غزہ کا ’ڈیوڈ‘: وہ مشہور تصویریں جو دنیا بھر میں احتجاج کی علامت بن گئیں

تین روز قبل غزہ میں ابو عمرو نامی ایک فلسطینی شخص کی یہ تصویر دنیا بھر میں وائرل ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے۔ ایسی ہی چند تصاویر جنھیں دنیا بھر کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔

ابو عمرو نے ایک ہاتھ میں فلسطین کا جھنڈا اٹھا رکھا ہے جب کہ دوسرے میں غلیل ہے۔ فوٹوگرافر مصطفیٰ حسونہ کی اس تصویر کا موازنہ مائیکل اینجلو کے مجسمے 'ڈیوڈ' اور مشہور فرانسیسی پینٹنگ 'لبرٹی لیڈنگ دا پیپل' سے کیا جا رہا ہے۔ جہاں دوسرے لوگ حفاظتی لباس پہن کر مظاہرے کے لیے آئے تھے، ابو عمرو نے قمیص بھی اتار دی۔

ابو عمرو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ٹانگوں سے معذور 29 سالہ فلسطینی صابر الاشکر 11 مئی 2018 کو بطور احتجاج اسرائیلی فوج پر گوپھن کی مدد سے پتھر پھینک رہے ہیں۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر ہزاروں بار شیئر کی گئی۔

'واپسی کے حق' کے لیے کوشاں فلسطینی

گوپھن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

1987 میں فلسطینی علاقے بیت ساحور میں ایک فلسطینی عورت کی اسرائیلی فوج پر پتھر پھینکنے کی یہ تصویر دنیا بھر میں مشہور ہوئی تھی لیکن ان کی شناخت کسی کو معلوم نہیں تھی۔ آخر 30 سال بعد انکشاف ہوا کہ ان کا نام مچلن تھا۔

سیاہ لباس اور زرد جوتوں والی فلسطینی خاتون کون تھی؟

فلسطینی عورت تصویر کے کاپی رائٹ Alfred Yaghobzadeh

چین کے دارالحکومت کے تيانانمن سکوئر میں پانچ جون 1989 کو ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں طلبہ کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ ایسوی ایٹڈ پریس کے جیف وائڈنر کی یہ تصویر دنیا بھر میں پھیل گئی جس میں ایک تنہا نوجوان ٹینکوں کے آگے تن کر کھڑا ہے۔

چینی زبان میں انقلاب برپا کرنے والے ماہر لسانیات چل بسے

تیانامن سکوئر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یہ تصویر 1968 کے اولمپک کھیلوں کی ہے جب سیاہ فام امریکی ایتھلیٹس ٹامی سمتھ اور جان کارلوس نے تقسیمِ انعامات کی تقریب میں قومی ترانہ بجنے کے دوران ہاتھ فضا میں بلند کیے جن پر سیاہ دستانے چڑھے تھے۔ ان کا مقصد امریکہ میں پائے جانے والے نسلی تعصب کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ اس تصویر کو اولمپکس کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی بیان سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ میں سفید فام نسل پرستی فروغ پا رہی ہے؟

اولمپک میڈل تقریب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

2017 میں سری نگر میں سکول کی طالبات ایک ڈگری کالج پر پولیس کے چھاپے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا، جسے منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس، پانی کی توپیں اور سٹن گنز استعمال کیں۔ طالبات نے جواب میں پولیس پر پتھر پھینکے۔

کیا کشمیر فلسطین بن جائے گا؟

کشمیری لڑکیاں تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس کے علاوہ کئی ایسی تصاویر ہیں جنھوں نے تاریخ رقم کی۔ اگر آپ کے پاس ایسی تصویروں کی کوئی مثالیں ہیں تو ہم سے بی بی سی اردو کے فیس بک پیج پر شیئر کریں۔

اسی بارے میں