کردستان کے ’دارالحکومت‘ کے قصہ گو، جن کا درد زبان کا محتاج نہیں

کرد قصہ گو تصویر کے کاپی رائٹ UMUT KACAR/ALAMY

ایک بھاری بھرکم آواز شہر کی گلیوں سے اٹھتی ہے اور فضا میں گھل جاتی ہے۔ اگر آپ کو کردوں کی زبان کا ایک لفظ بھی نہ آتا ہو تو بھی آپ اس آواز میں گھلے درد کو محسوس کرسکتے ہیں۔

ترکی کا شہر دیاربکیر دراصل کردستان کا دارالحکومت کہلاتا ہے۔ یہ شہر معروف دریا دجلہ کے ایک چوڑے ساحل پر آباد ہے۔

میں نے موسم گرما میں دیاربکیر کا سفر کیا تھا۔ اس وقت شدید گرمی تھی۔ پورا خطہ تپتے ہوئے سورج کی کرنوں سے زرد نظر آتا تھا۔ شہر کی سیاہ سڑکیں تپ رہی تھیں۔

دن کے وقت سارا شہر سنسان ہوتا تھا لیکن شام کے وقت کھیلتے کودتے شور مچاتے بچے ماحول کو نرم بنا دیتے تھے۔ سر پر دوپٹہ ڈالے خواتین سامان خریدنے کے لیے باہر نکلتیں اور گاڑیوں میں بہت سارے سامان کے ساتھ واپس ہوتیں۔

یہ خطہ اپنی زرخیزی کے لیے معروف ہے۔

میرے کانوں میں جو درد بھری بھاری آواز پڑی وہ دیار بکیر کی گلیوں میں گونج رہی تھی۔ سیاہ اینٹوں سے بنی عمارتوں کی قطاروں کے درمیان گلیوں سے آنے والی آواز مجھے ایک بڑے سے آنگن تک لے آئی۔

کردستان کی تاریخ کو بتانے والی دردانگیز آواز

گلیوں میں انگور اور شہ توت کے درخت گرمی سے راحت کا سامان فراہم کر رہے تھے۔ گلیوں کے آوارہ کتوں کے بھونکنے اور دکانداروں کی آوازیں کانوں میں پڑتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ UMUT KACAR/ALAMY

اتنی آوازوں کے درمیان وہ درد انگیز آواز الگ سے پہچانی جاتی تھی۔ وہ آواز محبت، امید و بیم اور غم کے ملے جلے اثرات پیدا کر رہی تھی۔

گلیوں سے ہوتے ہوئے ہم بالآخر ایک کشادہ صحن میں داخل ہوئے جسے مالا دینگبیجان یعنی دینگبیز کا مکان کہا جاتا ہے۔ کم از کم ایک صدی پرانی عمارت کی تجدید کاری ہوئی تھی۔ یہاں ایک اوپن ایئر تھیئٹر ہوا کرتا تھا۔

ود پردرد آواز یہیں سے آ رہی تھی۔ وہ کردستان کی درد ناک تاریخ اور اس کے ساتھ قسمت کی ستم ظریفی کو بیان کر رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ایران کی ہزاروں سال پرانی 'ٹھنڈی مشین'

وادی رم کی ’مہمان نوازی نے عرب بغاوت ناکام کر دی‘

جو علاقہ کردستان کہلاتا ہے وہ اب چار ممالک کے درمیان تقسیم ہے۔ سنہ 1916 میں برطانیہ اور فرانس نے اس علاقے کو شام، عراق، ترکی اور ایران میں تقسیم کرنےکا خفیہ معاہدہ کرلیا۔ آج ڈھائی سے ساڑھے تین کروڑ لوگ کردستان نامی خیالی ملک کے باشندے ہیں۔ ان کا اپنا وطن نہیں ہے لیکن مشترکہ زبان، ثقافت، تہذیب، روایت اور تاریخ کی مدد سے کردوں نے اپنے وطن کو اپنے دلوں میں زندہ رکھا ہے۔

سنہ 1923 میں جدید ترکی کے قیام سے قبل کردش زبان و ثقافت کو اپنی شناخت کو بچانے کے لیے جدوجہد کا سامنا تھا۔ ترکی کے حکمرانوں کا سارا زور کردوں کی شناخت ختم کر کے انھیں ترک بنانے پر رہا۔ تقریبا ایک صدی سے کرد باشندے اپنے علیحدہ ملک کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TERRY RICHARDSON

حال ہی میں دو سال قبل سنہ 2016 میں کرد باغیوں کا ترکی کی حکومت کے ساتھ پرتشدد تصادم ہوا تھا۔ اس تصادم میں قدیمی دیار بکیر شہر کا ایک بڑا حصہ تباہ ہوگیا۔ اس علاقے میں جاری تعمیراتی کام دراصل اس جنگ کے زخموں کے نشان ہیں۔ شہر کا ایک بڑا حصہ تعمیر نو کے لیے علیحدہ کر دیا گيا۔

آواز کا جادوگر

مالا دینگبیز کے صحن میں کرسیاں بے ترتیب انداز میں رکھی ہوئی تھیں۔ صحن کے پیچھے کے حصے میں تقریبا ایک درجن لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ عمر کے طویل سفر کا تجربہ ان کے چہروں کی جھرّیوں اور سفید بالوں سے ظاہر ہو رہا تھا۔ چھوٹی آستین والے کپڑوں میں وہ دلکش نظر آ رہے تھے۔

دھاری دار قمیض پہننے ایک مضبوط شخص اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ یہ ایک رزمیہ تھا جس میں نصف نثر اور نصف نظم تھی۔

وہ اپنی کرسی پر آگے کی طرف قدرے جھک کر دائیں اور بائیں کو جھومتے ہوئے کسی مشاق قصہ گو کی طرح کہانیاں سنا رہا تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ صحن میں موجود ہر شخص تک اس کی آواز پہنچے۔

یہ بھی پڑھیے

’کل بخت نصر، آج صدام حسین‘

’دنیا کا پہلا گیت شام میں تیار کیا گیا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بعض چیزوں پر زور ڈالنے کے لیے وہ بار بار بائیں ہاتھ سے اشارہ کرتا اور دائیں ہاتھ میں ایک تسبیح تھی جسے وہ گنتا جاتا تھا۔ اس نے کئی گھنٹوں تک قصہ گوئی کی لیکن ایک بار بھی اپنے نوٹس کی جانب نہیں دیکھا۔

اس کی آواز پورے ماحول میں گونج رہی تھی۔ نظم اور مکالمے کے ساتھ اس نے جو کہانی سنائی اس میں بہت سے اتار چڑھاؤ اور پیچ و خم تھے۔ وہ شخص آواز کا جادوگر تھا۔ اس نے اپنی آواز کے زیر و بم سے ایک سحر انگیز سماں باندھ دیا تھا۔ وہاں موجود ہر کوئی سانس روکے قصہ سن رہا تھا اور ہاتھوں کے اشارے سے داد بھی دیتا جاتا تھا۔

دینگبیز کیا ہے؟

کردش لفظ دینگبیز کا معنی آواز کا جادوگر ہے۔ یہ دو الفاظ دینگ اور بیز سے بنا ہے۔ جس کا مطلب آواز اور کہنا ہوتا ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک فن بھی ہے اور اس کا مظاہرہ بھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ TERRY RICHARDSON

دراصل دینگبیز کے فنکار خانہ بدوش قصہ گو ہوتے ہیں جو اپنی تاریخ کو کہانیوں اور اساطیر کے ساتھ زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

کرد علاقوں کے گاؤں اور قصبوں میں ایک مقررہ جگہ پر جمع ہو کر قصے کہانیوں کو سننے اور سنانے کی ان کی قدیم روایت رہی ہے۔ زیادہ تر کہانی سنانے والے مرد ہوتے ہیں۔ لیکن کئی خواتین گلوکارہ بھی ہوئی ہیں جو اپنی روایت کی علمبردار رہی ہیں۔ وہ بھلے ہی تعلیم یافتہ نہ ہوں لیکن وہ اپنے حافظے اور زبانی ہنر کی بنیاد پر اپنی تاریخ کی چلتی پھرتی لائبریری سے کم نہیں۔ ان میں یہ قصے اور کہانیاں نسل در نسل زبانی منتقل ہوتے رہے ہیں۔

ترکی میں دینگبیز کی روایت کو سخت مشکلات کا سامنا رہا۔ علیحدگی پسندی پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سنہ 1983 اور 1991 کے درمیان سرعام کرد زبان بولنے، لکھنے اور پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرد ادب اور موسیقی رکھنا جرم قرار دیا گیا۔ ایسے میں یہ دینگبیز کی روایت ہی تھی جس نے کرد تہذیب و ثقافت کو زندہ رکھا۔

برطانیہ کی ایبرڈین یونیورسٹی میں کرد محقق حنیفی وارث نے کہا: 'میرے خیال سے دینگبیز کا فن اس لیے محفوظ رہا کہ زیادہ تر کرد دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ مہمان خانوں میں لوگوں کو یکجا کرکے قصہ گوئی سے لطف اندوز ہونے کا سلسلہ چلتا رہا۔ سردیوں کے موسم میں تو ایسی محفلیں خاص طور پر منعقد ہوتی تھیں۔ میں اسی طرح کے گھر اور ماحول میں پلا بڑھا۔'

ان نششتوں کو 'شام گزاری' کہتے تھے جن میں دینگبیز کی روایت کے ساتھ کرد کہانیاں بھی محفوظ رہیں۔ خفیہ طور پر کرد اپنی اساطیری کہانیوں اور فن کو محفوظ کرتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ B.O'KANE/ALAMY

جب تعلقات بہتر ہوئے

21 ویں صدی کے آغاز سے کردوں اور ترکوں کے درمیان تعلقات بہتر ہونے لگے۔ کرد زبان بولنے اور اس کے ادب کی اشاعت کی اجازت دی گئی۔ کردش زبان میں سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر نشریات ہونے لگیں۔ سنہ 2009 میں کردش زبان میں ایک ٹی وی چینل کا آغاز ہوا۔ سنہ 2012 میں ایک سکول میں کردش زبان کی تعلیم کی اجازت دی گئی۔

مالا دینگبیز سنہ 2007 میں قائم ہوا تھا۔ کرد حامی میونسپل کارپوریشن نے دینگبیز روایت میں نئی روح پھونکنے کے لیے یہ جگہ طے کی۔ اب دینگبیز کی روایت کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے یہ مقام اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مالا دینگبیز صبح نو بجے سے شام چھ بجے تک کھلا رہتا ہے۔ یہ منگل سے اتوار تک کھلا رہتا ہے۔ یہاں پرفارمینس کا کوئی مقررہ معیار نہیں ہے۔ بلکہ یہ لوگوں کے میل جول اور تہذیبی شناخت کو برقرار رکھنے کا مقام ہے۔ چائے پر چائے کا دور چلتا ہے اور اس کے ساتھ قصہ گوئی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جب نئے لوگ یہاں آتے ہیں تو تالیوں اور گال پر بوسوں سے ان کا استقبال کیا جاتا ہے۔ یہاں پیش کیے جانے والے کلام میں جنگ، بہادری، دھوکے، فریب اور محبت کے قصے ہوتے ہیں۔ ان میں قصۂ پارینہ بھی ہوتا ہے جو ان کی تاریخ کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے ضامن ہیں۔

تاریخی کہانیوں اور اساطیر سے کردوں کے مختلف گروہ کے درمیان اتحاد قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پرانے کلام کے ساتھ لوگ اپنے تازہ کلام بھی پیش کرتے ہیں۔

حنیفی وارث کہتے ہیں کہ 'دینگبیز گیت مجھ میں جو جوش پیدا کرتے ہیں وہ دوسری کسی موسیقی سے پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اپنے والدین کو بہت ہی جذباتی انداز میں ان گیتوں کو گاتے ہوئے دیکھتا آیا ہوں۔'

کردستان کے دیہی علاقوں میں آج بھی دینگبیز کی روایت زندہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TERRY RICHARDSON

نیا چیلنج

اگرچہ دینگبیز کو اب قانونی حیثیت مل گئی ہے لیکن اس کے سامنے ٹی وی چینلوں کا نیا چیلنج ہے۔ لوگ شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔

ایسے ایک شخص باران سینٹن ہیں۔ وہ آرمینیا کی سرحد سے ملحق ایک پہاڑی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ 32 سالہ بران اب استنبول میں رہتے ہیں۔ یہاں تقریباً 30 لاکھ کرد ہیں۔

باران کے چچا دینگبیز فنکار ہیں۔ یہ فن انھوں نے اپنے والد سے حاصل کیا۔ باران کہتے ہیں کہ ان کی آواز اس فن کے لائق نہیں۔ ان کے خیال میں معمر لوگوں نے ہی اس روایت کو برقرار رکھا ہے۔

باران کہتے ہیں: 'جب میں دینگبیز سنتا ہوں تو اسی میں گم ہو جاتا ہوں۔ یہ زندگی کے ہر پہلو کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس میں امید اور خوشی کے ساتھ درد کا احساس بھی ہوتا ہے۔‘

درد کو ترکی زبان میں 'حزن' کہتے ہیں جو بظاہر عربی سے آیا ہے۔

نوبیل انعام یافتہ اورہان پاموک نے حزن کے بارے میں لکھا کہ یہ صرف درد نہیں ہے۔ یہ ملال بھی ہے کسی چیز کے گنوانے کا احساس بھی ہے۔

انھوں نے اپنی کتاب 'استنبول: میمریز اینڈ دی سٹی' میں لکھا ہے کہ 'حزن ایک قسم کی تڑپ کا احساس دلاتی ہے‘۔

مالا دینگبیز میں بیٹھ کر قصہ گوئی سننے میں وقت کا احساس ہی نہیں رہا۔ ہر فن کار نے نئے سفر کا نیا احساس دلایا۔ کرد تاریخ کی جھلکیاں پیش کیں۔

یوں تو ایک بھی لفظ میری فہم سے بالا تر تھا تاہم میں نے کہانیوں کے سمندر میں غوطے لگائے۔

کردوں کی حالیہ تاریخ تکلیف دہ تجربہ کہی جا سکتی ہے جس میں اورہان پامک کے حزن کے ساتھ امید بھی ہے۔ قصے کے ذریعے کرد کی تہذیب ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی اور زندہ رہے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں