انڈونیشیا: لائن ایئر کا طیارہ 188 مسافروں سمیت سمندر میں گر کر تباہ، سرچ آپریشن جاری

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
انڈونیشیا میں مسافر بردار طیارہ جکارتہ سے پرواز کرنے کے بعد سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا

پیر کو فضائی کمپنی لائن ایئر کے گر کر تباہ ہونے والے مسافر بردار طیارے کی جائے حادثہ پر اس وقت ڈرونز اور سونار کی مدد سے تلاش جاری ہے۔ اب تک طیارے کے ملبے کے ٹکرے اور مسافروں کا سامان تو ملا ہے تاہم کسی بھی شخص کے بچنے کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ پیر کے روز لائن ایئر کا ایک مسافر بردار طیارہ جکارتہ سے پرواز کرنے کے بعد سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ فلائٹ JT610 کے لیے اس طیارے پر عملے سمیت 189 افراد سوار تھے جو جکارتہ سے پنگکال پنانگ نامی شہر جا رہا تھا۔

حکام کے مطابق پرواز پر ایک شیرخوار بچہ، دو کم سن بچے اور 178 افراد سوار تھے۔ اس کے علاوہ طیارے میں دو پائلٹوں سمیت عملے کے آٹھ ارکان بھی شامل تھے۔

ابھی تک اس بات کا سراغ نہیں لگا کہ یہ طیارہ ٹیک آف کے 15 منٹ بعد ہی گر کر کیوں تباہ ہو گیا۔

بی بی سی کو حاصل طیارے کے تکنیکی لاگ سے معلوم ہوتا ہے کہ پرواز سے ایک روز قبل بالی سے جکارتہ جاتے ہوئے بھی طیارے کو تکنیکی مسائل کا سامنا تھا۔

لاگ کے مطابق طیارے کا ایک آلہ ناقابلِ اعتبار ایئر سپیڈ بتا رہا تھا اور کپتان کو کنٹرول فرسٹ آفسر کو دینا پڑا۔ اس کے علاوہ اونچائی کے حوالے سے بھی کپتان اور فرسٹ آفسر کو مختلف معلومات مل رہی تھیں۔

لائن ایئر کے چیف ایگزیکٹیوو ایڈورڈ سریت نے منگل کے روز کہا ہے کہ طیارے کو پرواز سے قبل ٹھیک کر لیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ FlightRadar24
Image caption فلائٹ JT610 کا ٹیک آف کے 13 منٹ بعد کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا

اس وقت ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے اور انڈونیشیا کی ڈزاسٹر ایجنسی کے ترجمان سوتوپو پرؤہ نگروہو نے ٹوئٹر پر چند تصاویر بھی جاری کی ہیں جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ جہاز کے ملبے کی ہیں۔

حادثہ ہوا کیسے؟

طیارے نے مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بج کر 20 منٹ پر اڑان بھری۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماضی میں بھی اسی ایئر لائن کا ایک اور طیارہ بھی حادثے کا شکار ہوا تھا، تاہم اس وقت کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

اسے پانگکل پینانگ کے دیپتی امیر ایئرپورٹ ایک گھنٹے میں پہنچنا تھا، لیکن پرواز کے 13 منٹ بعد ہی اس کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

پنگکال پنانگ کے سرچ اور ریسکیو آفیسر دانانگ پریاندوکو نے مقامی نیوز چینل کومپاس کو بتایا کہ پائلٹ نے جکارتہ کے سوئیکارنو ہاتا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر واپسی کی درخواست کی تھی۔

جبکہ انڈونیشیا کے ڈیزاسٹر ایجنسی کے سربراہ ستوپو پوروو نوگروہو نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ طیارے کا ملبہ اور اس پر سوار لوگوں کا سامان سمندر میں تیرتے نظر آئے ہیں۔

انھوں نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں جہاز کا ملبہ اور تیل سمندر پر تیرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔

طیارے میں سوار لوگوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

لائن ایئر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پائلٹ اور معاون پائلٹ تجربہ کار تھے اور انھوں نے مشترکہ طور پر 11 ہزار گھنٹے کی پرواز کر رکھی تھی۔

طیارے پر تین فضائی میزبان بھی موجود تھے جو زیرِ تربیت تھے جبکہ ان میں سے ایک ٹکنیکل سٹاف تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بی بی سی کو پتہ چلا ہے کہ اس جہاز میں انڈونیشیا کی وزارتِ خزانہ کے کم از کم 20 اہلکار سوار تھے۔

وزارتِ خزانہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وہ سب پانگکال پینانگ میں قائم وزارت کے دفتر میں کام کرتے تھے اور وہ ہفتے اور اتوار کو جکارتہ میں تھے۔ ان کے مطابق وہ عموماً یہ پرواز لیتے تھے۔

ہم اس طیارے کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

بوئنگ کا 737 طیارے کا یہ ماڈل ‏‏ MAX 8 تھا جس کا سب سے پہلا طیارہ لائن ایئر گروپ ہی کی کمپنی باتک کو 2016 میں ڈلیور کیا گیا تھا۔ لائن ایئر کے پاس موجود یہ طیارہ صرف دو مہینے پرانا تھا اور رواں سال 15 اگست کو ایئرلائن کو ڈلیور کیا گیا تھا۔

مختصر سے درمیانی فاصلے تک پرواز کرنے والے طیارے میں زیادہ سے زیادہ 210 مسافر سفر کر سکتے تھے۔

ایک بیان میں بوئنگ نے اس میں سفر کرنے والے افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حادثے کی جانچ میں تکنیکی تعاون دینے کے لیے تیار ہے۔

ہم گاہے بگاہے اس خبرکو اپ ڈیٹ کر رہے ہیں کیونکہ ابھی اس حادثے کے حوالے مزید اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں