جمال خاشقجی کا قتل: اردوغان کا سعودیوں کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مبصرین کے خیال میں محمد بن سلمان کی مرضی کے بغیر سعودی عرب میں کچھ نہیں ہو سکتا

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل نے صرف سلطنتِ سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات کو پیچیدہ نہیں کیا بلکہ یہ قتل سعودی عرب کے سیاسی اور تجارتی مغربی اتحادی ممالک کے لیے بھی ایک درد سر بن گیا ہے۔ اس نے جواں سال سعودی ولی عہد کا اصل چہرہ بھی بے نقاب کر دیا جو آنے والی کئی دہائیوں تک مشرق وسطیٰ کے اس اہم ترین ملک کی قیادت کرنے کے خواہشمند ہیں۔

امریکہ میں یہ صورت حال انتہائی گمبھیر ہے۔ جہاں ٹرمپ انتظامیہ کی دلی خواہش اس امید سے بندھی ہے کہ بہت جلد یہ معاملہ ماضی کا حصہ بن جائے گا وہیں کیپٹل ہل پر بہت سی اہم سیاسی شخصیات کی طرف سے یہ زور دیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ سعودی امور کے ماہرین اور بہت سے تھنک ٹینک بھی اس خیال کے حامی ہیں۔

خاشقجی کے قتل کے محرکات اور ان کی لاش کو کیسے ٹھکانے لگایا گیا، ان تمام تفصیلات کا سامنے آنا باقی ہے لیکن اس بنیادی سوال کا جواب کہ اصل میں کس نے ان کے قتل کا حکم صادر کیا شاید کبھی نہ مل سکے۔

تمام شواہد اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ حکم سعودی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح یعنی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

سفری پابندی کا خاتمہ، جمال خاشقجی کے بیٹے امریکہ پہنچ گئے

جمال خاشقجی کا ’قتل‘ اور علاقائی سیاست

خاشقجی خاندان: سعودی معاشرے میں جدّت کا علمبردار

سلطنت کے تمام امور محمد بن سلمان کے ہاتھ میں ہیں۔ خاشقجی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے تمام افراد محمد بن سلمان کے ماتحت کام کرتے تھے اور سعودی عرب کے امور کے تمام ماہرین کا متفقہ خیال یہ ہے کہ سعودی عرب میں اگر اس کا حکم اعلیٰ ترین سطح سے جاری نہ کیا گیا ہو تو اس طرح کی واردات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

بہت کچھ اس بات سے مشروط ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے براہ راست اس قتل میں ملوث ہونے کے کتنے شواہد موجود ہیں۔

ترکی کے پاس اس بارے میں کیا شواہد ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خاشقجی کو دو اکتوبر کو سعودی سفارت خانے میں قتل کر دیا گیا

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سعودی ولی عہد سے بلی چوہے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ وہ جتنا کچھ عام کر چکے ہیں اس سے زیادہ جانتے ہیں۔ لیکن وہ کتنا کچھ جانتے ہیں اس بارے میں یقینی طور نہیں کہا جا سکتا۔

وہ اس قضیے کو طول دیے جا رہے ہیں اور بظاہر تمام قانونی راستے اختیار کر رہے ہیں لیکن دراصل وہ اس ڈرامے کا سسپینس اور محمد بن سلمان سے توجہ ہٹنے نہیں دے رہے۔

ترکی اور سعودی عرب دونوں مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک ہیں، دونوں فرقے کے لحاظ سے سنی ہیں اور دونوں مشرق وسطیٰ کے وسیع تر معمالات میں سرکردہ کردار ادا کرنے کے خواہش مند ہیں۔

مسابقت کی صورت حال کی وجہ سے ان دونوں ملکوں کے مفادات کا یکجا ہونا ممکن نہیں ہے اور اردوغان محمد بن سلمان کے لیے زیادہ سے زیادہ مشکلات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اردوغان کے لیے اس طرح سے اپنی داخلی سیاسی حمایت میں بہتری آ سکتی ہے جبکہ بیرونی طور پر واشنگٹن سے معاملات بہتر کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

چالاکی سے دباؤ بڑھانے اور درست وقت پر اس دباؤ کو ہٹا لینے سے ہو سکتا ہے ترکی کو اپنی ڈولتی ہوئی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی عرب کی طرف سے سرمایہ کاری اور مالی مدد ملے۔

امریکہ کی کیا مشکل ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ اور سعودی عرب کے رشتے میں تیل ایک اہم عنصر رہا ہے

لیکن امریکہ کی مشکل کچھ دوسری نوعیت کی ہے اور اسے اپنے اقدار اور اپنے مفادات میں توازن برقرار رکھنا ہے۔ واشگٹن کے لیے یہ معاملہ صرف اربوں ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کا نہیں ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کے پورے ڈھانچے کا یہ صرف ایک حصہ ہے جس کی بیناد مشرق وسطیٰ کی دفاعی اہمیت اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے پر مشترکہ یقین اور اتفاق پر قائم ہے۔

اس رشتے میں تیل ایک اہم عنصر رہا ہے۔ اب جب کہ امریکہ کا تیل پر انحصار بہت کم ہو گیا ہے تو سعودی عرب کے تیل فراہم کرنے والے ملک کی حیثیت سے، اس کا استحکام دفاعی اور سٹریٹجک اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں بڑے اتار چڑھاؤ اور مشکلات آئی ہیں جن میں قدامت پسندانہ اور بنیاد پرستانہ اسلامی عقائد کی سعودی عرب کی طرف سے دنیا بھر میں تشہیر اور ترویج بھی شامل ہیں۔

محمد بن سلمان کے اقدامات اور ٹرمپ کی مشکلات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لبنان کے وزیر اعظم کو یرغمال بنانے کا الزام بھی محمد بن سلمان پر لگایا جاتا ہے

امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کے اتاور چڑھاؤ کے درمیان ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب کے مالک اور مختار کی صورت میں سامنے آئے جو کہ ایک لحاظ سے امریکہ کے لیے خوش کن تھا۔ سعودی عرب میں اصلاحات کرنے کے عزم نے ان کے منصوبے کے کئی منفی پہلوؤں کو چھپائے رکھا۔

لیکن یہ زیادہ دیر نہیں چل سکا۔ وہ قطر کو تنہا کرنے، لبنان کے وزیر اعظم کو یرغمال بنائے رکھنے، انسانی حقوق کے معاملے میں خام خواہ کینیڈا سے الجھ جانے اور سب سے زیادہ سنگین اقدام یمن پر فوج کشی کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

یمن پر فوج کشی کی وجہ سے لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس پورے ملک کو قحط کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔ واشنگٹن کے نقطۂ نگاہ سے محمد بن سلمان کے اقدامات استحکام کے بجائے خطے کو بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لاپتہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کون ہیں؟

جمال خاشقجی: مبینہ سعودی ’ہٹ سکواڈ‘ میں کون کون شامل تھا؟

ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مشکلات اس وجہ سے بھی زیادہ سنگین ہو گئی ہیں کیونکہ اُس نے تمام انڈے محمد بن سلمان کی ٹوکری ہی میں رکھ دیے تھے۔ یہ خطے میں اپنے تین انتہائی اہم اہداف کے حصول کے لیے محمد بن سلمان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اول یہ کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی مدد پر انحصار کر رہی ہے۔ دوئم یہ کہ مسئلہ فلسطین کے ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے مطابق حل کے لیے بھی ٹرمپ انتظامیہ کو سعودی عرب کی حمایت درکار ہے اور سوئم یہ کہ ایران کو تنہا کرنے کے لیے بھی سعودی عرب امریکہ کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ان تمام عوامل کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ کی شدید خواہش یہ ہے کہ خاشقجی کے قتل کے معاملے سے جلد از جلد توجہ ہٹ جائے۔ اور ٹرمپ کی صدارت کے دوران سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر نظر ثانی نہیں کی جائے۔ لیکن اس کو اب بہت دیر تک التوا میں نہیں ڈالا جاسکتا۔

ظاہر ہے کہ اس بارے میں ٹرمپ اور کانگرس کے موقف میں اختلاف ہو گا۔ کیا سعودی عرب کوئی ایسا طریقہ اختیار کر سکتا ہے جس سے سعودی شہزادے کو کچھ روکا جا سکے۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں ہونے والی کانفرنس کی چکا چوند میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ ولی عہد محمد بن سلمان کو داخلی سطح پر کوئی مشکل درپیش ہو۔

روس کی طرف سے زور دیا جا رہا ہے کہ خاشقجی کے قتل کے بارے میں سعودی موقف کو تسلیم کر لیا جائے جس سے واضح طور پر اشارہ ملتا ہے کہ روس اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں ہے۔ شاید وہ مستقبل میں اسلحے کے معاہدے حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو۔ ظاہر ہے صدر پوتن خطے میں اپنے ملک کے مفادات کے تحفظ کی کوشش میں ہیں۔

مغرب کے لیے اسلحے کے سودے دو دھاری تلوار کی طرح ہیں۔ اسلحے کے سودوں کی طویل المدتی معطلی مغرب کے لیے مہنگا سودا ثابت ہو گا لیکن سعودی عرب کے لیے بھی فوری طور پر امریکہ کی جگہ چین اور روس سے حاصل کردہ اسلحہ استعمال کرنا شروع کر دینا ممکن نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مبصرین کے خیال میں محمد بن سلمان کی مرضی کے بغیر سعودی عرب میں کچھ نہیں ہو سکتا

مغرب میں تیارہ کردہ ساز و سامان، اسلحہ اور بارود اور اس کے تربیتی ماہرین اور دفاعی مشیر ہی یمن پر سعودی فضائیہ کے ہوائی حملوں کو یقینی بنائے ہوئے ہیں۔

سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے کے لیے مغرب کے پاس بہت سے طریقے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہے اور اس میں ٹرمپ انتظامیہ کوئی قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے راضی ہے۔

اس سلسلے میں امریکہ کے قریبی اتحادی بھی اختلاف کا شکار ہیں۔ جرمن چانسلر اینگلا مرکل سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت پر پابندی عائد کرنے والی واحد سربراہ ہیں۔ ان کے اس فیصلے پر فرانس کے صدر امینول میخوان نے کہا تھا کہ یہ محظ نعرے بازی ہے۔

جب تک امریکہ کے مغربی اتحاد میں کوئی اتفاق نہیں ہوتا اس وقت تک سعودی عرب سے رشتوں کا از سر نو جائزہ نہیں لیا جا سکتا اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک وائٹ ہاؤس میں کوئی سیاسی تبدیلی نہیں ہو جاتی۔

اسی بارے میں