دولت اسلامیہ کے 'تاریک دور' کے بعد موصل یونیورسٹی کی بحالی

عراق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عراق کی موصل یونیورسٹی 'تاریکی کے دور' سے گزرنے کے بعد ایک بار پھر تدریسی سلسلہ بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اس یونیورسٹی پر دو سال سے زیادہ عرصے تک شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا قبضہ تھا۔

اتنے عرصے تک دولت اسلامیہ کے کنٹرول اور وہاں ہونے والی تباہی کے بعد یونیورسٹی کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ابھی بھی بہت سارا کام باقی ہے۔

یونیورسٹی کے انگریزی ڈپارٹمنٹ سے منسلک استاد ڈاکٹر ریاض العلاف کہتے ہیں کہ یونیورسٹی کی 'مرکزی لائبریری کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ کوئلے کا ٹکڑا ہے۔'

اسی بارے میں مزید پڑھیے

موصل میں کچھ باقی بچا ہے؟

دولتِ اسلامیہ کی پروپیگنڈہ ’وار‘

کیا دولتِ اسلامیہ کا خاتمہ قریب ہے؟

دولت اسلامیہ کے بعد موصل شہر کی رونقیں بحال؟

ڈاکٹر ریاض العلاف کہتے ہیں کہ یہ لائبریری مشرق وسطیٰ کی چند سب سے بڑی لائیبریریوں میں سے ایک تھی۔ اسے جلا کر راکھ اور یونیورسٹی کی باقی عمارتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر ریاض العلاف کے مطابق ابھی بھی وہاں سے ملبہ اٹھانا باقی ہے لیکن طلبہ نے واپس آنا شروع کر دیا ہے اور اساتذہ بیرون ملک ساتھیوں سے رابطے قائم کرنا شروع ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption موصل یونیورسٹی کی مرکزی لائیبریری

برطانیہ کی لنکاسٹر یونیورسٹی سے بھی ان کا رابطہ ہوا ہے اور دونوں تدریسی ادارے ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں اور لنکاسٹر یونیورسٹی ان کے ساتھ آن لائن ٹیکنالوجی کے بارے میں اپنی مہارت شیئر کرے گی۔

انھوں نے کہا 'اس میں کافی وقت لگا ہے لیکن یونیورسٹی کا ماحول آہستہ آہستہ دوبارہ قائم ہو رہا ہے۔'

یزیدی طلبہ کی واپسی

ڈاکٹر ریاض العلاف نے کہا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے بچے جیسے مسیحی طلبہ اور یزیدی طلبہ نے بھی واپس یونیورسٹی کا رخ کر لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ طلبہ ابھی بھی موصل شہر میں رہائش پذیر نہیں ہیں لیکن 'ان کی یونیورسٹی میں موجودگی بہت خوش آئند ہے۔ مختلف طبقوں اور برادریوں سے آنے والے طلبہ کی موجودگی سے محسوس ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کا ماحول پہلے جیسا ہو رہا ہے۔'

خوف کا دور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

موصل یونیورسٹی عراق کی دوسری سب سے بڑی یونیورسٹی ہے جہاں 30000 طلبہ زیر تعلیم ہیں لیکن یہ وہی ادارہ ہے جہاں خوف کا راج طاری تھا۔

دنیا بھر میں شاید بہت ہی کم ایسے تعلیمی ادارے ہوں گے جنھوں نے اس قسم کی بربریت کا سامنا کیا ہوگا جو یہاں دولت اسلامیہ کے دور میں برپا ہوئی تھی۔ شدت پسند تنظیم نے اس ادارے کے نصاب تعلیم کو بھی تبدیل کر کے تنظیم کے شدت پسند طرز عمل اور نظریے پر ڈھالنے کی کوشش کی۔

اُس دور میں یونیورسٹی میں پڑھانے والے اساتذہ نے کہا کہ ماحول نہایت خوفناک تھا اور وہاں کتابیں جلائی جاتی تھیں، ادب پڑھانے پر پابندیاں لگائی ہوئی تھیں اور سزائیں دینے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔

یونیورسٹی کے عملے پر دباؤ تھا کہ وہ کام پر آئیں ورنہ انھیں ڈر تھا کہ کہیں انھیں قتل نہ کر دیا جائے۔

بھول جانے کی خواہش

جب یونیورسٹی کو دولت اسلامیہ کے چنگل سے آزاد کرا لیا گیا تو اس ادارے کی عمارتوں پر بمباری اور حملے کیے گئے۔

ڈاکٹر العلاف کہتے ہیں کہ طلبہ اور یونیورسٹی کا عملہ دونوں واپس آنے ہر بہت خوش ہیں لیکن انھیں ابھی بھی خوف ہے۔

'محفوظ رہنے کا جو احساس ہے وہ کم ہو گیا ہے اور کم از کم اس نسل کے طلبہ کو وہ احساس دوبارہ میسر نہیں ہوگا۔'

دولت اسلامیہ کی جانب شہر پر قبضہ ابھی بھی موصل میں لوگوں کے ذہنوں میں ہے۔

ڈاکٹر العلاف نے کہا کہ لوگوں کو ابھی بھی خوف ہے کہ یہاں دہشت گردی واپس آجائے گی اور موصل میں ہونے والی کرپشن سے بھی وہ بہت پریشان ہیں۔

انھوں نے کہا 'لوگوں میں امید کی بہت کمی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

'ہاں، ہم دیکھتے ہیں کہ عمارت دوبارہ تعمیر ہو رہی ہے، رنگ و روغن ہو رہا ہے، لیکن ابھی بھی مزید سہولیات اور وسائل کی کمی ہے۔'

انھوں نے کہا کہ ادارے کے پاس صلاحیت ہے لیکن 'ہم دنیا سے کٹ کر رہ گئے ہیں اور اب ہمیں دنیا کے برابر آنا ہے۔'

رابطوں کا قیام

ڈاکٹر ریاض العلاف کی کوششوں سے لنکاسٹر یونیورسٹی سے روابط قائم کیے گئے ہیں اور برطانوی یونیورسٹی کی پروفیسر الینا سمیونو کہتی ہیں کہ 'موصل یونیورسٹی کا عملہ اور طلبہ جن حالات میں کام کر رہے ہیں وہ ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پروفیسر سیمونو نے کہا کہ 'موصل یونیورسٹی کہ طلبہ اور عملہ بہت ذوق و شوق سے کام کرنا چاہتے ہیں اور ہم بھی اپنی پوری کوشش کریں گے کہ ان کی مدد کر سکیں۔'

حالیہ کچھ عرصے میں عراقی یونیورسٹیوں میں تعلیمی نظام بحال ہو رہا ہے۔ اس سال ٹائمز ہائر ایجوکیشن میں دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کی عالمی رینکنگ میں بغداد یونیورسٹی کا نام دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل ہوا تھا۔

ڈاکٹر ریاض العلاف نے کہا کہ عراقی یونیورسٹیوں کو باہر کے تعلیمی اداروں سے رابطے بڑھانے ہوں گے اور ان کی مدد حاصل کرنی ہوگی۔

'موصل یونیورسٹی کہیں سے بھی، کسی سے بھی بات کرنے کے لیے بے چین ہے، بھلے وہ صرف ہیلو کہنے کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔'

اسی بارے میں