دو مجرموں کو ریپ کے جرم سے بریت پر سپین بھر میں احتجاج

احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سپین میں پہلے بھی ریپ کے مجرموں کو بری کیا گیا ہے جس پر احتجاج ہوتا رہا ہے

دو مردوں کو ریپ کے الزام سے بری قرار دینے کے بعد سپین میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔

شمالی سپین کے شہر لیائدا کی عدالت نے چچا اور بھتیجے کو ریپ کی بجائے جنسی بدسلوکی کے ہلکے جرم میں ساڑھے چار سال کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ان دونوں مردوں نے ریپ نہیں کیا کیوں کہ انھوں نے تشدد اور دھونس سے کام نہیں لیا۔

یہ چچا بھتیجا متاثرہ خاتون سے ایک بار میں ملے تھے اور اس کے ساتھ نائٹ کلب گئے تھے۔ اس کے بعد وہ اسے ایک تاریک گلی میں لے گئے اور اس کے ساتھ سیکس کی۔

یہ خاتون ان کو بار بار منع کرتی رہی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ان دونوں نے 'ایک کمزور فرد کا فائدہ اٹھایا، اسے شراب اور اینٹی ڈیپریسنٹ گولیاں دیں، جس سے اس کی دفاع کی صلاحیت متاثر ہوئی، اس طرح انھیں زبردستی کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔'

تاہم فیصلے میں درج ہے کہ بغیر تشدد اور دھمکی کے انھیں ریپ کا مرتکب نہیں قرار دیا جا سکتا۔ سپین میں اس جرم کی سزا 15 سال قید ہے۔

اس کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور ہزاروں لوگوں نے سوشل میڈیا پر احتجاج کیا۔

ٹوئٹر پر ایک صارف مرسیڈیز ڈومینیچ نے کہا کہ عدالتی فیصلہ سکینڈل سے کم نہیں۔ 'اگر آپ اپنا دفاع نہیں کر سکتے تو یہ ریپ نہیں ہے۔ اگر کرتے ہیں تو وہ آپ کو قتل کر دیں گے۔'

اسی دوران 25 نومبر کو اقوامِ متحدہ کی جانب سے عورتوں پر تشدد کے خلاف دن کے موقعے پر 200 سے زیادہ مظاہروں کا پروگرام بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل اپریل میں بھی سپین میں اس وقت بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تھا جب عدالت نے پانچ مردوں کو گینگ ریپ کے الزام سے بری کر دیا تھا۔

ان مردوں نے ایک 18 سالہ خاتون کو ریپ کیا تھا اور اس کی ویڈیو بھی بنائی تھی۔

متاثرہ خاتون نے کہا کہ وہ خوف کے مارے منجمد ہو گئی تھیں، تاہم ججوں نے قرار دیا کہ چونکہ انھوں نے مزاحمت نہیں کی اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کے ساتھ زبردستی ہوئی ہے۔

اس فیصلے کے بعد سپین کی حکومت نے قانونی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم بنائی تھی تاکہ جنسی جرائم کے قانون میں ترمیم کی جائے۔

انسانی حقوق کے ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے جمعرات کو ایک رپورٹ جاری کی جس میں تنقید کی گئی ہے کہ سپین میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد روکنے کی پالیسیاں کارگر نہیں ہیں اور یہاں کا قانونی نظام متاثرین کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں