاری ملازموں کو لباس پر نمایاں مذہبی علامات ظاہر کرنے سے روکا جائے۔

بہت سے لوگوں نے اسے اسلام اور یہود دشمنی قرار دیا تھا، تاہم حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ملک میں سیکیولرزم کا فروغ اور چرچ اور ریاست کو الگ کرنا ہے۔

گذشتہ ہفتے اقتدار میں آنے کے بعد لیگو کی حکومت نے تمام مذہبی علامات پر پابندی لگانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، کہا ہے کہ اگر کوئی سرکاری استاد ایسا کرنے سے انکار کریں تو اسے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔

تاہم صلیب کو مذہبی علامت نہ سمجھنے پر ان پر تنقید کی جا رہی ہے۔

کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو، جن کا تعلق کوبیک ہی سے ہے، کہا ہے کہ حکومت کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ خواتین سے کہے کہ وہ کس قسم کا لباس پہنیں۔

دریں اثنا اساتذہ اور دو سرے سرکاری ملازموں نے کہا ہے کہ وہ اس مجوزہ پابندی کی مزاحمت کریں گے۔

فرحین احمد ایسی ہی ایک استانی ہیں جو حجاب پہنتی ہیں۔ انھوں نے کہا: 'آ کر دیکھو کہ میری کلاس میں کیا ہو رہا ہے اور ہم کیا سکھا رہے ہیں اور کیا پڑھا کر رہے ہیں، اور کیا وہ غیرجانبدار ہے یا نہیں، بجائے یہ دیکھنے کے کہ میں نے سر پر کیا اوڑھ رکھا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ اس منصوبے کی وجہ 'جہالت اور خوف ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں