جمال خاشقجی کی ہلاکت کے معاملے پر برطرف کیے گئے جنرل احمد العسیری کون ہیں؟

جنرل عسیری کو عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبان پر عبور حاصل ہے تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل عسیری کو عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبان پر عبور حاصل ہے

17 دنوں تک شدید تردید کرنے کے بعد سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی نے سنیچر کو تصدیق کی کہ صحافی جمال خاشقجی استنبول میں سعودی قونصل خانے میں جھگڑے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ پہلا موقع تھا کہ سعودی حکام نے جمال خاشقجی کی موت تسلیم کی تھی، جو بظاہر قونصل خانے کے اندر ہونے والے 'جھگڑے اور زور آزمائی' کا نتیجہ تھی۔

یہ بھی سامنے آیا کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے دو اہم افراد نائب انٹیلی جنس چیف احمد العسیری اور رائل کورٹ کی میڈیا ایڈوائزر سعود القحطانی کو شاہ سلطان نے اس معاملے پر برطرف کر دیا ہے۔

میجر جنرل احمد العسیری کو ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی حلقے میں کلیدی فرد سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

خاشقجی خاندان: سعودی معاشرے میں جدّت کا علمبردار

’جمال خاشقجی کی موت کی سچائی کو سامنے لائیں گے‘

جمال خاشقجی: مبینہ سعودی ’ہٹ سکواڈ‘ میں کون کون شامل تھا؟

جنرل عسیری عالمی سطح پر اس وقت منظرعام پر آئے جب مارچ 2015 میں یمن کی جنگ کا آغاز ہوا۔ انھوں نے سعودی عرب اور ہمسایہ ملک یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے اتحاد کے ترجمان کا کردار ادا کیا۔

اس کے دو سال تک انھوں نے اس وقت کے وزیر دفاع اور جنگ کے معمار ولی عہد محمد بن سلمان کے قریب رہتے ہوئے کام کیا۔

سعودی ترجمان

جنرل عسیری کو عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبان پر عبور حاصل ہے اور انھوں نے یمن میں بلاامتیاز بمباری کے الزامات کے خلاف سعودی عرب کا موقف واضح دلائل کے ساتھ پیش کی اپنی صلاحیت سے صحافیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنرل عسیری نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے اتحاد کے ترجمان کا کردار ادا کیا تھا

لیکن مارچ 2017 میں دورہ لندن کے دوران وہ اس وقت اپنے اوپر قابو نہ رکھ جب ایک بین الاقوامی کانفرنس میں تقریر سے پہلے مظاہرین نے ان پر انڈے پھینکے تھے۔

اس واقعے کی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنرل عسیری کو جب ایک اڑتا ہوا انڈا لگتا ہے تو وہ مظاہرین کے جانب مڑتے ہیں اور انھیں اپنے ہاتھ کی درمیانی انگلی دکھاتے ہیں۔

اس کے کچھ عرصہ بعد ہی انھیں سعودی عرب کے سرکاری انٹیلی جنس ادارے جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کا نائب سربراہ مقرر کر دیا جاتا ہے۔

فوجی کیریئر

یہ عہدہ ایک ایسے شخص کے لیے مزید ایک اور اعزاز تھا جو سعودی عرب کی فوج میں اعلیٰ سطح پر پہلے ہی کئی اعزازات کے ساتھ پہنچا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یمن جنگ کے آغاز کے وقت محمد بن سلمان وزیر دفاع اور اس جنگ کے معمار تھے

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنرل عسیری سعودی عرب کے جنوب مغربی صوبے عسیر کی چھوٹے سے قصبے محایل سے تعلق رکھتے ہیں۔

لیکن فوج میں ان کی اٹھان غیرمعمولی رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انھوں نے مغرب کی کئی نامور فوجی اکیڈمیوں سے تربیت حاصل کی جن میں امریکہ کی سینڈہرسٹ اور ویسٹ پوائنٹ اور فرانس میں سینٹ سیر سے تربیت شامل ہیں۔

زوال

جنرل عسیری ایک ایسا شخص کے طور پر تسلیم کیے جاتے تھے جن کے پاس اپنے طور پر کوئی اہم فیصلہ لینے کا خاصا اختیار تھا لیکن جمال خاشقجی کے قتل میں ان کا کردار تاحال ایک اسرار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احمد العسیری کو جمال خاشقجی کے ہلاکت کے معاملے پر برطرف کیا گیا

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے ایک ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ انھیں مبینہ طور پر محمد بن سلمان کی جانب سے جمال خاشقجی کو سعودی عرب میں تفتیش کے لیے پکڑنے کا زبانی اختیار دیا گیا تھا۔

سنیچر کو انھیں برطرف کرنے سے پہلے، نیویارک ٹائمز نے چند روز قبل کہا تھا کہ سعودی عرب جمال خاشقجی کی گمشدگی کا الزام جنرل عسیری پر عائد کر سکتی ہے تاکہ طاقت ور ولی عہد محمد بن سلمان پر کسی قسم کا الزام نہ آئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں