جورجیا: صدارتی انتخاب میں احتجاج کا نیا انداز، ’مرچیں کھا لیں گے مگر اس کو صدر نہیں دیکھ سکتے‘

  • رایان دمتری
  • بی بی سی نیوز طبلیسی
Nika Gvaramia, head of opposition Rustavi 2 TV who initiated the challenge

،تصویر کا ذریعہRustavi 2 TV

،تصویر کا کیپشن

ٹی وی چینل رستاوی 2 کے سربراہ نیکا گورامیا نے ٹی وی پر یہ چیلنج شروع کیا

تازہ مرچیں کھانا کوئی آسان کام نہیں۔ مگر یورپی ملک جورجیا میں یہ سیاسی وفا داری کا معاملہ بن گیا ہے۔ ملک کی ایک اہم صدارتی امیدوار سالمے زورابشولی کے مخالفین نے سوشل میڈیا پر ایک ’چیلی پیپر چیلنج‘ میں شرکت کا اعلان بطور علامتی مخالفت کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں یہ امیدوار اتنی ناپسند ہیں کہ وہ ان کو صدر بنتا دیکھنے کے بجائے مرچیں کھانے کو ترجیح دیں گے۔

ایک فیس بک صارف نے مرچیں کھاتے ہوئی اپنی ویڈیو بناتے ہوئے پیغام لکھا ’نو ٹو سالمے زورابشولی‘۔

اس کے علاوہ بااثر ٹی وی چینل رستاوی 2 کے سربراہ نیکا گورامیا نے بھی ایسی ویڈیو میں دیکھا ’میرے منہ میں ایک طوفان آیا ہوا ہے۔‘

وہ ہی ہیں جنھوں نے لائیو ٹی وی پر یہ چیلنج ان متنازع الفاظ سے شروع کیا تھا ’اگر یہ غدار ملک کی صدر بن جاتی ہیں، تو ایسا ہی طوفان ہمارے ملک کا منتظر ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہLonda Kopaliani

،تصویر کا کیپشن

ایک فیس بک صارف نے مرچیں کھاتے ہوئی اپنی ویڈیو بناتے ہوئے پیغام لکھا 'نو ٹو سالمے زورابشولی'۔

تنازع کیا ہے؟

سالمے زورابشولی فرانس میں ایک جورجیائی فیملی کے ہاں پیدا ہوئیں۔ وہ پیشہ ور سفارتکار اور آئندہ اکتوبر 28 کو ہونے والے انتخابات میں 25 میں سے ایک صدارتی امیدوار ہیں۔

وہ بطور آزاد امیدوار انتخاب لڑ رہی ہیں مگر ان کی مہم کی جورجیئن ڈریم پارٹی نے حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اس جماعت کے رہنما طاقتور ارب پتی وزیراعظم بدزینہ ایوانولی کو جورجیا میں اہم ترین فیصلہ ساز کہا جاتا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

سالمے زورابشولی ni اگست میں ملک کی روس کے ساتھ جنگ کی دسویں برسی کے موقعے پر بیان دیا تھا کہ 2008 کی اس جنگ میں جورجیا نے پہلی گولی چلائی تھی۔

22 سالہ طالبعلم نودار رخزادے کا کہنا ہے کہ ’حقوقِ نسواں کے ایک حامی کے طور پر میں ان کی حمایت ضرور کرنا چاہوں گا۔ مگر یہ میرے ملک کے مفاد کے خلاف ہے۔‘

یہ طالبعلم ان بہت سے جورجیائی شہریوں کی طرح ہیں جو سالمے زورابشولی کی جانب سے اگست میں ملک کی روس کے ساتھ جنگ کی دسویں برسی کے موقعے پر بیان کی وجہ سے نالاں ہیں۔

انھوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2008 کی اس جنگ میں جورجیا نے پہلی گولی چلائی تھی۔

یورپی یونین کی تفتیش اس الزام کی تائید کرتی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

جورجیا میں یہ عام بات ہے کہ سیاسی مخالف ایک دوسرے کو روس حامی قرار دیتے ہیں۔

تاہم جورجیا میں یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے۔ جورجیا یہ جنگ ہار گیا تھا اور ملک کا تقریباً 20 فیصد علاقے روس کے قبضے میں آ گیا تھا۔

جورجیا میں یہ عام بات ہے کہ سیاسی مخالف ایک دوسرے کو روس حامی قرار دیتے ہیں۔

ان کے مرکزی سیاسی مخالف کے پوسٹروں پر بھی لوگوں نے روس کی انٹیلیجنس سروس ایف ایس بی کے نشان پینٹ کر دیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ روس کی جورجیا کے بارے میں خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔

ماہرین کے مطابق اس ملک میں ہر کوئی روس کی برائی کرتا ہے، ہر بری چیز کا تلعق روس سے ہے اور ہر کسی کو پتا ہے کہ جورجیائی لوگ ایسے الزامات کا ردِعمل ضرور ظاہر کرتے ہیں۔