جمال خاشقجی کے معاملے پر سعودی عرب کی امریکہ کو دھمکی کیا واقعی کام کر گئی؟

جمال خشوگی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والے ممتاز سعودی صحافی جمال خاشقجی استنبول میں سعودی سفارت خانے کے دورے کے دوران لاپتہ ہو گئے

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اگر امریکی کردار کی بات کی جائے تو اس کے ساتھ کہیں نہ کہیں سعودی عرب کا ذکر ضرور ہوتا ہے اور اس کی وجہ دونوں کے خطے میں ایک دوسرے سے مفادات سے جڑا 70 سالہ اتحاد ہے۔

لیکن رواں ماہ ایسا دوسری بار ہوا ہے کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے بارے میں بات کرنے کے لیے اعلیٰ سفارتی دوروں کی بجائے میڈیا کے ذریعے بیانات تھے جس نے بظاہر تعلقات میں سرد مہری پیدا کی۔

اس ماہ کے شروع میں صدر ٹرمپ نے سعودی حکمران شاہ سلمان کو تنبیہ کی تھی کہ وہ امریکی فوج کی حمایت کے بغیر 'دو ہفتے' بھی اقتدار میں نہیں سکتے جس کے جواب میں سعودی ولی عہد نے کہا تھا کہ ان کے ملک کا وجود امریکہ کے بغیر بھی رہا ہے۔

لیکن اس بار سعودی نژاد امریکی شہری اور صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کا معاملہ زیادہ سنگین ہے کیونکہ اس بار معاملہ سعودی بادشاہ اور صدر ٹرمپ کے درمیان نہیں رہا بلکہ یہ ایک سفارتی تنازع بن گیا ہے جس میں امریکہ کے اندر سے دباؤ آ رہا ہے اور اقوام متحدہ کے ساتھ دیگر یورپی ممالک بھی سعودی عرب پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

سعودی شہزادے کا خاشقجی کے بارے میں لاعلمی کا اظہار

پومپیو کی شاہ سلمان سے ملاقات: خاشقجی کی گمشدگی پر سعودی عرب پر مزید دباؤ

سعودی شہزادے کا خاشقجی کے بارے میں لاعلمی کا اظہار

کیا جمال خاشقجی کی ایپل واچ نے سب ریکارڈ کیا؟

جمال خاشقجی گذشتہ ہفتے استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں جانے کے بعد سے لاپتہ ہیں اور اس کے بعد سے سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان کئی رابطے ہوئے ہیں جس میں دھمکی آمیز بیانات تو کبھی معاملے کو سلیقے سے سلجھانے کی اشارے ملے۔

امریکہ کی دھمکی اور سعودی عرب کا جواب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمال خاشقجی کے حق میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں

جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی موت میں سعودی عرب کا ہاتھ ہے تو وہ اسے 'سخت سزا' دیں گے۔

اس کے جواب میں سعودی عرب نے بھی جوابی کارروائی کی دھمکی دی جس میں میڈیا کے ذریعے اطلاعات سامنے آئے کہ سعودی عرب ممکنہ طور پر تیل کی ترسیل روک سکتا ہے جس سے قیمتوں میں دگنا سے بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ سٹریٹیجک اعتبار سے اہم علاقے تبوک میں روس کو اڈہ دینے پر تیار ہو سکتا ہے، ایران سے بات چیت شروع کر سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر امریکہ سے اسلحے کی خریداری روک سکتا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

جمال خاشقجی کی گمشدگی پر تحقیقات کا عالمی مطالبہ

جمال خاشقجی:’گمشدگی میں سعودی ہاتھ ہوا تو بھاری قیمت چکانا ہو گی‘

برطانیہ، امریکہ کا سعودی کانفرنس کے بائیکاٹ پر غور

لاپتہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کون ہیں؟

خیال رہے کہ امریکی اسلحے کے سب سے زیادہ خریدار مشرق وسطیٰ میں ہیں اور اسلحے کا مجموعی طور پر سب سے بڑا گاہک سعودی عرب ہے۔

امریکی رویے میں نرمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سعودی عرب کے سرکاری ذرائع کی جانب سے جوابی دھمکیوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے شاہ سلمان کے ساتھ فون پر بات کی جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی کی گشمدگی کے پیچھے کچھ 'سرکش قاتل' بھی ہو سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے دو دن پہلے کے سخت موقف میں ’نرمی‘ لاتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت اس بات سے بالکل لاعلم ہے کہ خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا اور اس کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا۔

کیا واقعی میں سعودی عرب کی دھمکی کام کر گئی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترک حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں جن سے خاشقجی کے قتل کے اشارے ملتے ہیں

اس پر ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ نفسیات جنگ کا اصول ہوتا ہے اور میڈیا پر بیانات کے ذریعے مخالف کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور اپنے عوام کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور اسی وجہ سے سفارتی تعلقات میں بالخصوص بڑی طاقتوں کی سیاست میں ایسے بیانات کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔

ڈاکٹر مہدی حسن نے میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے پر نفسیاتی دباؤ کی بات تو پاکستان کے سابق سینیئر سفارت کار عبدالباسط نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی معاملات کی بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب کو ایک دوسرے سے اہم تعلقات کی بڑی اہمیت کا احساس ہے اور اسی وجہ سے صدر ٹرمپ نے شاہ سلمان سے بات کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر امریکہ سعودی عرب کو آئندہ آنے والے سالوں میں 120 ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کر رہا ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ تجارت اور دفاع کے معاشی مفادات اہم ہیں۔

عبدالباسط کے مطابق خطے کی صورتحال میں سعودی عرب کا اہم کردار ہے اور اس وقت جب امریکہ کے ایران سے جوہری معاہدہ ختم ہونے کے بعد معاملات خراب ہیں تو امریکہ نہیں چاہے گا کہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات اس نہج پر پہنچ جائیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کو بھی اس کا بخوبی علم ہے کہ اگر امریکہ کی تیل کی ترسیل میں دلچسپی تھوڑی کم ہو بھی گئی ہے لیکن دوسرے سیاسی اور سٹریٹیجک مفادات برقرار ہیں۔

کیا وقت کے ساتھ ساتھ سعودی امریکہ تعلقات میں سردمہری آ رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اس پر ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے امریکہ کے کسی بیان کے خلاف کھل کر سٹینڈ لیا اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی پالیسی میں کچھ تبدیلی آ رہی ہے۔

کیا اس کی ایک وجہ سعودی عرب کی روس سے تعلقات میں بہتری کی کوششیں ہیں؟ اس پر ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے طویل عرصے کے بعد وہ ملک جو روس سے دور تھے وہ اب اس سے تعلقات استوار کر رہے ہیں جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے اور اگر مثال کے طور پر پاکستان کی بات کی جائے تو وہ امریکہ کے لیے کلائنٹ سٹیٹ کے طور پر کام کرتا تھا لیکن اب ایسا نہیں اور وہ روس کی جانب بھی دیکھ رہا ہے۔

امریکہ کے انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز میں جنوبی ایشیا کے امور کے مشیر معید یوسف کا کہنا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کا معاملہ ایک بڑا سفارتی مسئلہ بن گیا ہے اور لگتا ہے کہ یہ آسانی سے حل ہونے والا نہیں ہے کیونکہ اسے حل کرنا کافی مشکل ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ لگتا نہیں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہو جائیں گے لیکن اس کے ساتھ امریکہ نے سعودی عرب پر دباؤ ڈالا ہے جس کی وجہ سے معاملہ اس طرف جا رہا ہے جس میں سعودی عرب کو اب کچھ نہ کچھ تسلیم کرنا پڑے گا۔

کیا امریکہ نے اندرونی دباؤ کی وجہ سے سخت رویہ اپنایا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس پر سفارت کار عبدالباسط کے مطابق امریکہ میں آئندہ ماہ وسط مدتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور اس موقع پر صدر ٹرمپ دکھانا چاہتے ہیں کہ ان کا سعودی عرب کے ساتھ رویہ نرم نہیں ہیں کیونکہ امریکی سیاست میں یہ بڑا اہم مرحلہ ہوتا ہے جس میں صدر ٹرمپ اپنے معاشی ایجنڈے کے تناظر میں شاہ سلمان سے ٹیلی فون پر بات کو اپنے حق میں استعمال کیا کہ شاہ سلمان نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اس پر معید یوسف نے بھی اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ جمال خاشقجی امریکی ریزیڈنٹ تھے اور ترکی کے بیانات سے لگتا ہے کہ ان کے پاس کافی شواہد ہیں جبکہ دوسری جانب امریکی کانگریس کے ارکان نے اس مسئلے کو اٹھایا ہے اور اس پر اعلامیہ جاری کیا ہے جس کی وجہ سے امریکہ کے لیے بھی اس کو حل کرنا آسان نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ انسانی حقوق کا بڑا معاملہ بن گیا ہے اور جس کسی نے بھی اس کو کروایا ہے اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ کتنا بڑا معاملہ بن جائے گا۔

انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز میں مشرق وسطیٰ کے امور پر کرنے والی آرحمہ صدیقی بھی اس صدر ٹرمپ کے سخت رویے کو کانگریس اور میڈیا کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ دونوں ممالک کے خطے میں مشترکہ مفادات کی وجہ سے یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ ’طلاق ہو گی اور یہ صرف تڑی ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’چونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو نہیں بلکہ اسرائیل امریکہ کو کنٹرول کرتا ہے اور خطے میں ایران کی وجہ سے امریکہ کو سعودی عرب کی صورت میں اتحادی چاہیے جسے وہ کھونا نہیں چاہتا۔‘

اسی بارے میں