جنوبی کوریا:کتوں کا سب سے بڑا سلاٹر ہاؤس بند کر دیا گیا

کتے کا گوشت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹائپیونگ ڈونگ کمپلیکس کو ایک عوامی پارک میں تبدیل کیا جائے گا

جنوبی کوریا میں حکام نے ملک میں کتوں کے سب سے بڑے سلاٹر ہاؤس کو گرانے کا کام شروع کر دیا ہے۔

دارالحکومت سیئول کے جنوب میں واقع سیونگنم شہر میں واقع ٹائپیونگ ڈونگ کمپلیکس کی زمین کو دو روز میں خالی کرکے ایک عوامی پارک میں تبدیل کیا جائے گا۔

جنوبی کوریا میں کتے کا گوشت عام کھایا جاتا ہے اور ہر سال تقریباً دس لاکھ کتے کھائے جاتے ہیں۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن اس روایت کو ختم کرنا چاہتے ہیں جبکہ جنوبی کوریا میں اب زیادہ لوگ کتوں کو بطور پالتو جانور اپنے رکھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں!

انسانوں اور کتوں کی دوستی کتنی پرانی؟

آسٹریلیا کا گوشت خور ناسور ایک معمہ

دنیا کا بدصورت ترین کتا

کورین اینیمل رایٹس ایڈووکیٹس (کارا) کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک تاریخی موقع ہے۔‘ تنظیم کے مطابق ’اس سے ملک بھر میں کتوں کے دیگر سلاٹر ہاؤس بند کرنے کی راہ کھلے گی، جلد ہی کتوں کے گوشت کی پوری صنعت زوال کا شکار ہوگی۔‘

ٹائپیونگ ڈونگ کمپلیکس ملک بھر کے ریستورانوں کو کتوں کے گوشت کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ اس کمپلیکس میں کم از کم چھ سلاٹر ہاؤس اور سینکڑوں کی تعداد میں جانور تھے۔

ہیومین سوسائٹی انٹرنیشنل کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کمپلیکس کے اندر حالات ’وحشت ناک‘ تھے۔ ان کے مطابق انھوں نے کتوں کو مارنے کرنے کے لیے بجلی کے جھٹکے دینے کا ساز و سامان، چھریاں اور بال اتارنے کی مشینیوں کو استعمال ہوتے دیکھا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنوبی کوریا میں کتے کے گوشت کے کھانے بنانے والے ریستورانوں میں کمی دیکھی گئی ہے

اس تنظیم سے منسلک نارا کم کہتی ہیں کہ ’یہ سیونگنم شہر پر ایک دھبہ تھا اور اسے گرتا دیکھ کر ہم خوش ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ جنوبی کوریا میں کتے کی گوشت کی صنعت کی خاتمے میں ایک اہم سنگ میل ہے، اور اس سے یہ واضح پیغام جاتا ہے کہ کتے کی گوشت کی صنعت تیزی سے کورین معاشرے میں ناقابل قبول ہو رہی ہے۔‘

ہر سال موسم گرما میں جنوبی کوریا میں تین دنوں کو خصوصی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے، اور اس دوران کتے کے گوشت کے کھانے تیز مصالحہ جات میں تیار کیے جاتے ہیں۔

فی الحال جنوبی کوریا میں کوئی ایسا قانون موجود نہیں ہے جو واضح کرتا ہو کہ گوشت کے حصول کے لیے جانوروں کو کیسے مارا جائے۔ مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے کارکنون نے حالیہ برسوں میں کتے کے گوشت کی تجارت میں مداخلت کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر جانوروں کو بچایا ہے۔

جنوبی کوریا میں کتے کے گوشت کے کھانے بنانے والے ریستورانوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ سیئول میں ایک وقت میں 1500 کے قریب ریستوران تھے، لیکن سنہ 2015 میں ان کی تعداد تقریباً 700 رہ گئی تھی۔

اسی بارے میں