'پاپا میری ماں کو فریب دے رہے تھے اور میں چپ تھا'

علامتی تصویر

کسی کو کیسا محسوس ہوگا جب اسے پتہ چلے کہ اس کے والدین میں سے کسی کا کسی غیر سے ناجائز تعلق ہے؟

ریڈیو ون نیوز بیٹ نے ایک 25 سالہ لڑکے سے بات کی جنھوں نے اپنے والد کے ساتھ کئی سال گزارے اور انھیں پتہ چلا کہ ان کے والد ان کی ماں کو دھوکہ دے رہے تھے۔ اس وقت وہ غصے، اداسی اور تنہائی کے دور سے گزرے۔انھوں نے اپنا نام بتائے بغیر اپنی کہانی اس لیے بتائی تاکہ اگر کوئی دوسرا انھی حالات کا شکار ہے تو اس کی مدد ہو سکے۔

میں 19 سال کا تھا اور ایک تہوار کے موقعے پر گھر واپس آیا تھا۔

میں غسل خانے میں گیا جہاں میں نے ایک طرف ایک فون رکھا دیکھا۔ میں جانتا تھا کہ یہ میرے پاپا کا فون ہے کیونکہ میں نے پہلے بھی ان کی گاڑی میں ویسا ہی فون دیکھا تھا۔

اس وقت میں بلوغت کی عمر میں داخل ہو رہا ہے اور اس قسم کی کوئی چیز سوچنے سمجھنے سے قاصر تھا۔

لیکن اب مجھے قدرے شبہ ہوا اور میں نے فون اٹھا لیا۔ اس میں کوئی پاس ورڈ نہیں تھا۔

جیسے ہی میں نے دیکھنا شروع کر دیا، مجھے معلوم ہوا کہ اس میں کسی عورت کے پیغامات تھے۔ میں نے ان میں سے کسی مسیج کو نہیں پڑھا کیونکہ میں بہت غصے میں تھا۔ سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے واضح ہونے لگا۔

'چلو بات کرتے ہیں'

میں نے سوچا کہ کسی کے ساتھ تعلقات رکھنے کے لیے یہ ثبوت کافی نہیں ہیں کیونکہ کسی بھی پیغام سے اس طرح کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا تھا۔

میں نے غسل کیا، تھوڑا سا پرسکون ہوا اور پھر اپنے کمرے میں چلا گیا۔

میں نے پاپا کی سیڑھیوں سے اوپر آنے کی آہٹ سنی۔ میں نے انھیں کمرے میں بلایا اور انھیں فون دکھایا۔

ان کا پہلا ردعمل تھا: 'مجھے نہیں معلوم ہے کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو۔'

انھوں نے فون اٹھایا اور نیچے چلے گئے۔ پھر وہ اوپر آئے اور کہا: 'ٹھیک ہے، تو چلو بات کرتے ہیں۔'

ٹہلنے کے دوران میں قدرے گھبرایا ہوا تھا۔ ان کا سامنا کرنا پہلے کبھی اتنا مشکل نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مجھے اپنے شوہر کی دوسری شادی کا کیسے پتہ چلا؟

’دن میں پانچ مرتبہ سیکس بھی ناکافی تھا‘

انھوں نے اسے دفتر کی ایک دوست کے طور پر ظاہر کیا جس کی وہ مشکل وقت سے باہر آنے میں مدد کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا: 'میرے بہت سے دوست نہیں ہیں اور میرے خیال سے تمہاری والدہ ایک خاتون ہونے کے ناطے اسے نہیں سمجھ پاتیں۔'

اس وقت میرا دماغ یہ سوچنے میں مشغول تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ جیسا انھوں نے کہا، مجھے یقین کرنا پڑا اور انھوں نے میرا شکریہ ادا کیا۔

'آموس ایک فرضی نام تھا'

جلد ہی دو سال بیت گئے لیکن میرے ذہن میں کہیں نہ کہیں وہی سب گردش کر رہا تھا۔

پاپا نئے فلیٹ میں منتقل ہونے میں میری مدد کر رہے تھے۔ انھیں ایک نیا آئی فون ملا، انھوں نے میری تصویر لی اور کسی کو بھیج دی۔

اس کے بعد میں نے اپنی ماں کو میسیج کیا اور پوچھا کہ کیا پاپا نے میری کوئی تصویر انھیں بھیجی ہے۔ انھوں نے کہا: 'کیا؟ پاپا نے تو مجھے کوئی میسیج نہیں بھیجا۔'

میں نے پھر سے سوچنا شروع کر دیا۔ میں ان کے پاس گیا اور دیکھا کہ وہ کسی 'آموس' نام کے فرد کو میسیج کر رہے تھے۔

مجھے پتہ تھا کہ یہ نقلی نام ہے کیونکہ مجھے پتہ چل جائے گا کہ آموس نام کا ان کا کوئی واقعی دوست ہے۔

پاپا آج رات میرے ساتھ رکنے والے تھے اور مجھے ان کا فون دیکھنا تھا۔

لہذا آدھی رات کو میں رینگتے ہوئے ان کے کمرے میں گیا اور فون لے کر نیچے جانے لگا۔

پاپا نے کمرے سے باہر آ کر کہا؛ 'کیا مجھے میرا فون واپس مل سکتا ہے؟' انھوں نے مجھے پکڑ لیا تھا۔

میں نے بہانہ بنایا کہ مجھے الارم لگانے کے لیے فون کی ضرورت تھی۔

اگلی صبح ہم ناشتہ کے لیے گئے اور پھر وہ چلے گئے۔ انھوں نے کچھ نہیں کہا۔ یہ واقعی بہت عجیب تھا۔

پاپا کی سالگرہ

چھ ماہ مزید گزر گئے اور میرے ذہن سے سب محو ہو چکا تھا۔ آج میرے والد کی سالگرہ تھی۔

میں پاپا ممی کے ساتھ ریستوراں جا رہا تھا۔ ہم اپنی چھوٹی بہن سے ملنے جا رہے تھے۔ لیکن اسے آنے میں دیر ہو گئی اور پاپا اپنا آپا کھو بیٹھے۔

وہ مڑے اور واپس گھر جانے کے لیے چیخنے لگے۔ مجھے اب غصہ آنے لگا، ان کے پیچھے گيا اور چلا کر ان کو ڈرپوک کہا۔

اچانک میرے منھ سے نکلا کہ 'یہ آموس کون ہے؟' وہ پیچھے مڑے تو دیکھا کہ ان کا پورا چہرہ سفید تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’میرے پاس تصاویر ہیں، افیئر کرو گی یا نہیں‘

جب پولیس اہلکار نے بچپن میں ریپ کرنے والے کو جیل پہنچایا

وہ اس سوال کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کہنے لگے 'اس بارے میں بات کرنا بند کرو۔'

ہم گھر واپس آ گئے لیکن ہمارے پاس گھر کی چابی نہیں تھی۔ بہت عجیب احساس تھا اور میری آنکھوں میں آنسو تھے پھر میں نے انھیں گلے لگا لیا۔

میں نہیں جانتا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے تھا۔

وہ جانتے تھے کہ میرے اندر ایک کشمکش جاری ہے، لیکن پھر بھی ہم اس کے بارے میں بات نہیں کر رہے تھے۔

میری ماں اور بہن نے محسوس کیا کہ ہم میں بحث ہو گئی ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ سب اپنی بہن کو نہیں بتا سکا کیونکہ وہ سکول میں پڑھتی تھی۔

مجھے یہ سب خود ہی تک محدود رکھنا پڑا۔


الیسسن کوپر، رلیشنشپ کونسلر سروس

تنہائی محسوس کرنا اور ایک بوجھ کے ساتھ جینا بہت خوفناک ہوتا ہے۔

اگر آپ بھی ایسی صورت حال سے دو چار ہیں تو آپ بھی ایسے کونسلر سے مل سکتے ہیں۔ اگر کوئی گھبراہٹ محسوس کر رہا ہے یا فکر مند ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ایک آپشن ہوسکتا ہے۔

اگر آپ ابھی سکول، کالج یا یونیورسٹی میں ہیں اور آپ کے استاد قابل اعتماد ہیں تو اس وقت وہ سمجھ لیں گے کہ آپ کے رویے یا مطالعہ میں تبدیلی کیوں آ رہی ہے۔

آپ خاندان کے دوسرے اراکین چچا چچی کے پاس بھی جا سکتے ہیں اور ان سے اپنے والدین سے بات کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔

آخر میں مجھے لگتا ہے کہ آپ کسی ایسے شخص سے بھی گفتگو کرسکتے ہیں جو آپ کو مشکل وقت سے نکلنے میں مدد کرے قبول کرنے میں بھی مدد کرے کہ یہ آپ کی ذمہ داری نہیں تھی۔


'اور پھر میری بہن کو پتہ چل گيا'

تقریبا دو سال بعد میری بہن کا ایک میسیج آيا 'کیا میں فون کر سکتی ہوں؟'

وہ بری طرح رو رہی تھی۔

اس نے کہا: 'خدایا! پاپا ممی کے ساتھ دھوکہ دہی کر رہے ہیں۔'

میری ہی طرح اس نے بھی فون میں 'آموس' کے پیغام دیکھے تھے۔

اس کے منھ سے یہ سن کر مجھے اچھا محسوس ہوا۔

میں نے فیصلہ کیا کہ میں ان سے فون پر بات کروں گا۔

میں نے کہا: 'میں اور میری بہن دونوں جانتے ہیں، آپ کو ممی کو بتانا چاہیے، ورنہ میرا آپ کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق رکھنا مشکل ہو گا۔'

وہ مکمل طور پر پرسکون تھے۔ کال کے اختتام پر انھوں نے کہا: 'بتانے کے لیے شکریہ۔'

ایک خط

انھوں نے ماں سے براہ راست بات نہیں کی۔

یہاں تک کہ انھوں نے میری بہن سے بھی بات نہیں کی، جو اس وقت گھر میں ہی رہتی تھی۔

انھوں نے تین ماہ بعد بھی بات نہیں کی۔

میں اس حالت میں پہنچ گیا جہاں میں واقعی اپنے والد کو مار ڈالنا چاہتا تھا۔

ایک بار ہم سٹیشن جا رہے تھے اور میں انھیں گاڑی میں ہی چھوڑ کر نکل گیا۔

اس رات انھوں نے مجھے ایک پیغام بھیجا: 'میں آج رات جا رہا ہوں، میں نے ایک خط رکھ چھوڑا ہے۔ میں نے جمعے کو تمہاری بہن سے بات کی تھی۔'

بہن کو پتہ چلنے کے بعد دونوں تین ماہ تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔ خیر مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ دونوں نے کس طرح گزارا کیا۔

جب تک میں گھر پہنچا ماں نے خط کو کھول لیا تھا۔

شادی کے 25 سال بعد اس قسم کی کسی چیز کا علم ہونا بہت ہی خوفناک تھا۔ مجھے واقعی افسوس نہیں ہے کہ یہ سب کیسے سامنے آیا

مجھے لگتا ہے کہ یہ تھوڑا سا عجیب ہے، لیکن میں جتنا کر سکتا تھا میں نے کیا۔

میں وہ انسان نہیں بننا چاہتا تھا، جس کے ذریعے والدہ یہ سب پتہ چلے۔ اس وقت وہ مجھ سے ناراض نہیں تھیں بلکہ شرمندہ تھیں کہ مجھے اس صورت حال سے گزرنا پڑا۔

میری رائے

میرے پاس ایسی صورت حال سے دو چار ہونے والوں کے لیے دو مشورہ ہے۔.

پہلا جلد بازی میں کچھ بھی کرنے سے پرہیز کریں۔

ایسے وقت میں دن میں دو بار غسل کرنے سے سکون حاصل ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ کسی سے بات کرنے سے واقعی میں مدد ملتی ہے۔

میری بہن اور میں اب بھی ایک دوسرے سے الجھتے رہتے ہیں، لیکن یہ ہمارے تعلقات کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

میں نے یہ سب اپنی گرل فرینڈ کو بھی بتایا۔ وہ بھی اس صورتحال سے گزری تھی جب اس کے والد نے اس کی ماں کو دھوکہ دیا تھا، لہذا اس سے مجھے بہت مدد ملی۔

لیکن مشکل بات یہ تھی کہ والدہ کو پتہ چلنے کے بعد والد کا برتاؤ کیسا رہا۔ وہ انھیں کسی قسم کی دیکھ بھال اور دیگر چیزوں کے لیے پیسے نہیں دے رہے تھے جس سے ان کی زندگی مشکل ہو گئي تھی۔

انھوں ایک کم ظرفی والی بات یہ کی کہ کرسمس پر والدین کی جانب سے میری بہن کو جو کمپیوٹر تحفے میں ملا تھا انھوں نے اسے ماں سے واپس دینے کی بات کی۔

میں نے انھیں فون کیا کہ اس میں میری بہن کو نہ لائیں۔ اگلے دن انھوں نے ہم دونوں کو ایک میسیج کیا: 'یہی اچھا ہوگا کہ ہم رابطے میں نہ رہیں۔'

ماں اور والد طلاق لے رہے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ وہ دوسری عورت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ میں اب اس بات پر غور کر رہا ہوں کہ مجھے کس رشتے کو مضبوط رکھنا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں