یمن میں ’غذائی قلت سے 85000 بچے ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ MOHAMMED AWADH/SAVE THE CHILDREN

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے شاید یمن میں تین سال سے جاری قحط سالی کی وجہ سے اب تک 85 ہزار بچے مر چکے ہیں۔

سیو دی چلڈرن کے مطابق یہ تعداد برطانیہ کے شہر برمنگھم میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تعداد کے برابر ہے۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ ماہ بھی خبردار کیا تھا کہ ایک کروڑ یمنی آبادی قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔ عالمی ادارہ یمن میں جنگ بندی کے لیے بات چیت کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ دنیا کے بدترین انسانی بحران سے بچا جا سکے۔

یمن میں سنہ 2015 میں جنگ کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے وہاں فضائی بمباری کی۔ یہ کارروائی حوثی باغیوں کے خلاف کی گئی۔ اس نے صدر منصور الہادی کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا۔

مزید پڑھیے

سعودی اتحاد کا یمن میں حملہ، ’22 بچے، چار عورتیں ہلاک‘

’مزید دس لاکھ یمنی بچے قحط کے خطرے سے دوچار‘

یمن: ’قحط کا خطرہ، ہر دس منٹ بعد ایک بچے کی موت‘

اقوام متحدہ کا کہنا ہےکہ اب تک جنگ میں 6800 شہری ہلاک اور 10700 زخمی ہو چکے ہیں۔ جنگ اور راستوں کی جزوی بندش نے دو کروڑ بیس لاکھ افراد کو بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے۔ اس کی وجہ سے خوراک کا سب سے بڑا بحران پیدا ہوا ہے اور ہیضے کی وبا سے بارہ لاکھ افراد متاثر ہوئے۔

امدادی ادارے نے اموات کے بارے میں کیسے پتہ لگایا؟

امواد کی اصل تعداد کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بہت سی ہلاکتوں کے بارے میں رپورٹ ہی نہیں کیا گیا کیونکہ ملک میں موجود صحت کی سہولیات کے مراکز میں سے صرف نصف کام کر رہے ہیں اور بہت سے لوگ بہت غریب ہیں۔ اس کے علاوہ صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل کرنا بھی آسان نہیں۔

سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ اس نے جو اعداد و شمار بتائے ہیں وہ دراصل ان قحط کا شکار پانچ سال سے کم بچوں کے ہیں جنھیں امداد نہیں ملی اور یہ ڈیٹا اقوام متحدہ کی جانب سے مرتب کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ ہر ماہ کی بنیاد پر لاکھوں یمنیوں کو راشن فراہم کرتا ہے

ایک محتاط اندازے کے مطابق 84 ہزار سات سو بچے اپریل سنہ 2015 سے اکتوبر 2018 کے دوران ہلاک ہوئے۔

خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ملکی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر بہت سے خاندانوں کو خوراک کے بحران کاشکار کر رہی ہے۔

برطانیہ میں موجود امدادی ادارے نے الزام عائد کیا ہے کہ حدیدہ کی بندر گاہ کی بندش نے قحط کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے اور یہ حالات کو مزید ابتر کرنے کا باعث ہے۔

سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ باغیوں نے بندرگاہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہاں یہ ملک کی 90 فیصد درآمدات آتی تھیں اب وہ ایک ماہ میں 55 ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ کم ہوئی ہیں۔

ادارے کے مطابق یہ 22 لاکھ بچوں سمیت 44 لاکھ یمنیوں کی ضروریات پورے کرنے کے لیے کافی تھا۔

غذائیت کی کمی کا شکار ہونے والے بچوں کا کیا ہوا؟

امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ تاریخی طور پر یہ سامنے آیا ہے کہ اگر غذایت کی شدید کمی کے مسیلے کو یونہی چھوڑ دیا تو ہر سال 20 سے 30 فیصد بچے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

یمن میں ادارے کے ڈائریکٹر تعمیر کیرولوس کہتے ہیں کہ ہر بچہ جو بم اور گولی سے مر رہا ہے اور درجنوں جو بھوک سے مرنے والے ہیں سب کو بچایا جا سکتا ہے۔

قحط کی وجہ سے مرنے والے بچوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ بچے بہت تکلیف کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کے اہم اعضا آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کا قوت مدافعت کا نظام بہت کمزور ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ بہت آسانی سے انفیکشن کا شکار ہو جاتے ہیں وہ اتنے کمزور ہو جاتے ہیں کہ رو بھی نہیں سکتے۔

'بچوں کے والدین ان کو مرتا ہوا دیکھتے ہیں اور ان کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔

ڈائریکٹر تعمیر کیرولوس نے خبردار بھی کیا کہ حدیدہ میں ڈیڑھ لاکھ بچوں کی زندگی کو خطرہ ہے کیونکہ حالیہ ہفتوں میں وہاں بمباری میں 'غیر معمولی اضافہ' ہوا ہے۔

ایک ماں کا درد

تصویر کے کاپی رائٹ MOHAMMED AWADH/SAVE THE CHILDREN
Image caption 13 ماہ کا نصیر شدید غذائی قلت کا شکار ہے

نصیر کی عمر 13 ماہ ہے وہ شدید غذائی قلت کے شکار ان بچوں کی فہرست میں شامل ہیں جنھیں سیو دی چلڈرن کی مدد حاصل ہے۔

ان کا علاج رواں برس اگست میں شروع ہوا تھا لیکن ان کی طبیعت اکتوبر میں خراب ہو گئی تھی۔

پھر اس وقت ان کی والدہ سے کہا گیا کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر دور کے علاقے میں چلی جائیں کیونکہ ان کی رہائش کے قریب لڑائی بہت زیادہ تھی اور ہسپتال جانا مشکل تھا۔

بچے کی والدہ سوعاد نے بی بی سی کو بتایا کہ 'میں سو نہیں سکتی، یہ اذیت ناک ہے۔ میں اپنے بچوں کے لیے پریشان ہوں۔ اگر انھیں کوئی نقصان پہنچا تو میں زندہ نہیں رہ پاؤں گی۔'

کسی بھی ملک کو قحط زدہ علاقوں کی فہرست میں شامل کرنے اور ان تک ضروری امداد پہنچانے کےلیے ان حالات کا ہونا ضروری ہے۔

  • کم ازکم پانچ میں سے ایک گھر میں خوراک کی شدید قلت ہو۔
  • پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 30 فیصد سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہوں۔
  • ہر روز کی بنیاد پر 10 ہزار لوگوں میں سے دو افراد کی موت واقع ہو رہی ہو۔
تصویر کے کاپی رائٹ MOHAMMED AWADH/SAVE THE CHILDREN

اقوام متحدہ کی جانب سے ایک سال پہلے لگائے گئے ایک اندازے کے مطابق صورتحال فہرست میں دیے گئے پہلے دو نکات سے آگے پہنچ گئی ہے یا پھر یہ یمن کے 333 اضلاع میں سے 107 ان حالات کے بہت ہی قریب ہیں۔ لیکن تیسرے نکتے کے بارے میں بتانا بہت ہی مشکل ہے۔ اس وقت اقوام متحدہ اس حوالے سے دوبارہ سے تخمینہ لگا رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں