جاپانی ماں کو اپنی بیٹی کے لیے باپ کرائے پر کیوں لینا پڑا؟

سٹریٹ

مگومی بچی تھیں جب ان کے والدین کی طلاق ہو گئی تھی اور ان کے والد ان کی زندگی سے غائب ہو گئے۔ لیکن سالوں بعد ان کی والدہ نے بتایا کہ والد دوبارہ رابطہ بحال کرنا چاہتے ہیں۔ مگومی یماڈا سے تواتر سے ملنے لگیں۔ مگومی کا خیال ہے کہ یماڈا ان کے اصل والد ہیں اور یہ کہ ان کے والد کا اصل نام یماڈا ہی ہے لیکن یہ ایک جھوٹ ہے۔

مگومی کی والدہ اساکو کا کہنا ہے ’جب سے مگومی نے ہوش سنبھالا وہ پوچھا کرتی تھیں کہ والد کہاں ہیں۔ اس کو صرف یہ معلوم تھا کہ اس کے جنم کے بعد والد چلے گئے تھے اور وہ اس کے لیے اپنے آپ کو مورد الزام ٹھہراتی تھی۔‘

کئی سال تک تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن جب مگومی 10 سال کی ہوئی تو اساکو نے نوٹس کیا کہ ان کی بیٹی کے برتاؤ میں تبدیلی آ رہی ہے۔

’وہ مجھ سے بات نہیں کرتی تھی اور بہت خاموش اور تنہا رہنے لگی۔ کافی دیر لگی یہ معلوم کرنے کے لیے اس کو تنگ کیا جاتا تھا۔‘

اساکو کو معلوم ہوا کہ مگومی والدین کی علیحدگی کے لیے اپنے آپ کو الزام دے رہی تھی۔ اس کے کلاس فیلو اس کو تنگ کرنے لگے کہ اس کے والد نہیں ہیں۔ جاپان میں اگر والدین میں علیحدگی ہوئی ہو تو اس کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔

آخر کار وہ اتنی ناخوش ہو گئی کہ اس نے سکول جانے سے انکار کر دیا۔ ’یہ میری اکلوتی اولاد ہے اور اس کو ایسا دیکھ کر میرا دل ٹوٹ گیا۔‘

اساکو کا کہنا ہے کہ انھوں نے مدد کے لیے سکول انتظامیہ سے بات کی لیکن جب کچھ بھی کام نہیں کیا تو ان کے ذہن میں ایک خیال آیا۔

’میرے ذہن میں خیال گردش کر رہا تھا کہ اگر میں ایک مرد ڈھونڈ لوں جو اچھا اور مہربان ہو ایک بہترین والد کی طرح۔ ایک ایسا شخص جو میری بیٹی کو بہتر محسوس کرا سکے؟‘

لڑکیاں

اساکو نے ایسی ایجنسیوں کے بارے میں سنا ہوا تھا جو رشتہ دار کرائے پر دیتے ہیں تاکہ ان کو لوگ شادیوں اور یا ڈیٹ پر لے جا سکیں۔ یہ ایجنسیاں جاپان میں کافی ہیں۔ اساکو نے ایک ایجنسی سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا وہ ایک جعلی والد مہیا کر سکتے ہیں۔

پانچ امیدواروں میں سے انھوں نے تکاشی کو چنا۔ اساکو کا کہنا تھا ’مجھے تکاشو سے بات کرنا بہت آسان لگا۔ وہ اچھے مرد تھے اور میں نے اپنی جبلت کی پیروی کی۔‘

تکاشی کرائے کی ایجنسی کے مالک ہیں اور ان کے پاس 20 اہلکار کام کرتے ہیں اور ایک ہزار سے زیادہ فری لانسرز ہیں جن میں مرد اور عورتیں دونوں ہی ہیں جن کی عمریں اور پس منظر کے جو ہر قسم کی صورتحال میں کام کر سکتے ہیں۔ وہ جعلی نام، شخصیات اور کردار اپنا سکتے ہیں۔ ان کو اکثر جھوٹ بولنا پڑتا ہے لیکن وہ اس چیز کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ وہ قانون نہ توڑیں۔

تکاشی نے خود بھی بوائے فرینڈ، کاروباری شخصیت، دوست اور والد کے کردار نبھائے ہوئے ہیں اور وہ پانچ جعلی شادیوں میں برائیڈ گروم بھی بنے ہیں۔

تکاشی نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے کردار کی تیاری کے لیے ہالی وڈ کی فلمیں دیکھتے ہیں۔

شیشہ

تکاشی کا کہنا ہے ’میں فلموں کی کو غور سے دیکھتا ہوں اور اس کے مکالمے یاد کرتا ہوں۔ میں اس پر غور کرتا ہوں کہ کیسے ایک خاندان کے مختلف لوگ آپس میں بات چیت کرتے ہیں اور کیسے ایک خاص قسم کا والد یا شوہر بننے کے لیے کیا درکار ہوتا ہے۔‘

اساکو کئی بار تکاشی سے ملیں تاکہ بتا سکیں کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے کس قسم کا والد چاہتی ہیں۔

’میری درخواستیں بہت آسان سی تھیں۔ پہلے تو وہ معافی مانگیں کہ وہ اب تک مگومی کی زندگی میں نھیں تھے۔ اور دوسرے یہ کہ میں چاہتی تھی کہ وہ مگومی کی بات سنیں جو وہ کہنا چاہتی ہے۔‘

اساکو نے مگومی کو بتایا کہ اس کے والد نے دوسری شادی کر لی ہے اور اب ان کا ایک نیا خاندان ہے لیکن حال ہی میں انھوں نے دوبارہ رابطہ کیا ہے کیونکہ وہ ہم سے ملنا چاہتے ہیں۔

مگومی یہ سن کر حیران رہ گئی لیکن پھر وہ والد سے ملنے کے لیے آمادہ ہو گئی۔ اور اس طرح 10 سال بعد تکاشی یماڈا بن گئے۔ یہ ان کا سب سے لمبا چلنے والا اور شاید سب سے زیادہ اخلاقی طور پر مشکوک کردار تھا۔

تکاشی کو اب بھی مگومی سے ہونے والی پہلی ملاقات یاد ہے۔

’یہ ایک جذباتی طور پر پیچیدہ ملاقات تھی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ میں پہلے کیوں نہ ملنے آیا اور میں نے اس ناراضی کو محسوس کیا۔‘

تکاشی یماڈا بن کر مگومی اور اساکو سے مہینے میں دو تین بار ملنے لگے۔ ان کے ساتھ باہر جاتے، سینیما جاتے اور سالگرہ پر جاتے۔ اور اساکو کا کہنا ہے کہ بہت جلد ان کو اپنی بیٹی میں تبدیلی نظر آئی۔

’کچھ ہی عرصے میں مگومی بہت خوش رہنے لگی اور زیادہ باہر جانے لگی۔ اس کو باتیں کرنے میں مزہ آتا تھا۔ وہ سکول بھی دوبارہ جانا چاہتی تھی اور اس وقت میں نے سوچا کہ یہ فائدہ مند رہا ہے۔‘

بیٹی

اساکو کو ایک موقع یاد ہے جب وہ اور یماڈا مگومی کے سکول میں ایک ملاقات کے لیے گئے۔

’ہم کلاس روم میں پیچھے کھڑے تھے۔ اس نے ہم دونوں کو اکٹھا دیکھا اور بار بار مڑ مڑ کر ہمیں دیکھتی رہی۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور مجھے بڑی خوشی ہوئی۔‘

تکاشی کی سروس سستی نہیں ہے۔ ہر بار انھوں نے یماڈا کا کردار ادا کرنے کے 90 ڈالر چارج کیے۔ اگرچہ اساکو کی تنخواہ اچھی ہے لیکن ان کو تکاشی کو ان کی سروس کے عوض رقم دینے کے لیے بچت کرنی بڑتی تھی۔ لیکن جب ان کو اپنی بیٹی کی خوشی یاد آتی تو وہ ہچکچاتی نہیں تھیں۔

تکاشی نے بھی مگومی میں تبدیلی دیکھی۔ وہ ایک خاموش، ہچکچانے والی لڑکی تھی۔ ’آہستہ آہستہ وہ خوش رہنے لگی اور زیادہ پراعتماد ہو گئی۔ میں اس کو اساکو کے ساتھ ملتا تھا لیکن ایک روز اس نے کہا کہ وہ والد کے ساتھ اکیلا جانا چاہتی ہے۔ میں اس کو باہر لے گیا اور اس نے پہلی بار میرا ہاتھ پکڑا۔‘

سٹریٹ

دس سال سے یماڈا کا کردار ادا کر کے تکاشی مگومی کے کافی قریب ہو گئے ہیں۔ وہ خاندان کا حصہ بن گئے ہیں۔ وہ مگومی کو بتاتے ہیں کے ان کو اس سے پیار ہے جیسے کہ کوئی والد اپنی بیٹی سے کہتا ہے۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ تکاشی کو مگومی سے پیار نہیں ہے۔

وہ اس دھوکہ دہی کا جواز پیش کریں گے؟

تکاشی کا کہنا ہے ’میرے پیشے میں شخصیت اور شناخت کو تبدیل کرنا بہت اہم ہے۔ لیکن میں انسان ہوں تو اس لیے یقیناً اس بچی سے مجھے تم سے پیار ہے کہنے میں مجھ پر جذباتی اثر ہوتا ہے۔ لیکن یہ کاروبار ہے ایسا کرنا پڑتا ہے اور مجھے یہ بات اپنے آپ کو بار بار بتانی پڑتی ہے۔‘

اساکو کو بھی اس بات کا اندازہ ہے کہ کچھ لوگ ان کے انتخاب سے متفق نہیں ہوں گے۔ ’مجھے معلوم ہے کہ میں جو کر رہی ہوں وہ شدید ہے۔ لیکن میں اپنی بیٹی کو بچانا چاہتی تھی۔

