’جمال خاشقجی کے جسم کے ٹکڑے کر کے تیزاب میں تحلیل کیے گئے‘

ترکی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ترکی کے ایک اعلی اہلکار اور صدارتی مشیر یاسین اکتے نے کہا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ۔ جمال خاشقجی کے جسم کے ٹکڑے کر کے تیزاب میں تحلیل کر دیے گئے

ان کے مطابق اِس معاملے کا ’منطقی نتیجہ‘ یہی اخز کیا جا سکتا ہے کہ جن لوگوں نے سعودی صحافی کو ہلاک کیا انھوں نے ان کے جسم کو ختم کر دیا تا کہ کوئی سراغ باقی نہ رہے۔

تاہم اب تک ایسے کوئی فارینزک ثبوت فراہم نہیں کیے گئے کہ ان کے جسم کو تیزاب میں تحلیل کیا گیا۔

یاسین اکتے نے مقامی اخبار حریت ڈیلی کو بتایا ’خاشقجی کے جسم کے ٹکڑے کرنے کی وجہ یہ تھی کہ انھیں با آسانی تیزاب میں تحلیل کر دیا جائے۔‘

ترکی کے صدارتی مشیر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجہ چنگیز نے عالمی رہنماوں سے اپیل کی ہے کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹھرے میں لایا جائے۔

خاشقجی سعودی حکمرانوں کے بڑے ناقدین میں سے تھے جنھیں استنبول میں سعودی عرب کے سفارت خانے میں قتل کیا گیا۔

اس سے پہلے میڈیا اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکہ کو بتایا تھا کہ ان کے نزدیک قتل کیے گئے صحافی جمال خاشقجی ایک خطرناک اسلامی شدت پسند ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے سعودی ولی عہد نے کی استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں ہلاکت کو تسلیم کرنے سے پہلے ولی عہد نے وائٹ ہاؤس فون کیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور نیشنل سکیورٹی کے مشیر جان بولٹن سے وائٹ ہاؤس میں ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں کہا تھا کہ جمال خاشقجی اسلامی شدت پسند تنظیم اخوان المسلمین کے رکن تھے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ ٹیلی فون جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے ایک ہفتے بعد 9 اکتوبر کو کی گئی تھی۔

سعودی ولی عہد نے اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس پر زور دیا تھا کہ وہ امریکہ سعودی اتحاد کو قائم رکھے۔

دوسری جانب جمال خاشقجی کے خاندان کی جانب سے واشنگٹن پوسٹ کو جاری کیے جانے والے بیان میں اس بات کی تردید کی ہے خاشقجی اخوان المسلمین کے رکن نہیں تھے اور انھوں نے خود حالیہ برسوں میں متعدد بار اس کی تردید کی تھی۔

جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں مزید پڑھیے

جمال خاشقجی کا ’قتل‘ اور علاقائی سیاست

خاشقجی کا قتل ایک سنگین غلطی تھی: سعودی وزیرِ خارجہ

اس سے پہلے جمعرات کو ترکی کی حکومت کی جانب سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی موت کے بعد باضابطہ طور پر پہلا پیغام جاری کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتے ہی ان کا گلا گھونٹ دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود ال موجب نے ترکی کے عرفان فدان سے استنبول میں دو بار ملاقات کی

ترکی کی جانب سے یہ بیان کئی ہفتوں کی میڈیا رپورٹوں کے بعد آیا ہے۔

سعودی صحافی کی دو اکتوبر کو استنبول کے سعودی قونصل خانے میں موت واقع ہوئی تھی۔ ترکی نے الزام لگایا ہے کہ سعودی حکومت اس کی ذمہ دار ہے لیکن انھوں نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
میں نے انھیں خدا حافظ تک نہیں کہا تھا: جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجہ چنگیز

