جاپانی بچوں میں خودکشی انتہا کو پہنچ گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خودکشی کرنے والے بچوں نے خاندانی مسائل، مستقبل کی فکر اور سکول میں ہراساں کیے جانے کی شکایت کی تھی۔

جاپان کی وزارت تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق ان کے ملک میں بچوں میں خودکشیوں کی شرح تیس برسوں میں اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔

یہ بھی پڑھیے: افغان خواتین خودکشی کیوں کر رہی ہیں؟

انڈیا: نوجوان خواتین میں خودکشی کی شرح 40 فیصد

چترال میں خواتین خودکشیاں کیوں کر رہی ہیں؟

ان کے مطابق 2016 اور 2017 کے مالی سال کے دوران سکول جانے والے تقریباً 250 بچوں نے خودکشی کی۔ یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے اور 1986 کے بعد سب سے زیادہ۔

ان بچوں نے خاندانی مسائل، مستقبل کی فکر اور سکول میں ہراساں کیے جانے کی شکایت کی تھی۔ تاہم متعلقہ سکولوں کے مطابق ان میں سے 140 بچے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جان لینے سے پہلے کوئی نوٹ نہیں چھوڑا اس لیے ان کی خودکشی کی وجہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

خبودکشی کرنے والے زیادہ تر بچے ہائی سکول میں تھے۔ جاپان میں عموماً بچے اٹھارہ سال کی عمر تک سکول جاتے ہیں۔

جاپانی کیبنٹ آفس کی 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق جاپان میں یکم ستمبر کو سکول کے سال کے آغاز کے وقت سب سے زیادہ خودکشیاں ہوتی ہیں۔

جاپان میں 2017 میں 21000 ہزار لوگوں نے خودکشی کی جو کہ 2003 کی 34500 خودکشیوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

جاپان کے وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ ’جاپان میں طالب علموں کی خودکشی کی شرح زیادہ ہے جو کہ فکر کی بات ہے اور اس کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں