امریکہ میں مڈ ٹرم انتخابات: ایوان نمائندگان میں دھچکے کے باوجود ٹرمپ کا ’بڑی فتح‘ کا خیر مقدم

ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کامیابی کے لیے شکریہ کہا

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی رپبلکن پارٹی سینیٹ میں اکثریت برقرار رکھے گی تاہم ان کی حریف ڈیموکریٹک پارٹی ایوان نمائندگان میں آٹھ سال بعد اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

آٹھ سال بعد ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت کا مطلب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو اپنے ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت کے بعد وہ اب اس قابل ہو گئے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے قانونی اصلاحات کے ایجنڈے کو روک سکتے ہیں اور صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں، ٹیکس اور مفادات کے ٹکراؤ کی تحقیقات کروا سکیں گے۔ وہ ان کے مختلف منصوبوں میں بھی رکاوٹ ڈال سکتے ہیں، جیسا کہ میکسیکو کے گرد دیوار تعمیر کروانا۔

حالانکہ صدر ٹرمپ نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’اگر ڈیموکریٹک رہنماؤں کو لگتا ہے کہ وہ ٹیکس ادا کرنے والوں کا پیسہ ہماری ایوان میں تحقیقات کرنے میں ضائع کر سکتے ہیں تو اسی طرح ہمیں بھی خفیہ معلومات لیک کرنے کے معاملے میں انکی تحقیقات سینیٹ میں کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ یہ کھیل دو طرفہ ہو سکتا ہے۔‘

صدارتی انتخاب 2020 میں ہونے ہیں لیکن ان وسط مدتی انتخابات کو ان کی صدارت کے دو سال پر ’ریفرینڈم‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بدھ کی صبح ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ انہیں امریکہ کے طول و عرض اور بیرون ممالک سے حمایتیوں کی جانب سے مبارکبادیں موصول ہو رہی ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا اشارہ کن ممالک کی جانب تھا۔

توقع ہے کہ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما نینسی پیلوسی سپیکر بنیں گی۔ وہ 2007 سے 2011 تک اس عہدے پر فائز رہ چکی ہیں۔ انھوں نے واشنگٹن میں اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا: ’آپ لوگوں کی مہربانی کی وجہ سے کل امریکہ میں ایک نئے دن کا آغاز ہو گا۔‘

ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی برتری سے کیا ہو گا؟

ڈیموکریٹس نے کانگریس کے ایوانِ زیریں میں اکثریت کے لیے درکار 23 سے زیادہ نشستیں حاصل کر لی ہیں۔

امریکہ میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 سیٹوں پر انتخابات تھے اور ان میں خواتین امیدواروں نے خاص طور پر بہت عمدہ کارکردگی دکھائی۔ کئی ماہرین نے ان انتخابات کو خواتین کا سال قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیو یارک کی 29 سالہ الیگزانڈرا اوکاسیو کورٹز امریکہ کے ایوان نمائندگان میں سیٹ جیتنے والی سب سے کم عمر خاتون بن گئیں

اس کے علاوہ ڈیموکریٹکس کی جانب سے امیدوار الہان عمر منی سوٹا سے اور راشدہ طلیب مشی گن سے کانگریس میں منتخب ہونے والی پہلی مسلم خواتین بن گئی ہیں۔

سینیٹ میں کیا ہوا؟

توقع ہے کہ ایک سو نشستوں پر مشتمل کانگریس کے ایوان بالا میں صدر ٹرمپ کی پارٹی کو 54 نشستیں مل جائیں گی۔

انتخابات میں اہم لمحہ اس وقت آیا جب انڈیانا میں رپبلکن پارٹی کے مائیک براؤن نے وہاں کے ڈیمو کریٹ جو ڈونیلی کو شکست دے دی۔

ٹیکساس میں موجودہ گورنر ٹیڈ کروز نے اب تک نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے ابھرتے ہوئے رہنما بیٹو او رورکے کو شکست دے دی۔

ادھر ڈیموکریٹس کی جانب سے سینیٹر جو مانچن اور ببو مینیڈیز نے اپنی اپنی ریاستوں میں سخت مقابلے کے بعد جیت حاصل کر لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وسط مدتی انتخابات میں پولنگ

وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان کی 435 نشتوں، سینٹ کی ایک تہائی نشتوں کے علاوہ کئی گورنروں اور ریاستی قانون ساز اداروں کی نشتوں پر انتخابات ہوئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنی طاقت کو بچانے کے لیے رپبلکن پارٹی کے امیدواروں کے لیے سرتوڑ الیکشن مہم چلائی اور ایک دن میں کئی کئی ریاستوں میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔ انھوں نے آخری روز تین مختلف ریاستوں میں تین ریلیوں سے خطاب کیا۔ صدر ٹرمپ نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پچھلے دو برسوں میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ سب داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔

سابق صدر براک اوباما بھی ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدواروں کے حق میں مہم چلانے میدان میں اترے۔ انھوں نے ایک ریلی سے ِخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات میں امریکہ کا کردار داؤ پر لگا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

داؤ پر کیا لگا ہے؟

ان انتخابات میں امریکی ایوانِ نمائندگان کی تمام 435، جبکہ سینیٹ کی ایک سو میں سے 35 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے ہیں۔ ان دونوں ایوانوں کو ملا کر کانگریس بنتی ہے۔ اس کے علاوہ ان وسط مدتی انتخابات میں امریکہ کی 50 میں سے 36 ریاستوں کے گورنروں کے انتخابات بھی ہوئے ہیں۔

جب پیر کو صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ اگر ان کی مخالف جماعت ایوانِ زیریں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ کیا کریں گے، توصدر کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا خطرہ ہے جو حقیقت سے دور نہیں۔

صدر کے بقول اگر ایسا ہوتا ہے تو 'ہمیں اپنا کام ذرا مخلتف انداز میں کرنا پڑے گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریپبلکن پارٹی کو آٹھ سال بعد ایوان نمائندگان میں شکست کا سامنا کرنا پڑا

تجزیہ: جان سوپل، بی بی سی شمالی امریکہ

صدور ہمیشہ توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ تھیوڈور روزویلٹ وائٹ ہاؤس کو 'دھونس کا منبر' کہتے تھے جہاں سب نظریں ان پر ہوتی تھیں اور وہ اپنا ایجنڈا آگے بڑھا سکتے تھے۔

لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اشتعال انگیز باتیں کرنے کے لیے ٹوئٹر کی شکل میں اپنے لیے نیا منبر اپنایا ہے جہاں پانچ کروڑ لوگ انھیں فالو کرتے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ میں کام صدر ٹرمپ کی کسی بات کا رد عمل ہے۔ ان کو فالو کرنے والے خوش ہوتے ہیں اور مخالفین پریشان اور امیدوار بحث کا حصہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس رجحان نے انتخابات کو دلچسپ کر دیا ہے۔

اوہایو، انڈیانا اور میزوری میں اپنی اختتامی انتخابی ریلیوں میں صدر ٹرمپ نے اپنی مہم کے اہم نعرے دہراتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹ معیشت کو تباہ کر دیں گے اور مزید غیر قانونی تارکین وطن کی امریکہ آمد کی وجہ بنیں گے۔

دریں اثنا ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں نے براہ راست صدر کو مخاطب کرنے کی بجائے ہیلتھ کیئر اور اقتصادی عدم مساوات کو موضوع بنایا۔

اسی بارے میں