ترکی کی جانب سے مرکزی پراسیکیوٹر عرفان فدان نے کہا کہ ان کی سعودی حکام سے ملاقات میں کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلا جبکہ سعودی عرب نے ان ملاقاتوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ترکی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پہلے سے تیار منصوبے کے تحت صحافی جمال خاشقجی کو سعودی قونصل خانے میں داخلے کے ساتھ ہی گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ انھی منصوبوں کے تحت جمال خاشقجی کے جسم کو آری کی مدد سے ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔'

سعودی حکومت کے ناقد جمال خاشقجی کی لاش ابھی تک نہیں ملی ہے لیکن دونوں ممالک کے حکام اس بات پر متفق ہیں کہ انھیں قونصل خانے میں ہی قتل کیا گیا۔

دونوں ممالک کے حکام کی ملاقاتوں میں کیا ہوا؟

ترکی کے مطابق انھوں نے سعودی تفتیش کاروں کے سامنے تین مرکزی سوالات رکھے۔

  1. خاشقجی کی لاش کہاں ہے؟
  2. کیا ان کے پاس پہلے سے تیار کیے گئے منصوبے کے بارے میں کوئی نئی معلومات ہیں؟
  3. سعودیوں کے مطابق 'مقامی سہولت کار' کی شناخت کیا ہے؟
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ترکی نے سعودی عرب کو براہ راست مورد الزام نہیں ٹھہرایا

یاد رہے کہ اس سے قبل ایک نامعلوم سعودی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ خاشقجی کی لاش قالین میں لپیٹ کر ایک 'مقامی سہولت کار' کو دے دی گئی تھی تاکہ وہ اس کو ٹھکانے لگا سکے۔

ترکی نے بتایا کہ بدھ کو سعودی حکام نے تحریری طور پر اپنا جواب جمع کرایا اور کہا کہ جوابات صرف مشترکہ تفتیش سے سامنے آ سکتے ہیں۔ساتھ ساتھ انھوں نے کہا کہ باضابطہ طور پر 'مقامی سہولت کار' کے بارے میں سعودیوں نے کوئی بیان نہیں دیا۔

ترکی نے عوامی طور پر سعودی عرب کو براہ راست مورد الزام نہیں ٹھہرایا لیکن دوسری جانب ایک حکومتی اہلکار نے کہا کہ یہ منصوبہ اعلیٰ سعودی قیادت کی اجازت اور حکم کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

سعودی عرب نے مسلسل تردید کی ہے کہ شاہی خاندان اور بالخصوص ولی عہد محمد بن سلمان اس واقعے میں کسی طرح بھی ملوث ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی اور ترک حکام کی جمال خاشقجی کے قتل کی تفتیش کے سلسلے میں ملاقاتیں ہوئی ہیں

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے حکمران شاہ سلمان سے بات کی تھی جہاں دونوں رہنماؤں نے تفتیش میں تعاون پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔

دوسری جانب جمال خاشقجی کی ترک منگیتر خدیجہ چنگیز نے ترکی کے مقامی میڈیا کو ایک رقت انگیز انٹرویو دیا جس میں انھوں نے کہا کہ اگر انھیں اندازہ ہوتا کہ سعودی حکام جمال خاشقجی کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو وہ انھیں کبھی بھی قونصل خانے نہ جانے دیتیں۔

سعودی عرب کا جواب کیا ہے؟

سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود الموجب نے ترکی کے عرفان فدان سے دو بار ملاقاتیں کی ہیں اور ترکی کی خفیہ ایجنسی کے افسران سے بھی ملاقات کی ہے۔

سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قونصل خانے آمد کے بعد سے متعدد بار اپنے بیان میں تبدیلیاں کی ہیں۔

پہلے ان کا کہنا تھا کہ وہ قونصل خانے سے واپس چلے گئے ہیں، لیکن بعد میں انھوں نے تسلیم کیا کہ جمال خاشقجی کو قتل کر دیا گیا ہے اور اس بارے میں تفتیش جاری ہے۔

اسی بارے میں