پہلے ہی سے پیچیدہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ اساکو بھی تکاشی سے وابستہ ہو گئی ہیں۔ ’جب ہم تینوں ساتھ ہوتے ہیں میں بہت مطمئن ہوتی ہوں۔ ہم باتیں کرتے ہیں، ہنستے ہیں اور ہم ایک دوسرے سے بڑے اچھے طریقے سے پیش آتے ہیں۔ وہ ہماری زندگی میں اتنے عرصے سے ہیں کہ میں اب چاہتی ہوں کہ میں ان سے شادی کر لوں اور وہ ہمارے خاندان کا حصہ بن جائیں۔‘

ماسک

لیکن اساکو کو اس حقیقت کا سامنا بھی ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کے ساتھ محبت میں مبتلا ہیں جو اصل نہیں اور جو ان سے محبت نہیں کر سکتے۔

’میں نے تکاشی کو بتایا کہ میں کیا محسوس کرتی ہوں لیکن انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ ہمارے ساتھ اپنی نوکری کے لیے ہیں۔ یہ بہت پیچیدہ بات ہے۔ میں بخوبی واقف ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ صرف اس لیے ہیں کہ ہم ان کو معاوضہ ادا کر رہے ہیں۔‘

انھوں نہ مزید کہا ’میں اپنے رشتے کے بارے میں خواب دیکھتی ہوں کہ شاید ہم اصل خاندان بن جائیں لیکن جو اس وقت ہمارا رشتہ ہے یہ مجھے جذباتی اور ذہنی طور پر مدد کرتا ہے۔ یہ مجھے مستحکم رکھتا ہے۔‘

اصل میں اساکو کا کوئی ارادہ نہیں کہ وہ تکاشی کے ساتھ اس بندوبست کو ختم کریں اور وہ چاہیں گی کہ تکاشی مگومی کے والد کا کردار ادا کرتے رہیں۔

’بہترین صورتحال یہ ہے کہ میری بیٹی یہ سوچتی رہے کہ وہ میرا والد ہے۔ جب اس کی شادی ہو تو میں چاہوں گی کہ وہ شادی میں شرکت کریں اور جب وہ ماں بنے تو وہ نانا کے طور پر کردار ادا کریں۔ بدترین صورتحال اس وقت ہو گی جب میری بیٹی کو معلوم چلے گا کہ تکاشی اس کے والد نہیں ہیں۔‘

اور اگر مگومی کے اصل والد آ گئے؟

اساکو نے ایسا ہونے کی طرف توجہ نہیں دی ہے۔ ان کا طلاق کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے اور ان کے خیال میں ایسا ہونا مشکل ہے۔ لیکن اگر کسی دن اصل والد آ بھی گئے تو اساکو کا خیال ہے کہ مگومی اپنے والد کے طور پر تشاکی کو اپنے اصل والد کے اوپر فوقیت دے گی کیونکہ دونوں کا رشتہ بہت اچھا ہے۔

تشاکی کو بھی احساس ہے کہ یہ جھوٹ بڑھتا جائے گا۔ ’کرائے پر خاندان کے کسی فرد کو لینے کا یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مگومی کی مستقبل قریب میں شادی ہو سکتی ہے اور پھر اس کا شوہر مجھے مگومی کا اصل شوہر سمجھے گا۔ اگر اس کا بچہ ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ میں بچے کا نانا ہوں۔‘

ماسک

اور تکاشی نے اس بارے میں بھی سوچا ہوا ہے کہ اگر مگومی کو اصلیت معلوم ہو گئی۔ تاہم ان کے قریب جو ممکنہ سین بن سکتے ہیں وہ بہت مثبت ہیں۔

تکاشی کہتے ہیں ’بہترین سین وہ ہے مگومی ان کا شکریہ ادا کرے گی کہ انھوں نے اتنا خیال رکھا۔ اس میں 80 فیصد تخیل ہے۔ باقی 20 فیصد سوچتا ہے کہ وہ بری طرح متاثر ہو گی۔ وہ شاید کہے کہ پہلے کیوں نہیں بتایا؟ تم آخر تک کیوں نہیں جھوٹ بول سکے؟‘

تکاشی نے مزید کہا ’میرے خیال میں میں مگومی کی زندگی میں اس کے لیے بڑا سہارا رہا ہوں ۔۔۔ شاید اس کو شکریہ کہنے کے لیے کہنا کچھ زیادہ ہو جائے گا لیکن میں چاہتا ہوں کم از کم وہ ہماری سروس تسلیم کرے۔‘

بہت سارے لوگ اس بات کو سمجھ نہ سکیں کہ اساکو نے ایسا کیوں کیا اور اگر ان کی بیٹی کو اصلیت معلوم ہو جائے تو اس پر کیا گمرے گی۔

’مجھے معلوم ہے کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بے وقوفی ہے کہ میں کسی کو اپنی بیٹی سے جھوٹ بولنمے کے لیے معاوضہ ادا کروں لیکن میں لاچار تھی۔‘

تمام نام بدل دیے گئے ہیں تاکہ مگومی کو اس وقت تک اس دھوکے کا پتہ نہ چلے جب تک ان کی والدہ خود انھیں بتانے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہو جاتیں

خاکے کیٹی ہورچ

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں