سعودی عرب: شاہ سلمان یا محمد بن سلمان کے حوالے سے توہین آمیز بات برداشت نہیں کریں گے

الجبیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عادل الجبیر نے اس بات کو دہرایا دیا کہ ولی عہد جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث نہیں ہیں

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو منصب سے ہٹانے کا مطالبہ ایک ’سرخ لکیر‘ ہے۔

بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ولی عہد دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث نہیں ہیں۔

انھوں نے یہ بات امریکی سینیٹ کے ارکان کی اس درخواست کے بعد کہی جس میں صدر ٹرمپ سے سعودی ولی عہد کے اس قتل ملوث ہونے یا نہ ہونے کی دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

خاشقجی کے قتل کی آڈیو ٹیپ نہیں سنوں گا: ٹرمپ

خاشقجی قتل: ’امریکہ نے ابھی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا‘

امریکہ نے 17 سعودی شہریوں پر پابندی عائد کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں امریکہ کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا دفاع کیا ہے مگر یہ بھ کہا کہ ہو سکتا ہے ولی عہد جمال خاشقجی کے وحشیانہ قتل کے بارے میں ’اچھی طرح‘ جانتے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہو سکتا ہے وہ جانتے ہوں اور ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جمال خاشقجی کو دو اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی عرب کے قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش تاحال نہیں ملی ہے

سعودی وزیر خارجہ نے کیا کہا؟

ریاض میں بی بی سی کی چیف بین الاقومی نامہ نگار لیز ڈوسیٹ سے بات کرتے ہوئے عادل الجبیر نے کہا کہ ’سعودی عرب میں ہماری قیادت ایک سرخ لکیر ہے۔ خادم الحرمین شریفین (شاہ سلمان) اور ولی عہد (محمد بن سلمان) ایک سرخ لکیر ہیں۔‘

’وہ ہر سعودی شہری کے نمائندہ ہیں اور ہر سعودی شہری ان کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہم ایسی کوئی بات چیت برداشت نہیں کریں گے جو ہماری بادشاہت یا ہمارے ولی عہد کے حوالے سے توہین آمیز ہو۔‘

عادل الجبیر نے اس بات کو دہرایا کہ ولی عہد جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ بہت واضح کر دیا ہے۔ ہماری تحقیقات جاری ہیں اور ہم ان افراد کو سزا دیں گے جو اس کے ذمہ دار ہیں۔‘

امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آئی تھیں کہ سی آئی اے کے خیال میں یہ بیہمانہ قتل صرف ولی عہد کے حکم پر ہی ہو سکتا تھا۔

تاہم عادل الجبیر نے اس خبروں سے اختلاف کیا اور کہا کہ یہ قتل انٹیلی جنس ایجنٹس کی ایک ’بددیانت کارروائی‘ تھی۔

سعودی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر ترکی کو قتل سے متعلق تمام ثبوت فراہم کرنے اور معلومات لیک نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا دفاع کیا ہے

امریکی کانگریس کی جانب سے کیا مطالبہ کیا گیا؟

اس سے قبل امریکی سینیٹرز نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس بات کا تعین کروائیں کہ آیا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث تھے یا نہیں۔

امریکی سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ رہنماؤں نے منگل کو صدر ٹرمپ کے نام تحریر کردہ خط میں اس قتل میں محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کے بارے میں ایک اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

رپبلکن سینیٹر باب کروکر اور ڈیموکریٹ سینیٹر باب مینینڈز نے سینیٹ کی کمیٹی کی جانب سے بھی ایک بیان جاری کیا ہے۔

اس بیان میں صدر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک اور تحقیقات کروائیں جس کا مرکز ولی عہد ہوں تاکہ یہ ’طے ہو سکے کہ ایک غیرملکی ایک ماروائے عدالت قتل، تشدد یا (حقوقِ انسانی کی) کسی دیگر سنگین خلاف ورزی کا مرتکب تو نہیں ہے۔‘

کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی یہ درخواست گلوبل میگنٹسکی ہیومن رائٹس اکاؤنٹبلٹی ایکٹ کے تحت دی گئی ہے اور چار ماہ میں اس کا جواب دیا جانا ضروری ہے۔

یہ مطالبہ صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے خاشقجی کے قتل کی عالمی مذمت کے باوجود ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے رشتوں کا دفاع کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا کہا تھا؟

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی مملکت ’ایک ثابت قدم پارٹنر‘ ہے جس نے امریکہ میں ’ریکارڈ رقم‘ کی سرمایہ کاری پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے یہ اعتراف کیا کہ بہت حد تک ممکن ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو خاشقجی کے قتل کے بارے میں معلومات حاصل تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا بہت حد تک ممکن ہے کہ اس المناک واقعے کا علم ولی عہد کو رہا ہو۔ شاید وہ جانتے ہوں اور شاید نہیں بھی۔ بہرحال ہمارے تعلقات رشتہ مملکت سعودی عرب سے قائم ہیں۔‘

اس بیان کے بعد انھوں نے یہ بھی کہا کہہ سی آئی اے نے قتل کے متعلق ’100 فیصد‘ تعین نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں