تصاویر: دمشق کے نیشنل میوزیم کے دروازے دوبارہ کھل گئے

شام تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شام کے نیشنل میوزیم کا کچھ حصہ خانہ جنگی کے باعث چھ سال تک بند رہنے کے بعد عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

دمشق میں واقع دنیا کا یہ معروف عجائب گھر سنہ 2012 میں بند کر دیا گیا تھا تاکہ یہاں رکھی گئی پیش قیمت نوادرات کو محفوظ رکھا جا سکے۔

تحفظ کے پیش نظر بہت سارے نوادرات کو یہاں سے ایک خفیہ مقام منتقل کر دیا گیا تھا۔

عجائب گھر دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ایک وقت میں کیا گیا ہے جب جنگ زدہ ملک شام کی حکومت حالات کو دوبارہ معمول پر لا رہی ہے۔

شام تصویر کے کاپی رائٹ EPA

رواں سال کے آغاز میں صدر بشار الاسد کی افواج نے دارالحکومت پر مکمل طور پر اپنا کنٹرول سنبھال لیا تھا تاہم ملک کے کچھ حصوں اب بھی لڑائی جاری ہے۔

شام میں سات سال سے جاری خانہ جنگی سے ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ ملک کے کئی تاریخی شہر اور مقامات تباہی کا نشانہ بنے۔

شام تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
شام تصویر کے کاپی رائٹ EPA

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شامی وزیر ثقافت محمد الاحمد نے کہا ہے کہ عجائب گھر کا دوبارہ کھلنا یہ پیغام دیتا ہے کہ ملک کی ثقافتی ورثہ 'دہشت گردی' سے تباہ نہیں ہوا ہے۔

اتوار کا عجائب گھر کا صرف ایک حصہ عوام کے لیے کھولا گیا ہے تاہم عجائب گھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا ہے حکام پورے عجائب گھر کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔

احمد دیب نے میڈیا کو بتایا ہے کہ 'ہم قبل از تاریخ، قدیم مشرقی اور کلاسیکل اور اسلامی ادوار تک تمام ادوار کے نواردرات اس حصے میں نمائش کے لیے پیش کریں گے۔'

شام تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
شام تصویر کے کاپی رائٹ EPA

عجائب گھر کے باغات پہلے بھی عوام کے لیے کھلے تھے لیکن اس کی عمارت بند رہتی تھی کیونکہ دمشق پر حکومت مخالفت باغی راکٹ حملے کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ شام اپنے محل وقوع کے لحاظ سے قدیم دور سے اہمیت کا حامل رہا ہے اور اس کا شمار قدیم تجارتی راستوں میں ہوتا ہے۔ شام اپنی متوع ثقافت اور تاریخی ورثے کے حوالے سے بھی شہرت رکھتا ہے۔

اس کے کچھ مشہور تاریخی مقامات جیسا کہ یونیسکو کی جانب سے عالمی تاریخی ورثہ قرار دیا گیا شہر پلمائرا شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضے میں چلاگیا تھا اور اس کا کچھ حصہ تباہ بھی ہوا تھا۔

قدیم شہر حلب بھی مسلسل لڑائی سے تباہی کا نشانہ بنا ہے۔

شام تصویر کے کاپی رائٹ AFP
شام تصویر کے کاپی رائٹ Empics

یہ بھی شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ شام کے تنازع کے آغاز سے نامعلوم تعداد میں نوادرات کو بیرون ملک سمگل کر کے فروخت کیا گیا ہے۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے جنگجوؤں کے زیرانتظام علاقوں اور سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں نوادرات کو دوبارہ حاصل کیا گیا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں سینکڑوں کی تعداد میں ایسے ہی نوادرات دمشق کے اوپرا ہاؤس میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھیں۔

شام تصویر کے کاپی رائٹ EPA
شام تصویر کے کاپی رائٹ AFP

۔

متعلقہ عنوانات