متحدہ عرب امارات: ’خاتون نے عاشق کو پکا کر پاکستانی مزدوروں کو کھلا دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ملزمہ کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے (فائل فوٹو)

مراکش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے عاشق کو قتل کر کے ان کی باقیات پکا کر پاکستانی مزدوروں کو کھلا دیں۔

متحدہ عرب امارات میں استغاثہ کا الزام ہے کہ اس خاتون نے تین ماہ قبل اپنے بوائے فرینڈ کو قتل کیا لیکن اس بارے میں حال ہی میں اس وقت معلوم ہوا جب ان کے زیر استعمال بلینڈر سے ایک انسانی دانت ملا۔

مقامی اخبار دی نیشنل کے مطابق اس خاتون نے پولیس کے سامنے یہ جرم قبول کرتے ہوئے کہا کہ ایسا 'پاگل پن' کے لمحے میں ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

'لوگ ہمیں آدم خور سمجھتے ہیں'

سوات: خاوند نے بیوی کو عدالت کے اندر قتل کر دیا

مفرور آدم خور بھائی بھی گرفتار

30 برس سے زیادہ عمر کی اس خاتون پر مکمل تحقیقات کے بعد مقدمہ چلایا جائے گا۔

اس خاتون کا مقتول کے ساتھ سات برس پرانا تعلق تھا۔ دی نیشنل کے مطابق انھوں نے اس شخص کو اس وقت قتل کیا جب انھوں نے خاتون کو بتایا کہ وہ مراکش سے ہی تعلق رکھنے والی ایک دوسری خاتون سے شادی کرنے والے ہیں۔

پولیس نے اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں بتایا کہ قتل کیسے کیا گیا تاہم ان کا یہ کہنا ہے کہ اس خاتون نے اس شخص کی باقیات کو پکا کر روایتی چاول اور گوشت کی ڈش کے ساتھ ملا کر قریب ہی کام کر رہے پاکستانی ملازمین کے ایک گروپ کو پیش کر دیا تھا۔

مقامی خبروں کے مطابق جب مقتول کا بھائی ان کی تلاش میں العین پہنچا تو وہاں انھیں بلینڈر میں ایک انسانی دانت ملا۔

انھوں نے اپنے بھائی کی گمشدگی کی رپورٹ پولیس میں درج کرائی اور اُس دانت کے ڈی این اے ٹیسٹ سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ یہ مقتول کا ہی دانت ہے۔

پولیس کے مطابق اس خاتون نے پہلے مقتول کے بھائی کو یہ کہا کہ انھوں نے اسے گھر سے نکال دیا ہے۔ لیکن مقامی اخبار گلف نیوز کے مطابق بعد میں پولیس کی تفتیش کے دوران اس قتل کو تسلیم کر لیا۔

اطلاعات کے مطابق ملزمہ نے اپنے فلیٹ سے تمام نشانات مٹانے کے لیے ایک دوست کی مدد لی تھی۔

اس خاتون کو ذہنی معائنے کے لیے ہسپتال بھجوا دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں