روس کی جانب سے یوکرین کے دو جنگی جہاز سمیت تین کشتیوں پر قبضے کے بعد حالات کشیدہ

روس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روسی جہازوں نے یوکرائن کی بحریہ کے تین جہازوں کو روک لیا

روس اور یوکرین کے مابین حالات ایک بار پھر کشیدہ ہو گئے جب روس نے بحیرہ اسود میں کرائمین جزیرہ نما میں یوکرینی بحریہ کی دو جنگی کشتیوں سمیت تین جہازوں پر حملہ کر کے ان پر قبضہ کر لیا ہے۔

اس واقعے میں یوکرینی کشتیوں میں موجود عملہ زخمی بھی ہوا ہے۔

دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر اس واقعے کی ذمہ داری عائد کی ہے اور پیر کو یوکرین کی پارلیمان کے ارکان ملک میں مارشل لا عائد کرنے کے بارے میں ووٹنگ کریں گے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

’کرائمیا 15 لاکھ برس بعد روس سے جُڑ جائے گا‘

انفارمیشن وار: آخر روس چاہتا کیا ہے؟

دونوں ملکوں کے دوران خاصے عرصے سے جاری بحران کا تازہ ترین واقعہ اس وقت پیش آیا جب روس نے یوکرین پر ملک کی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کا الزام لگایا۔

روس نے اپنے جواب میں بحیرہ اسود اور بحیرہ آزوو کے سنگم پر آبنائے کرچ پہ قائم برج کے نیچے اپنا بحری ٹینکر کھڑا کر کے راستہ مسدود کر دیا ہے۔

یوکرین کی قیادت کی اہم ملاقات میں صدر پیٹرو پوروشینکو نے ملک کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے روسی اقدامات کو 'بلا اشتعال اور دیوانہ پن' قرار دیا۔

یاد رہے کہ 2014 میں کرائمین جزیرہ نما پر روسی قبضے کے بعد دنوں ممالک کے حالات میں کشیدگی حالیہ دنوں میں دوبارہ بڑھ گئی ہے۔

Image caption روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ان کے یوکرائنی ہم منصب پیٹرو پوروشینکو

بحران کا آغاز کیسے ہوا؟

اتوار کی صبح یوکرین کے دو جنگی جہاز اور ایک کشتی بحیرہ اسود پر واقع بندرگاہ سے بحیرہ آزوو کی بندرگاہ ماریوپول کے سفر پر نکلے۔ یوکرینی حکام کے مطابق روسیوں نے ان کشتیوں کا راستہ روکا اور آبنائے کرچ کے برج کے نیچے ٹینکر کھڑا کر کے انھیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔

اسی اثنا میں روس نے اپنے دو جنگی طیارے اور دو ہیلی کاپٹروں کو اس علاقے میں بھیج دیا ہے۔ روسیوں نے یوکرین پر الزام لگایا ہے کہ ان کی کشتیوں نے غیر قانونی طور پر روسی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کی وجہ سے انھوں نے سکیورٹی وجوہات پر راستہ بند کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آبنائے کرچ کے برج کے نیچے راستہ روکنے کے لیے روسی جہاز کھڑا ہے

یوکرین کی بحریہ نے بعد میں جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ ان کی کشتیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور عملے کے چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

روسی حکام نے تصدیق کی کہ ان کی جانب سے یوکرینی جہازوں پر طاقت کا استعمال کیا گیا تاکہ انھیں آگے جانے سے روکا جائے لیکن عملے کے صرف تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ انھوں نے روسیوں کو کشتیوں کے آمدو رفت کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روس کی جانب سے آبنائے کرچ پر بھیجے گئے دو جنگی طیارے

اب تک بین الاقوامی رد عمل کیا ہے؟

یورپی یونین نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے کرچ پر راستے کو بحال کریں اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔

نیٹو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین کی سلامتی اور ان کے قانونی حقوق کی حمایت کرتے ہیں اور انھوں نے روس پر زور دیا کہ وہ یوکرین کے بحیرہ آزوو پر قائم بندرگاہ تک سفر میں رکاوٹیں پیدا نہ کرے۔

یوکرینی حکام نے اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی اور مطالبہ کیا ہے کہ روس کے خلاف عالمی برادری قدم اٹھائے۔

اسی بارے میں